خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار، ہاؤسنگ اور زراعت کا فروغ حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، وزیراعظموزیراعظم فیول ریلیف اسکیم کے تحت 27 ارب روپے کا ریلیف فراہم کر چکے ہیں، عطاء اللہ تارڑبھارت میں صحافت کو پابندیوں اور سنسرشپ کا سامناافغانستان پرقابض طالبان رجیم اپنے مذموم مفادات کیلئے اسلام کی گمراہ کن تشریح کررہی ہےچین کی علاقائی امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کاوشوں کی تعریفوزیراعظم کا پاک چین تعلقات کے فروغ کے لیے مسلسل سیاسی روابط کی اہمیت پر زورجھنگ پولیس کے 49 کانسٹیبلز ہیڈ کانسٹیبل کے عہدے پر ترقی پا گئے، ڈی پی او ساجد حسین اور ایس پی انویسٹی گیشن رحمان قادر نے پروموشن بیجز لگائے، ترقیاں میرٹ اور بہترین کارکردگی کی بنیاد پر دی گئیںڈپٹی کمشنر جھنگ کیپٹن (ر) عبدالرحمٰن کی ڈی سی آفس کے اہلکاروں کو عوامی خدمت میں بہتری کی ہدایت، شہریوں کو غیر ضروری دفتری چکروں سے نجات دلانے پر زور
جھنگ

ہیڈ تریموں پر پانی کی سطح میں کمی شروع، تین روزہ سیلابی ریلے سے متعدد دیہات متاثر، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو بدستور الرٹ

جھنگ میں دریائے چناب کے ہیڈ تریموں پر تین روز تک جاری رہنے والے سیلابی ریلے کے بعد پانی کی سطح میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہیڈ…

ہیڈ تریموں پر پانی کی سطح میں کمی شروع، تین روزہ سیلابی ریلے سے متعدد دیہات متاثر، ضلعی انتظامیہ اور ریسکیو بدستور الرٹ

جھنگ میں دریائے چناب کے ہیڈ تریموں پر تین روز تک جاری رہنے والے سیلابی ریلے کے بعد پانی کی سطح میں کمی آنا شروع ہوگئی ہے۔ تازہ اعداد و شمار کے مطابق ہیڈ تریموں پر اس وقت پانی کی آمد 1 لاکھ 49 ہزار 284 کیوسک جبکہ اخراج 1 لاکھ 41 ہزار 184 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے سیلابی صورتحال میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔

گزشتہ تین روز کے دوران آنے والے سیلابی ریلے سے ہیڈ تریموں کے نشیبی علاقوں کے متعدد دیہات متاثر ہوئے، جہاں زیرِ آب آنے والی سبزیوں اور مویشیوں کے چارے کی فصلوں کو شدید نقصان پہنچا۔ کئی علاقوں میں پانی اب بھی موجود ہونے کے باعث شہریوں کو آمد و رفت میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ بعض دیہی رابطہ سڑکیں بھی متاثر ہیں۔

ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے متاثرہ علاقوں کے قریب 13 فلڈ ریلیف کیمپ قائم کیے، جہاں متاثرہ افراد کو بنیادی سہولیات، خوراک، پینے کا صاف پانی اور طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ ضلعی فلڈ کنٹرول روم بھی چوبیس گھنٹے فعال ہے اور دریائے چناب میں پانی کی صورتحال سمیت امدادی سرگرمیوں کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

دوسری جانب ریسکیو 1122 نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھتے ہوئے متعدد شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔ ریسکیو ٹیمیں کشتیوں اور دیگر ضروری آلات کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں موجود رہیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ہائی الرٹ رہیں۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اگرچہ پانی کی سطح میں کمی کا رجحان سامنے آیا ہے، تاہم متعلقہ محکمے مکمل طور پر الرٹ ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ دریا اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے قریب غیر ضروری آمد و رفت سے گریز کریں، انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال کی صورت میں فوری طور پر متعلقہ اداروں سے رابطہ کریں۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں