ریسکیو کنٹرول روم جھنگ کو مورخہ 20 جون بروز ہفتہ صبح 11 بج کر 59 منٹ پر ایک ایمرجنسی کال موصول ہوئی، جس میں کالر نے اطلاع دی کہ ماری والا پتن، چھتہ بخشا، سرگودھا روڈ جھنگ کے مقام پر ایک خاتون نے گھریلو پریشانی کے باعث اپنی تین کمسن بیٹیوں سمیت دریائے جہلم میں
ریسکیو کنٹرول روم جھنگ کو مورخہ 20 جون بروز ہفتہ صبح 11 بج کر 59 منٹ پر ایک ایمرجنسی کال موصول ہوئی، جس میں کالر نے اطلاع دی کہ ماری والا پتن، چھتہ بخشا، سرگودھا روڈ جھنگ کے مقام پر ایک خاتون نے گھریلو پریشانی کے باعث اپنی تین کمسن بیٹیوں سمیت دریائے جہلم میں چھلانگ لگا دی ہے۔
مقامی افراد نے فوری کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو ڈوبنے سے بچا لیا، تاہم تین معصوم بچیاں دریا کے تیز بہاؤ میں بہہ کر لاپتہ ہو گئیں۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو کنٹرول روم جھنگ نے فوری طور پر واٹر سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کو جائے حادثہ کی جانب روانہ کیا۔
موقع پر پہنچنے کے بعد ریسکیو ٹیم نے عینی شاہدین سے معلومات حاصل کیں اور سرچ آپریشن کی مؤثر نگرانی کے لیے انسیڈنٹ کمانڈ پوسٹ قائم کی۔ بعد ازاں دریائے جہلم میں باقاعدہ سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا، جس میں جدید طریقہ کار کے تحت بوٹ سرچ، لائن سرچ اور اسکوبا ڈائیونگ جیسی تکنیکیں استعمال کی گئیں۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات پر سونار ڈیوائس کی مدد سے بھی تلاش کا عمل جاری رکھا گیا، جبکہ متعلقہ علاقے کی کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیم (CERT) کو بھی متحرک کیا گیا۔
ریسکیو 1122 کی واٹر سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم نے مسلسل پانچ روز تک سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران تقریباً 40 کلومیٹر کے وسیع دریائی علاقے میں تلاش کی گئی۔ تمام تر کوششوں کے باوجود تاحال لاپتہ بچیوں میں سے کسی کا سراغ نہیں مل سکا، جس کے بعد سرچ آپریشن کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا ہے۔
متعلقہ علاقے کی CERT ٹیم کو مسلسل نگرانی کے لیے فعال رکھا گیا ہے تاکہ اگر دریا میں کسی بھی مقام پر کوئی لاش نظر آئے تو فوری طور پر ریسکیو کی ہیلپ لائن 1122 پر اطلاع دی جا سکے اور بروقت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
اس پورے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کی نگرانی ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر جھنگ سلطان محمود صاحب نے کی، جبکہ ریسکیو ٹیموں نے پیشہ ورانہ مہارت، جدید آلات اور مسلسل جدوجہد کے ساتھ متاثرہ خاندان کی مدد کے لیے اپنی خدمات انجام دیں۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *