وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ قومی پالیسی اگلے پانچ برسوں میں تجارت کو آزاد بنانے، برآمدات میں اضافے اور ملکی صنعت کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ایک مربوط روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔ آج(پیر)کو اسلام آباد میں نیشنل ٹیرف پالیسی پر عملدرآمد سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ قومی پالیسی اگلے پانچ برسوں میں تجارت کو آزاد بنانے، برآمدات میں اضافے اور ملکی صنعت کی مسابقتی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ایک مربوط روڈ میپ فراہم کرتی ہے۔
آج(پیر)کو اسلام آباد میں نیشنل ٹیرف پالیسی پر عملدرآمد سے متعلق اسٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے، انہوں نے پائیدار ٹیرف اصلاحات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل ٹیرف پالیسی پاکستان کی تجارتی پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر قائم کی گئی اس اسٹیئرنگ کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ پالیسی پر عملدرآمد، زرمبادلہ کے ذخائر کی صورتحال، اور صنعتی شعبے کی مرحلہ وار منتقلی کی مسلسل نگرانی کرے اور اس میں رہنمائی فراہم کرے۔
میٹنگ کے دوران، نیشنل ٹیرف کمیشن نے اپنی ذمہ داریوں، کارکردگی اور حالیہ اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی۔کمیشن نے مقامی صنعت کو غیر منصفانہ تجارتی رویوں جیسے ڈمپنگ، سبسڈی یافتہ درآمدات اور نقصان دہ درآمدی اضافے سے بچانے کے لیے ٹیرف کی معقول ساخت اور قانونی اقدامات پر روشنی ڈالی۔
شرکا کو ادارہ جاتی صلاحیت بڑھانے سے متعلق جاری اقدامات سے بھی آگاہ کیا گیا، جن میں تنظیمی اصلاحات، تکنیکی تربیت، اندرونی نظام کی خودکاری، برآمدکنندگان کے لیے سہولت مرکز کے قیام کی تجویز، اور قانونی و تجزیاتی صلاحیتوں میں بہتری کے اقدامات شامل ہیں۔
وزیرِ خزانہ نے نیشنل ٹیرف کمیشن کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے مقامی صنعت کے لیے مساوی مواقع فراہم کرنے پر توجہ مرکوز رکھنے کی ہدایت کی۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *