اسلام آباد – وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت اب بھی خلوص نیت اور سنجیدگی کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ موجودہ مسائل کا حل نکالا جا سکے۔ جمعرات کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر
اسلام آباد – وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت اب بھی خلوص نیت اور سنجیدگی کے ساتھ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے مذاکرات کے لیے تیار ہے تاکہ موجودہ مسائل کا حل نکالا جا سکے۔
جمعرات کو اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ حکومت نے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا، لیکن پی ٹی آئی مذاکراتی عمل سے راہ فرار اختیار کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مذاکرات کے لیے اسپیکر ایاز صادق کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، تاہم پی ٹی آئی نے 28 تاریخ کو ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کی اور یکطرفہ طور پر مذاکرات ختم کر دیے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ملک کسی بھی قسم کی بدامنی اور انتشار کا متحمل نہیں ہو سکتا، اور مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں جس کے ذریعے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قومی سلامتی
وزیر اعظم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے شہداء کی قربانیوں کا احترام کرتے ہیں اور پاکستان کو خوشحالی اور سلامتی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
انہوں نے پاکستان کی مسلح افواج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ قوم اور حکومت کی اجتماعی ذمہ داری ہے کہ وہ ان قربانیوں کی حرمت کو برقرار رکھیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی ترقی اور سلامتی کے وژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے معاشرے کے تمام طبقات کا پختہ عزم ضروری ہے۔
معاشی استحکام اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات
ملکی معیشت پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد کمی سے معاشی ترقی اور تجارتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
وزیر اعظم نے انسانی اسمگلنگ کے واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان واقعات کے نتیجے میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور عالمی سطح پر پاکستان کا وقار متاثر ہوا۔
انہوں نے بتایا کہ ان واقعات کی جامع تحقیقات جاری ہیں اور حکومت انسانی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے مؤثر اور سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔



















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *