کم عمری کی شادی کے معیشت پر اثرات
گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا نے بہت تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے۔ صحت تعلیم سمیت دیگر کئی مسائل پر بہت پیش رفت ہوئی ہے ۔ نوازئید بچوں کی اموات ، ماں اور بچے…

گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا نے بہت تیزی کے ساتھ ترقی کی ہے۔ صحت تعلیم سمیت دیگر کئی مسائل پر بہت پیش رفت ہوئی ہے ۔ نوازئید بچوں کی اموات ، ماں اور بچے کی صحت کے حوالے سے بھی مسائل پر قابو پانے کی کوشش کی جارہی ہے اور دنیا کے کئی ممالک اپنے معاشی استحکام کے لئے بہتر منصوبہ بندی کررہے ہیں ۔ ان تمام کے باوجود کچھ مسائل ایسے ہیں جو موجود ہیں اور ان پر کام کرنے کی ضرورت ہے ان میں ایک کم عمری کی شادی بھی ہیں۔
عام طور پر یہ خیال کی جاتا ہے کہ کم عمری کی شادی ایک سماجی مسئلہ ہے لیکن مختلف عالمی اداروں کی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ کم عمری کی شادی کے معشیت پر بھی اثرات ہوتے ہیں۔یہاں پر ہم ان عالمی اداروں کی رپورٹس کو سامنے رکھتے ہوئے اس امر کا جائزہ لینگے کہ کم عمری کی شادی کس طرح پاکستان اور عالمی معیشت کو متاثر کرررہی ہے ۔یہ یقینی طور پر یہ ایک اہم اور پیچیدہ معاملہ ہے لیکن اسے کسی طور بھی نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔
کم عمری کی شادی لڑکی سے محفوظ اور صحت مند بچپن، معیاری اور مکمل تعلیم کا حق چھین لیتی ہے جو معقول معاشی مواقع اور سماجی اور سیاسی بااختیار بنانے کا باعث بن سکتی ہے۔ پاکستان دنیا میں 18 سال کی عمر سے پہلے لڑکیوں کی شادی کرنے والے ممالک میں چھٹے نمبر پر ہے۔ پاکستان میں تقریباً 18 فیصد لڑکیوں کی شادی 18 سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے کر دی جاتی ہے۔ کم عمری کی شادی کئی وجوہات ہوتی ہے جن میں گہری جڑی ہوئی روایات، رسوم، غربت، بیداری یا تعلیم تک رسائی کی کمی، اور تحفظ کا فقدان شامل ہیں۔
کم عمری کی شادی کے اثرات عام طور پر صحت اور غذائیت، زرخیزی اور آبادی میں اضافہ، بچوں کی اموات، تعلیمی حصول، مزدور قوت میں شرکت، خواتین کی صنفی بنیاد پر تشدد سے منسلک ہوتے ہیں۔ صحت اور انسانی حقوق پر مبنی زاویے اکثر بچپن کی شادی کے خاتمے کی وکالت(ایڈووکسی) کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن اکثر اس بات کو نظرانداز کیا جاتا ہے کہ کم عمری کی شادی بھی کسی قوم کی اقتصادی ترقی پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ایک تحقیق کے مطابق 2014 اور 2030 کے درمیان کم عمری کی شادی کے مجموعی اخراجات عالمی سطح پر 5 ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہونے کے قوی امکانات ہیں
ورلڈ بینک کی 2017 میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق 2030 تک ترقی پذیر ممالک کو کم عمری کی شادی پر کھربوں ڈالر کا نقصان ہوگا۔
کم عمری کی شادی کی لاگت اور معیشت پر اس کے منفی اثرات کا پتہ لگانے کے لیے، 2021 میں اقوام متحدہ کی خواتین کی تنطیم یواین وویمن نے نیشنل کمیشن آن دی اسٹیٹیس آف دی وویمن پاکستان کے ساتھ کاسٹنگ اسٹڈی آن چائلڈ میرج ان پاکستان کے عنوان سے اس ایک اہم تحقیق کی ۔ چائلڈ میرج پر لاگت کا یہ مطالعہ تمام چاروں صوبوں سے 26 تصادفی طور پر منتخب اضلاع سے کم عمری کی شادی کے بالواسطہ اور بلاواسطہ اخراجات کے پاکستانی تناظر میں بہت اہم معلومات فراہم کرتا ہے۔اس تحقیق کا مقصد پاکستان میں بچوں کی شادی کے واقعات، سماجی و اقتصادی اثرات اور اس سے منسلک اخراجات کے شواہد میں موجود خلا کو دور کرنے کے لیےشواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے بچوں کی شادی کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر پالیسی بحث اور قانونی اصلاحات سے آگاہ کرنا اوربچپن کی شادی کے مسئلے پر ایک وسیع تر سماجی و سیاسی اور اصولی گفتگو کا آغازکرناتھا۔
معاشی ماڈلنگ اور شماریاتی حسابات کی بنیاد پر، اس مطالعے میں اندازہ لگایا گیا کہ 2019-2020 کے درمیان، ملک میں کم عمری کی شادی کے مجموعی واقعات کی وجہ سے پاکستانی معیشت کو 0.8 بلین ڈالر یعنی کل جی ڈی پی کا 0.42 فیصد کا نقصان ہوا۔ یہ تجزیہ فیصلہ سازوں، قانون سازوں اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کو پاکستان میں کم عمری کی شادی سے متعلق اصولوں اور تاثرات کے ساتھ ساتھ بچوں کی شادی سے منسلک اخراجات سے آگاہ کرنے کے لیے ایک مضبوط ثبوت کی بنیاد فراہم کرنا تھا جو کہ قومی سطح پر اس کے مضر اثرات کو ثابت کرتے ہیں۔ 2017میں ورلڈ بینک اور انٹرنیشنل سینٹر فار ریسرچ آن ویمن چائلڈ میرج کے معاشی اثرات کے عنوان سے کم عمری کی شادی کی معاشی لاگت پر پہلی عالمی تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ انسانی حقوق کی اس خلاف ورزی کا قومی معیشتوں پر بھی بڑا منفی اثر پڑتا ہے۔ یہ تحقیق ظاہر کرتی ہے کہ کم عمر ماؤں سے پید اہونے والے بچوں سے زرخیزی اور آبادی میں اضافے، تعلیم، کمائی اور صحت سے متعلق معشیت پرمنفی اثرات ہوسکتے ہیں
اس تحقیق میں روشنی ڈالی گئی ہے کہ کم عمری کی شادی کے خاتمے کے لیے سرمایہ کاری سے ممالک کو متعدد ترقیاتی اہداف حاصل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
جون 2017 میں واشگٹن میں اس تحقیق کے بارے میں گرلز ناٹ برائڈز کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر لکشمی سندرم نے بتایا کہ”یہ تحقیق اہم ثبوت فراہم کرتی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کم عمری کی شادی صرف 15 ملین لڑکیوں کی زندگیوں کو متاثر نہیں کرتی بلکہ ہر سال ان ممالک کی معاشی ترقی پر بھی بڑے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جن میں یہ لڑکیاں رہتی ہیں۔ حکومتوں اور دیگر پالیسی سازوں کو اس تحقیق سے حوصلہ افزائی کرنی چاہیے کہ وہ 2030 تک کم عمری کی شادیوں کو ختم کرنے کے لیے اضافی توانائی اور وسائل کا ارتکاب کریں۔ کم عمری کی شادی سے چھٹکارا حاصل کر کے، ہم غربت کے خاتمے میں دنیا کی مدد کر سکتے ہیں اور اس بات کو یقینی بنا سکتے ہیں کہ ہر جگہ لڑکیوں ایک کوروشن مستقبل تک رسائی حاصل ہو ۔2107میں مکمل ہونے والے اس تین سالہ تحقیقی منصوبے میں 15 سے 25 ممالک کے (اس وقت دستیاب)موجودہ ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا اور ان عوامل پر غور کیا گیا جن میں بچپن کی شادی گھریلو اور قومی سطح پر معاشی اور سماجی نتائج کو متاثر کر سکتی ہے۔ ۔
تعلیم
لڑکیوں کی تعلیم کے فروغ کے لئے کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نہ صرف لڑکیوں کو کم عمری کی شادی سے بچایا جا سکے بلکہ انہیں مزید بااختیار زندگی گزارنے کے لیے وسائل بھی فراہم کیے جا سکیں۔ بچپن میں شادی کرنے والی لڑکیوں کے ثانوی تعلیم مکمل کرنے کا امکان کم ہوتا ہے۔ 18سال کی عمر سے پہلے شادی کرنے والی لڑکیوں کے سیکنڈری اسکول کی تکمیل کے امکانات دیگر لڑکیوں سے چار سے چھ فیصد تک کم ہو جاتے ہیں۔ اسکول کی تعلیم جاری رکھنے سے بچوں کی شادی کو کم کرنے میں بھی مدد ملتی ہے – ہر سال سیکنڈری اسکول کی تعلیم لڑکیوں کے لیے بچپن کی شادی کے خطرے کوچار سے چھ فیصد تک کم کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، لڑکی کی جتنی زیادہ تعلیم ہوگی، اس کے بچوں کے تعلیم یافتہ ہونے کا امکان اتنا ہی زیادہ ہوگا اور تعلیم یافتہ افراد ملک کی ترقی میں ایک ان پڑھ شخص سے بہتر کردار ادا کرسکتے ہیں۔
زرخیزی
رپورٹ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ بچپن کی شادی اور کم عمری میں بچے پیدا کرنے کے اہم مضمرات ہیں۔ 18 سال سے پہلے شادی شدہ خواتین کے زیادہ بچے پیدا ہونے کا امکان ہے، جس سے ان کی اپنی صحت اور بہبود کے ساتھ ساتھ ان کے خاندانوں پر بھی اثر پڑتا ہے۔ ایک گھر میں زیادہ بچے کھانے، تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے ادائیگی کرنے کی صلاحیت کو کم کر دیتے ہیں۔ قومی سطح پر، کم عمری کی شادی زرخیزی میں اضافہ کرکے آبادی میں اضافے میں معاون ہے۔ رپورٹ میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ 13 سال کی عمر میں شادی کرنے والی لڑکی کی زندگی بھر میں اوسطاً 26 فیصد زیادہ بچے ہوں گے اس کے مقابلے میں اگر اس نے 18 سال یا اس کے بعد شادی کی ہو۔ تحقیق میں بتایا گیا کہ کم عمری کی شادی کو ختم کرنے سے شرح پیدائش میں کمی آئے گی، پیداواری صلاحیت میں اضافہ ہوگا اور ممالک اقتصادی ترقی اور آبادی کے بدلتے ہوئے عمر کے ڈھانچے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، جسے اکثر ‘ڈیموگرافک ڈیویڈنڈ’ کہا جاتا ہے۔
بچے کی صحت اور غذائیت
اٹھارہ سال سے کم عمر کی ماؤں کے ہاں پیدا ہونے والے بچوں میں بچوں کی بیماری اور موت کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔ ان بچوں میں اپنی پانچویں سالگرہ سے پہلے مرنے کا خطرہ اوسطاً 3.5 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، اور سٹنٹنگ کا خطرہ 6.3 فیصد بڑھ جاتا ہے۔ پانچ سال سے کم عمر کی اموات اور سٹنٹنگ کے خاتمے کے سالانہ تخمینہ شدہ معاشی فوائد 2030 تک 98 بلین امریکی ڈالر سالانہ کے قریب ہوں گے۔ کم عمری کی شادی کو ختم کرنے کا اثر کم عمری میں بچوں کی پیدائش کو کم کرنے اور بچوں کی اموات کو کم کرنے پر پڑے گا۔
آمدنی اور پیداوری
کم عمری کی شادی کو خواتین کی ممکنہ کمائی اور پیداواری صلاحیت پر کافی اثر انداز ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بچپن کی شادی تعلیم کے حصول کو روکتی ہے جس کے نتیجے میں جوانی میں خواتین کی متوقع کمائی کم ہوجاتی ہے۔ یہ گھر کے اندر ان کے اثر و رسوخ کی کمی کا سبب بن سکتا ہے اور ان کی سودے بازی کی طاقت کو بھی محدود کر سکتا ہے۔ کم عمری کی شادی کو ختم کرنے سے، ممالک اپنی قومی آمدنی میں اوسطاً 1% اضافہ کر سکتے ہیں۔
یہ تحقیق حقائق سے قریب تر ہے کیونک ہم ہر روز بچپن کی شادی کے تباہ کن اثرات دیکھتے ہیں۔ اس نقصان دہ عمل کے بارے میں عوامی بیداری بڑھانے اور اس پر بات کرنے کی ضرورت ہے ۔ ورلڈ بینک / آئی سی آر ڈبلیو کے مطالعہ سےحاصل شدہ شواہد کو قطعی طور پر نظرانداز نہیں کیا جاسکتا بلکہ اس تحقیق کو سامنے رکھتے ہوئے اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ موجودہ معاشی مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے اس اہم مسئلے پر آگاہی اور کا م کرنے کی اشد ضرورت ہے ،عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کم عمری کی شادی صرف ایک سماجی مسئلہ لیکن یہ معشیت پر اثر انداز ہوتی اس انتہائی اہم پہلو پر ہمیں بہت ہی کم بات ہوتی ہوئی نظر آتی ہے اور اس اہم مسئلہ کو مسلسل نظر انداز کرنا نہیں چاہئے حکومتوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کم عمری کی شادی میں کمی کے لئے اقدامات کرنا بہت اہم ہے ۔


