وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026 اور مصنوعی ذہانت (AI) پالیسی 2025 کی منظوری دے دی۔یہ منظوری وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی گئی، جو وزیرِاعظم شہباز شریف کی صدارت میں آج (بدھ) اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حجاج کرام کو بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے
وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026 اور مصنوعی ذہانت (AI) پالیسی 2025 کی منظوری دے دی۔یہ منظوری وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی گئی، جو وزیرِاعظم شہباز شریف کی صدارت میں آج (بدھ) اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ حجاج کرام کو بہترین سہولیات کی فراہمی کیلئے آئندہ برس حج آپریشن کی مکمل ڈیجیٹائیزیشن خوش آئند ہے. انہوں نے حجاج کرام کو ہر قسم کی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔وزیراعظم نے وزارت مذہبی امور کو حج پالیسی پر عملدرآمد یقینی بنانے کا حکم دیا۔
اجلاس کو حج پالیسی 2026 کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی. بریفنگ میں بتایا گیا کہ آئندہ برس پاکستان کا مجموعی ملکی حج کوٹا 70 فیصد حکومتی اور 30 فیصد نجی کوٹے کے تناسب سے تقسیم کیا جائے گا، گزشتہ برس نجی شعبے کی غفلت کی وجہ سے حج سے محروم رہ جانے والے افراد کا حج نجی کمپنیاں2026 میں یقینی بنائیں گی۔ نئی پالیسی کے تحت سرکاری اسکیم و نجی کمپنیوں کے تحت حج آپریشن کی تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن یقینی بنائی جائے گی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ پالیسی میں حج کے دوران حاجیوں کی سہولیات کے ساتھ ساتھ انہیں انکی رقوم کے متوازی سروسز فراہم کرنا شامل ہے۔ پالیسی میں آئندہ برس ایک ہزار نشستیں ہارڈ شپ کیسز کے تحت مختص کی گئی ہیں۔ پالیسی کے تحت کسے بھی نجی کمپنی کے لیے حاجیوں کی کم از کم تعداد 2 ہزار رکھی گئی ہے۔ نجی کمپنیوں کی حج آپریشن کے دوران کڑی نگرانی کی جائے گی۔ پالیسی کے اطلاق کے بعد نجی کمپنیوں کے تحت درخواست گزاروں کی رقوم و پراسیس کی ریئیل ٹائم مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے گی۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ حج 2026 کیلئے گزشتہ برس کی طرح معاونین کا انتخاب شفاف انداز سے ٹیسٹ کے ذریعے ہوگا۔ حجاج کیلئے موبائل سمز، ڈیجیٹل رسٹ بینڈز، بہترین رہائش و طعام اور کسی بھی ہنگامی و حادثاتی صورتحال کے نتیجے میں معاوضے کو یقینی بنایا جائے گا۔ ادائیگیوں، تربیت، شکایات و دیگر سروسز کیلئے پاک حج موبائل ایپلی کیشن کو مزید بہتر اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
وفاقی کابینہ نے حج پالیسی 2026 کی متفقہ طور پر منظوری دے دی. کابینہ ارکان نے تمام متعلقہ وزارتوں و اداروں سمیت پالیسی کی تشکیل میں کردار ادا کرنے والے افسران و اہلکاروں کی کوششوں کو سراہا. وزیرِ اعظم نے وزیرِ انفارمیشن ٹیکنالوجی کو وزارت مذہبی امور کے ساتھ مل کر حج آپریشن کی مکمل ڈیجیٹائیزیشن کو یقینی بنانے کی بھی ہدایت کی۔
کابینہ نے پاکستان کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے، عام آدمی کی آرٹیفیشل انٹیلی جینس ٹیکنالوجی تک رسائی، ملک میں مکمل اے آئی ایکوسسٹم کے قیام اور اس حوالے سے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کی منظوری بھی دی۔ وزیراعظم نے اس حوالے سے کہا کہ پاکستان کی نوجوان افرادی قوت ملک کا سب سے قیمتی اثاثہ ہیں، نوجوانوں کو اے آئی کے میدان میں ضروری تعلیم و تربیت اور یکسان ترقی کے مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت ایف بی آر اصلاحات میں اے آئی کے ذریعے پہلے سے ہی ملکی آمدن میں اضافے اور نظام کی بہتری پر کام کر رہی ہے۔ ملکی ترقی کے لیے اے آئی سے استفادہ حاصل کرنے کے حوالے سے بروقت پالیسی سازی کیلئے وزارت آئی ٹی اور متعلقہ اداروں کے اقدامات لائق تحسین ہیں۔
وفاقی کابینہ کو نیشنل اے آئی پالیسی 2025 کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس کو 2030 تک دنیا بھر میں اے آئی کے ذریعے آنے والے ممکنہ انقلاب اور عالمی معیشت پر اسکے مالی اثرات کے تخمینے سے آگاہ کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل اے آئی پالیسی پاکستان میں پبلک سروز کی بہتری، پیداور بشمول زرعی شعبے کی پیداوار، معاشی شمولیت، ہنر و تربیت اور روزگار کی فراہمی میں بھرپور معاونت فراہم کرے گی۔
کابینہ نے نجکاری سے متعلق کابینہ کمیٹی کے 8 جولائی 2025 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔ اجلاس میں قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے 17 جولائی 2025 کو منعقدہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی گئی جبکہ کابینہ نے قانون سازی سے متعلق کابینہ کمیٹی کے 25 جولائی 2025 کو منعقدہ اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی بھی توثیق کی۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *