ڈپٹی کمشنر علی اکبر بھنڈر کی زیر صدارت گندم کی نئی خریدداری پالیسی سے متعلقہ میٹنگ کا انعقاد ہوا۔کاشتکاروں کی تنظیموں کے نمائندگان اور فلور ملز کے مالکان/نمائندوں ،آڑھتی حضرات اور کاشتکاران نے بھی شرکت کی۔ ڈاکٹر خالد اقبال ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع جھنگ نے میٹنگ کے اغراض و مقاصد کے بارے میں بتایا کہ
ڈپٹی کمشنر علی اکبر بھنڈر کی زیر صدارت گندم کی نئی خریدداری پالیسی سے متعلقہ میٹنگ کا انعقاد ہوا۔کاشتکاروں کی تنظیموں کے نمائندگان اور فلور ملز کے مالکان/نمائندوں ،آڑھتی حضرات اور کاشتکاران نے بھی شرکت کی۔ ڈاکٹر خالد اقبال ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت توسیع جھنگ نے میٹنگ کے اغراض و مقاصد کے بارے میں بتایا کہ سیکرٹری زراعت پنجاب کی خصوصی ہدایت پر آج اس میٹنگ کا انعقاد کیا گیا تاکہ تمام سٹیک ہولڈرز کو گندم کی خریداری پالیسی کے بارے میں آگاہی فراہم کی جائے اور اس کو کامیاب بنانے کے لیے تمام لوگ اپنا اپنا کردار ادا کریں۔انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں جاری خریداری سسٹم ختم کر کے موجودہ خریداری نظام متعارف کروایا گیا ہےجس کے تحت گندم اوپن مارکیٹ میں فروخت ہوگی اور محکمہ خوراک ماضی کی طرز پر گندم کی خریداری نہیں کرے گا۔ ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر نے خریدداری پالیسی اور اس کے تحت کسانوں کی سہولت کے لیے گندم کی سٹوریج/الیکٹرونک ویئر ہاؤس ، رسیٹ اور ای ڈبلیو سسٹم کے حوالے سے بتایا۔اس سسٹم کے تحت کسانوں کو گندم کے لئے محکمہ خوراک کے گوداموں میں سٹوریج کی سہولت فراہم کی جائے کے اور چار ماہ تک اس مد میں اخراجات حکومت پنجاب برداشت کرے گی۔ کاشتکار سٹور /گودام میں رکھوائی گئی گندم کی قیمت کا 70 فیصد کریڈٹ وصول کر سکے گا اور کاشتکار پر کسی قسم کا کوئی انٹرسٹ لاگو نہ ہوگا اور سٹوریج کے تمام اخراجات حکومت پنجاب برداشت کرے گی، اس طرح کسان اپنی گندم کم داموں بیچنے سے بچ جائے گا، اور اپنی گندم کی اچھی قیمت حاصل کر پائے گا۔زمینداروں کے نمائندگان نے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا، اور گندم کی کم قیمت پر خریداری پر اپنے تحفظات بیان کیے۔ڈپٹی کمشنر نے میٹنگ میں موجود تمام شرکاء کو آگاہ کیا کہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف نے گندم کے پیکج کے تحت فی ایکڑ 5000 روپے.ڈائریکٹ فنانشل سپورٹ بذریعہ کسان کارڈ دینے کا فیصلہ کیا ھے۔انہوں نے مزید کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز موجودہ خریداری نظام کو سمجھ کر اس کی کامیابی میں اپنا اپنا کردار ادا کریں تا کہ کسان اپنی فصل کا بہتر معاوضہ لے سکیں۔



















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *