728 x 90

وفاقی حکومت نے نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025-30 کا باقاعدہ اجرا کردیا

وفاقی حکومت نے نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025-30 کا باقاعدہ اجرا کردیا

وفاقی حکومت نے نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025-30 کا باقاعدہ اجرا کردیا ہے۔  اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں پالیسی کا آغاز کرتے ہوئے، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے پالیسی کو پاکستان کی صنعتی، ماحولیاتی اور توانائی اصلاحات کی جانب ایک تاریخی اور انقلابی قدم قرار دیا۔ انہوں

وفاقی حکومت نے نیشنل الیکٹرک وہیکل پالیسی 2025-30 کا باقاعدہ اجرا کردیا ہے۔

 اسلام آباد میں ایک نیوز کانفرنس میں پالیسی کا آغاز کرتے ہوئے، وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صنعت و پیداوار، ہارون اختر خان نے پالیسی کو پاکستان کی صنعتی، ماحولیاتی اور توانائی اصلاحات کی جانب ایک تاریخی اور انقلابی قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی وزیراعظم پاکستان کے وژن کے مطابق تیار کی گئی ہے جس کا مقصد صاف، پائیدار اور سستی ٹرانسپورٹ، ماحولیاتی تحفظ، اور مقامی صنعت کی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پالیسی کے بڑے اہداف میں سے 2030 تک 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک بنانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ سالانہ 2.07 ارب لیٹر ایندھن کی بچت ممکن، جس سے تقریبا 1 ارب امریکی ڈالر کا زرمبادلہ بچے گا۔ 4.5 ملین ٹن کاربن گیسوں کے اخراج میں کمی آئے گی،405 ملین ڈالر سالانہ صحت عامہ پر اخراجات میں کمی متوقع ہے۔ ہارون اختر نے اعلان کیا کہ مالی سال 2025-26 کے لیے 9 ارب روپے کی ابتدائی سبسڈی مختص کی گئی ہے جس کے تحت 116,053 الیکٹرک بائیکس اور3,171 الیکٹرک رکشوں کی فراہمی ممکن بنائی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ ایک مکمل ڈیجیٹل پلیٹ فارم بھی متعارف کرایا گیا ہے جس کے ذریعے سبسڈی کے لیے درخواست دینا اور رقم کا اجرا آن لائن طریقے سے ہوگا۔ پالیسی کے تحت موٹرویز پر 40 نئے الیکٹرک وہیکل چارجنگ اسٹیشنز نصب کیے جائیں گے، جن کے درمیان اوسط فاصلہ 105 کلومیٹر ہوگا۔ اس پالیسی میں بیٹری سویپنگ سسٹمز،گاڑی سے گرڈ (V2G) اسکیمیں اور نئے بلڈنگ کوڈز میں EV چارجنگ پوائنٹس کی شمولیت لازمی قرار دی جائے گی جو شہری علاقوں میں ای وی کے استعمال کو فروغ دیں گے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ پالیسی کے تحت مقامی مینوفیکچررز کو مراعات دی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال،2 اور 3 وہیلرز میں 90 فیصد پرزے پہلے ہی مقامی سطح پر تیار ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے اداروں (SMEs) کے لیے خصوصی پیکیجز متعارف کرائے جائیں گے۔ ہارون اختر نے کہا کہ پاکستان کو اس پالیسی کو خوش دلی سے اپنانا چاہیے کیونکہ یہ معیشت، ماحول اور صنعت، تینوں شعبوں کے لیے ایک گیم چینجر ہے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos