تھانہ موچی والا کے علاقے چک نمبر 442 ج ب میں ایک ماہ قبل ہونے والی قتل کی واردات کے مقدمہ کے مدعی محمد رمضان نے پولیس پر نامزد ملزمان کے ساتھ مبینہ سازباز اور انہیں گرفتار کرنے کے بجائے مبینہ طور پر پروٹوکول دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ مدعی اور اس کے اہل
تھانہ موچی والا کے علاقے چک نمبر 442 ج ب میں ایک ماہ قبل ہونے والی قتل کی واردات کے مقدمہ کے مدعی محمد رمضان نے پولیس پر نامزد ملزمان کے ساتھ مبینہ سازباز اور انہیں گرفتار کرنے کے بجائے مبینہ طور پر پروٹوکول دینے کا الزام عائد کیا ہے۔ مدعی اور اس کے اہل خانہ نے مقدمے کی تفتیش کسی ایماندار افسر سے کرانے اور ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
آج پریس کلب جھنگ میں پریس کانفرنس اور احتجاجی مظاہرے کے دوران محمد رمضان اور دیگر اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ معمولی رنجش پر ملزمان نے مبینہ طور پر ان کے والد کو بے دردی سے قتل جبکہ بھائی کو زخمی کیا۔ ان کے مطابق واقعے کا مقدمہ چھ نامزد اور ایک نامعلوم ملزم کے خلاف درج کیا گیا، جبکہ پولیس نے موقع واردات سے مبینہ طور پر شواہد بھی اکٹھے کیے۔
مقدمہ کے مدعی کے مطابق پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے چار نامزد ملزمان کو گرفتار کرلیا، تاہم ان کا الزام ہے کہ دیگر دو نامزد ملزمان کو گرفتار کرنے کے بجائے مبینہ طور پر انہیں تھانے میں پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ محمد رمضان نے دعویٰ کیا کہ ایک نامزد ملزم رفیع اللہ کی عبوری ضمانت عدالت سے خارج ہونے کے باوجود پولیس مبینہ طور پر اسے گرفتار کرنے سے گریزاں ہے۔
محمد رمضان اور ان کے اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ پولیس کی جانب سے مبینہ غفلت اور جانبداری کے باعث انہیں انصاف کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تھانہ موچی والا کے ایس ایچ او کو فوری طور پر تبدیل کیا جائے اور قتل کے مقدمے کی تفتیش کسی غیر جانب دار اور ایماندار پولیس افسر کے سپرد کی جائے۔
مظاہرین نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز، آئی جی پنجاب راؤ عبدالکریم اور ڈی پی او جھنگ ساجد حسین سے اپیل کی کہ معاملے کا نوٹس لے کر مقدمے کی شفاف تحقیقات اور تمام نامزد ملزمان کی گرفتاری کو یقینی بنایا جائے۔
دوسری جانب پولیس کا مؤقف اس حوالے سے سامنے نہیں آسکا۔ مدعی کی جانب سے عائد کیے گئے سازباز، مبینہ پروٹوکول اور گرفتاری سے گریز کے الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوسکی، اس لیے ان الزامات کو فی الحال مبینہ قرار دیا جا رہا ہے۔ معاملے کے حقائق پولیس تحقیقات اور قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد ہی واضح ہوں گے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *