728 x 90

جھنگ کی کیٹل مارکیٹ میں مبینہ طور پرسنگین بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کا انکشاف

جھنگ کی کیٹل مارکیٹ میں مبینہ طور پرسنگین بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کا انکشاف

(وحید اختر چوہدری سے)جھنگ کی کیٹل مارکیٹ میں مبنیہ طور پر سنگین بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔ بااثر ٹھیکیدار سرکاری فیس شیڈول کے برعکس مبینہ طورکئی گنا زیادہ جگہ ٹیکس وصول کر رہا ہے۔ بیوپاریوں سے زبردستی اور دیدہ دلیری کے ساتھ اضافی فیس وصولی روز کا معمول بن چکی ہے۔

(وحید اختر چوہدری سے)جھنگ کی کیٹل مارکیٹ میں مبنیہ طور پر سنگین بدعنوانیوں اور بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

بااثر ٹھیکیدار سرکاری فیس شیڈول کے برعکس مبینہ طورکئی گنا زیادہ جگہ ٹیکس وصول کر رہا ہے۔

بیوپاریوں سے زبردستی اور دیدہ دلیری کے ساتھ اضافی فیس وصولی روز کا معمول بن چکی ہے۔

متعدد اداروں کے اہلکار بھی مبینہ طور پر نذرانے لے کر خصوصی ڈیوٹیاں حاصل کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں۔

ڈسٹرکٹ کونسل اور سیٹلائٹ ٹاؤن پولیس کی موجودگی میں اضافی فیس وصولی سوالیہ نشان بن گئی ہے۔

سرکاری بورڈ کے مطابق فی جانور فیس 500 روپے مقرر ہے۔

میڈیا سروے میں بیوپاریوں نے فی جانور 2500 سے 3000 روپے وصولی کی تصدیق کی۔

نوزائیدہ جانوروں سے بھی مکمل فیس وصول کی جا رہی ہے۔

کھرلی کی فیس پہلے 300 روپے تھی، اب فی جانور 1000 روپے وصول ہو رہی ہے۔

شہ زور ڈالا کی پرالی کے نام پر 6000 روپے لئے جاتے ہیں ۔

بیوپاری پرالی خود لاتے ہیں، پھر بھی اضافی رقم وصول کی جاتی ہے۔

پارکنگ اسٹینڈ پر موٹر سائیکل فیس 50 سے بڑھا کر 70 روپے کر دی گئی ہے۔

شہریوں کی متعدد شکایات کے باوجود صورتحال میں کوئی بہتری نہیں آئی۔

کیٹل مارکیٹ مانیٹرنگ کمیٹی کی کارکردگی پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔

اس حوالے مقامی بیوپاریوں کا کہنا کہ حکومت کی جانب سے بنائی گئی یہ مویشی منڈی سہولیات کے اعتبار سے مثالی ہے لیکن یہاں کی موجودہ انتظامیہ کے اس مبینہ منفی رویئے کے باعث حکومت کی اچھے اقدامات کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے لہذا انہوں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے ان مسائل کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos