اسلام آباد میں دو روزہ “مسلم کمیونٹیز میں لڑکیوں کی تعلیم: چیلنجز اور مواقع” کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکمت عملی
اسلام آباد میں دو روزہ “مسلم کمیونٹیز میں لڑکیوں کی تعلیم: چیلنجز اور مواقع” کے عنوان سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے اختتامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حکمت عملی مشترکہ اقدامات، وسائل کی ترقی، اور کمیونٹی کی شمولیت پر مشتمل ہونی چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسکولوں کی بنیادی سہولیات سے آراستہ تعمیر اور کمیونٹی میں آگاہی پیدا کرکے ثقافتی رکاوٹوں کو ختم کرنا تعلیم کی قدر و اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے ضروری ہے۔
چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ محروم طبقے کی لڑکیوں کے لیے اسکالرشپ انہیں تعلیمی میدان میں آگے بڑھنے کے لیے مالی تعاون فراہم کرے گی۔
یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ پاکستان کا سینیٹ لڑکیوں کی تعلیم کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے بہتر قوانین، مضبوط نگرانی، اور اساتذہ و بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کی حمایت کرے گا۔
رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل کا اتحاد پر زور
رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل محمد بن عبد الکریم العیسی نے اس موقع پر کہا کہ تمام مکاتب فکر کے مسلم علما لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت پر متفق ہیں اور اس حوالے سے پائے جانے والے غلط تصورات کو رد کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اسلام آباد اعلامیہ کو قابل عمل، پائیدار اور ایک بین الاقوامی چارٹر بنانے کے لیے پرعزم ہیں۔
وفاقی وزیر تعلیم کا عزم
وفاقی وزیر برائے تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان ہر بچے کو معیاری تعلیم کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ لڑکیوں کی تعلیم نہ صرف اخلاقی بلکہ اقتصادی طور پر بھی ضروری ہے۔
نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی کی عالمی برادری سے اپیل
نوبل امن انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے لڑکیوں کی تعلیم کے عالمی بحران سے نمٹنے کے لیے عالمی برادری سے اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم یافتہ خواتین ایک خوشحال معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
ملالہ یوسفزئی نے غزہ میں اسرائیل کے تعلیمی نظام کو تباہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیا، جہاں نوے فیصد اسکول تباہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی بچوں نے اپنی زندگیاں اور مستقبل کھو دیا ہے۔
افغانستان کی لڑکیوں کے حوالے سے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ملالہ نے کہا کہ ملک کی پالیسیوں کا اسلام کی تعلیمات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغان خواتین اور لڑکیوں کو اپنے مستقبل کی تشکیل کی آزادی ملنی چاہیے اور مسلم رہنماؤں کو ان کے حقوق کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔
اختتامی تقریب میں بین الاقوامی شراکت داری کے معاہدے
تقریب کا اختتام لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لیے بین الاقوامی شراکت داری کے متعدد معاہدوں کے ساتھ ہوا۔



















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *