کیا ڈیجٹل دنیا میں انسانی حقوق کی تعریف میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے؟
اقوام متحدہ کا 1948 کا عالمی انسانی حقوق کا اعلامیہ ایک تاریخی دستاویز ہے جس نے انسانی حقوق کے اصولوں کو بنیاد فراہم کی۔ تاہم، جدید ڈیجیٹل دور کے چیلنجز، جیسے کہ ڈیٹا پرائیویسی،…

اقوام متحدہ کا 1948 کا عالمی انسانی حقوق کا اعلامیہ ایک تاریخی دستاویز ہے جس نے انسانی حقوق کے اصولوں کو بنیاد فراہم کی۔ تاہم، جدید ڈیجیٹل دور کے چیلنجز، جیسے کہ ڈیٹا پرائیویسی، سائبر سیکیورٹی، اور آن لائن حقوق کی خلاف ورزیوں نے اس اعلامیہ کے مؤثر عمل درآمد میں مشکلات پیدا کی ہیں۔ اس جدید انقلاب نے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں اضآفہ کیا ہے۔ بایوٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے ترقی نے نئے اخلاقی مسائل پیدا کیے ہیں، جیسے جینیاتی ترمیم اور خودکار جنگی نظام، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتے ہیں۔ اب یہ دیکھنےکی ضرورت ہے کہ دنیا کو ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو مد نظر رکھتے ہوئے اسانی حقوق کے قوانین کا جائزہ لیا جائے یا ان میں ترمیم کی ضرورت ہے اور دنیا نے اس پر کس حدتک پیش رفت کی ہے۔
انسانی حقوق کے جدید دور کے مطابق تبدیلیوں سے قبل ہمیں دنیا میں صنعتی انقلاب اور انسانی حقوق کی تاریخ پر نظر ڈالنا ہوگئی۔ صنعتی انقلاب اور انسانی حقوق کی تعریفیں مختلف تناظر میں اہم ہیں اور دونوں کا انسانی ترقی اور سماجی انصاف پر گہرا اثر ہے۔ انسانی حقوق اور صنعتی انقلاب دونوں نے دنیا کو بنیادی طور پر تبدیل کیا ہے، جہاں ایک طرف صنعتی انقلاب سے معاشرتی اور اقتصادی تبدیلیاں آئیں وہیں انسانی حقوق نے ان تبدیلیوں کے دوران افراد کی حفاظت اور انصاف کی ضمانت دی۔
صنعتی انقلاب کا پس منظر
صنعتی انقلاب ایک تاریخی دور کو ظاہر کرتا ہے جس میں ٹیکنالوجی، معیشت، اور سماج میں بنیادی تبدیلیاں آئیں۔ دنیا تین صنعتی انقلابات کے بعد اب چوتھے صنعتی انقلاب میں داخل ہوچکی ہے۔توپہلے ہم صنعتی انقلاب کی تاریخ کا مختصر جائزہ لیتے ہیں
پہلا صنعتی انقلاب (18ویں صدی کے آخر تا 19ویں صدی کے آغاز)
اس دور میں مشینوں، جیسے کہ اسپننگ جن اور اسٹیم انجن، کی ایجاد ہوئی۔ صنعتوں کا آغاز ہوا، اور زراعت سے صنعت کی طرف منتقلی کی گئی۔ اس دور میں بڑے پیمانے پر پیداوار، شہریوں کی منتقلی، اور نئے اقتصادی ماڈلز نے معیشت کو بدل دیا۔ لیکن اس دوران، محنت کشوں کے سخت حالات، بچوں کا کام، اور کم اجرت کے مسائل بھی ابھرے۔
دوسرا صنعتی انقلاب (19ویں صدی کے آخر تا 20ویں صدی کے آغاز)
دوسرے صنعتی انقلاب میں بجلی، ٹیلیگراف، اور جدید اسٹیل سازی جیسی صنعتوں کا آغاز ہوا ۔ ماس پروڈکشن اور ٹیکنالوجی کے انقلاب نے صنعت کی ترقی کو تیز کیا۔روزگار کی مزید اقسام، بڑے پیمانے پر شہری ترقی، اور معیشت کی عالمی سطح پر توسیع دیکھنے کو ملی۔
تیسرا صنعتی انقلاب (20ویں صدی کا وسط تا اکیس ویں صدی کے آغاز تک)
کمپیوٹر، ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز، اور خودکاری نے اس دور کو متعین کیا۔ آئی ٹی اور انٹرنیٹ کی ترقی نے پیداوار اور کاروباری ماڈلز میں تبدیلی کی۔دنیا بھر میں معلومات اور رابطے کی رسائی نے معیشت کو عالمی سطح پر مربوط کیا۔ لیکن اس دور میں بھی ڈیجیٹل تفریق، ملازمتوں کی تبدیلی، اور سیکیورٹی کے مسائل ابھرے۔
چوتھا صنعتی انقلاب (اکیسویں صدی)
ڈیجیٹل، بایوٹیکنالوجی، اور ایڈوانسڈ آٹومیشن کا استعمال اور مصنوعی ذہانت کا آستعمال اس دور کی خصوصیات ہیں۔ یہ انقلاب انسانیت کو نئی ٹیکنالوجیز اور صنعتوں کی طرف لے جا رہا ہے۔اس انقلاب نے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں میں نمایاں تبدیلیاں کیں معیشت اور سماج کو دوبارہ تشکیل دیا ہے۔
انسانی حقوق کی تعریف
وہ بنیادی حقوق اور آزادیوں کا مجموعہ ہیں جو ہر انسان کو ان کی انسانی حیثیت کی بنا پر ملتے ہیں، بغض نظر اس کے کہ وہ کس قوم، نسل، مذہب، یا سماجی حالت سے تعلق رکھتا ہے۔ ان حقوق کا مقصد انسانی وقار، مساوات، اور انصاف کو یقینی بنانا ہے۔ہر فرد کو ان کی انسانی حیثیت کے تحت بنیادی حقوق حاصل ہوتے ہیں، جیسے کہ زندگی کا حق، آزادی، اور ذاتی تحفظ، آانسانی حقوق آزادی، برابری، اور غیر امتیاز پر مبنی ہوتے ہیں۔ یہ آزادی اظہار، آزادی اجتماع، اور آزادی مذہب جیسے حقوق کو شامل کرتے ہیں۔یہ حقوق معیشتی، سماجی، اور ثقافتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ہیں، جیسے کہ تعلیم، صحت، اور مناسب زندگی کا معیار۔انسانی حقوق کے تحت ہر فرد کو قانونی تحفظ حاصل ہوتا ہے، جیسے کہ انصاف کی فراہمی، قید و بند کے حالات کا جائزہ، اور غیر قانونی گرفتاری سے تحفظ۔۔
انسانی حقوق کا تاریخی پس منظر
بنیادی انسانی حقوق کی ترقی کی ابتدا 539 قبل مسیح میں ہوئی جب کورشِ(سائرس) اعظم نے بابل کو فتح کیا اور غلاموں کو آزاد کیا۔ اس کے بعد 1215 میں میگنا کارٹا، 1689 میں انگریزی بل آف رائٹس، اور 1789 میں فرانس کے اعلامیہ حقوقِ انسان و شہری جیسے اہم اقدامات نے انسانی حقوق کے اصولوں کو مستحکم کیا۔ 1948 میں عالمی انسانی حقوق کا اعلامیہ اور 1966 میں انسانی حقوق کے دو عالمی معاہدے، یعنی سول اور سیاسی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے اور اقتصادی، سماجی اور ثقافتی حقوق کے بین الاقوامی معاہدے، نے ان اصولوں کو عالمی سطح پر تسلیم کروایا لیکن کچھ ماہرین کے مطابق ان میں تاخیر کی گئی۔
اسٹارٹ اپ سنٹرل یوریشیا میں چیف اینالیٹکس آفیسر، انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے ماہر تجزیہ کارمیکسم بوریانوف ورلڈ اکنامک فورم میں شائع ہونے والے ایک آرٹیکل میں لکھتے ہیں کہ یہمعاہدے دو عالمی جنگوں کے بعد اپنائے گئے تھے اور یہ عالمی اقدار کی وضاحت اور قانونی حیثیت فراہم کرنے میں تاخیر سے کیا گیا فیصلہ تھے۔ جب ڈیکلریشن اور معاہدوں کے مسودے تیار کیے گئے، دنیا صرف دوسری صنعتی انقلاب سے تیسری صنعتی انقلاب کی طرف منتقل ہونا شروع ہوئی تھی۔ 20 ویں صدی کے آغاز میں دوسرا انقلاب، نئی کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز اور اسمبلی لائنز جیسے انوکھے اختراعات کا ایک دھماکہ تھا جو بڑے پیمانے پر پیداوار اور معیاری بنانے میں مددگار ثابت ہوئے۔ ، 20ویں صدی کے آخر میں آنے والے تیسرا انقلاب نے دنیا کو، کمپیوٹرز اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کی ترقی سے متحرک کیا۔ انسانی حقوق کی تعریف کرنے والی دستاویزات ان ادوار میں اس وقت استعمال ہونے والی ٹیکنالوجیز سے جڑی ہوئی تھیں۔ وہ انقلابی اور ضروری تو تھیں، لیکن وہ ایک سادہ سوال کا جواب نہیں دیتیں جو آج بہت زیادہ پریشان کن ہوتا جا رہا ہے کہ ‘جدید دنیا میں انسان ہونے کا کیا مطلب ہے؟’
آج، نئی ٹیکنالوجیز جسمانی، ڈیجیٹل اور حیاتیاتی دنیاوں کو ملا رہی ہیں۔ یہ چوتھا انقلاب تمام شعبوں، ممالک اور سیکٹرز کو متاثر کر رہا ہے۔ خود چلنے والی گاڑیاں، ذہین روبوٹ، جین ایڈیٹنگ اور آرٹیفیشل انٹیلجنس جیسے انوکھے اختراعات ہمیں اس بات پر غور کرنے پر مجبور کر رہے ہیں کہ جب ہم انسانی خصوصیات جیسے ذہانت یا انفرادیت کے بارے میں بات کرتے ہیں تو ہمارا مطلب کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہماری عالمی انحصاریت بھی تنگ ہو رہی ہے۔
ہمیں ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ریاستوں کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی ذمہ داریوں کی مکمل طور پر تجدید کرنا ہوگی، اور معاشرتی سیاست اور قانونی عالمی عمل کی تاخیر کو ختم کرنا ہوگا۔
ڈیجیٹل دور اور آرٹیفیشل انٹیلجنس نے نئے مسائل اور چیلنجز کو جنم دیا ہے، جن میں ذاتی ڈیٹا کی حفاظت، نجی معلومات کا تحفظ، اور نئی ٹیکنالوجیز کے ذریعے نگرانی اور کنٹرول شامل ہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے فروغ نے ذاتی معلومات کے تحفظ، آن لائن آزادی،سوشل میڈیا اور بائیو ٹیکنالوجی ڈیجیٹل انصاف، سائبر کرائم اور آن لائن تشدد،ڈیجٹیل ہراسمنٹ، ،آزادی اظہار رائے اور معلومات تک رسائی، مصنوعی ذہانت اور اخلاقیات، کے مسائل کو اجاگر کیا ہے اس کے علاوہ ڈیجٹل تفریق یعنی انٹرنیٹ اور جدید ٹیکنالوجیز تک رسائی میں فرق، ایک بڑا انسانی حقوق کا مسئلہ بن گیا ہے۔ دیہی علاقوں، غریب طبقات، اور ترقی پذیر ممالک میں ڈیجیٹل وسائل کی کمی لوگوں کی تعلیم، ملازمت کے مواقع، اور سماجی شرکت پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔
ڈیجیٹل دورنے انسانی حقوق کے تحفظ کی ضرورت کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ عالمی قوانین، بشمول 1948 کا عالمی اعلامیہ حقوقِ انسان اور 1966 کے بین الاقوامی معاہدے، انسانی حقوق کے تحفظ کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ لیکن ڈیجیٹل دور کی حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، ان قوانین کی تجدید یا ان میں تبدیلی کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ 2018 میں اقوام متحدہ کی رپورٹ نے ڈیجیٹل دور میں انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے نئے اصول تجویز کیے، جن میں ذاتی ڈیٹا کی حفاظت، آن لائن آزادی اور ڈیجیٹل اسٹرکچر میں شفافیت شامل ہیں۔اس حوالے سے یورپی یونین کا 2018 میں آنے والا جنرل ڈیٹا پروٹیکشن ریگولیشن (جھی ڈی پی آر)، کیلیفورنیا کنزیومر پرائیویسی ایکٹ، بھارت کی ڈیجیٹل پرائیویسی جیسے قوانین بھی لائے گئے ۔اس کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں بھی ڈیجٹیل حقوق کے تحفظ کے لئے قانون سازی کی گئی جن میں برازیل کا جنرل ڈیٹا پروٹیکشن لاء،سنگا پور کا پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ بہترین قوانین ہیں ۔
پاکستن کے تناظر
آئین پاکستان کے آرٹیکل 8 سے 28 تک انسانی حقوق کے تناظر میں ہیں جو بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ فراہم کرتے ہیں اور ان آرٹیکلز کو مد نظر رکھتے ہوئے معلومات تک رسائی، خواتین، لیبر،بچوں ،اقلیتوں وغیرہ کے حوالے سے ہر صوبے میں الگ سے قانون سازی بھی کی گئی ہے۔ دوسری جانب ڈیجٹیل حقوق کے تحظ کے لئے اگر چہ کچھ قوانین جیسے کہ 2016 میں الیکٹرانک جرائم کی روک تھام ایکٹ (پیکا) یہ فی الحال بنیادی قانون سازی ہے جو مختلف قسم کے الیکٹرانک جرائم کے سلسلے میں ایک قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے اور ذاتی ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی تک بھی توسیع کرتا ہے جبکہ 2023 میں پرسنل ڈیٹا پروٹیکشن ایکٹ کا مسودہ تیار کیا جاچکا ہے لیکن ابھی تک اس مکمل قانون کی شکل نہیں دی گئی ۔ دستیاب قوانین میں بہتری کی بہت زیادہ گنجائش موجود ہے اس کے علاوہ ان کے اطلاق اور استمعال میں بھی بہتر انداز میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔
ان تمام قوانین کے باوجود دنیا کے انٹرنیٹ کے ساتھ جڑے ہونے کے باعث ایک مشترکہ لائحہ عمل کی ضرورت ہے کیونکہ چوتھی صنعتی ترقی کے اس دور میں دنیا بہت تیزی کے ساتھ تبدیل ہورہی ہے۔ڈیجیٹل اور مصنوعی ذہانت کی ترقی نے انسانی حقوق کے مختلف پہلوؤں پر اثر ڈالا ہے، اور اس کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے معاشرتی انصاف کو یقینی بنانا ضروری ہے۔
جہاں پرڈیجیٹل ٹیکنالوجیز انسانی حقوق کی وکالت، دفاع اور ان پر عمل کرنے کے نئے ذرائع فراہم کرتی ہیں وہیں پر شہری اور سیاسی، نیز ثقافتی، اقتصادی، سماجی حقوق کو متاثر کرتی ہیں۔ اس تمام جدت نے معلومات تک رسائی اس کا اشتراک اور عوامی رائے بنانے، بحث کی نئی راہیں پید ا کیں ہیں، اور دنیا کو متحرک کیا ہے – لیکن اس کے ساتھ ہی وہ حقوق کو دبانے، محدود کرنے اور ان کی خلاف ورزی کرنے کے لیے یکساں طور پر استعمال ہوتے ہیں، مثال کے طور پر نگرانی، سنسرشپ، آن لائن ہراساں کرنے، الگورتھمک تعصب اور خودکار فیصلہ سازی کے نظام کے ذریعے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا غلط استعمال بھی غیر متناسب طور پر پسماندہ افراد اور گروہوں کو متاثر کرتا ہے، جس سے آن لائن اور آف لائن دونوں طرح سے عدم مساوات اور امتیازی سلوک ہوتا ہے۔
عالمی ڈیجیٹل قوانین اور ضوابط کا مقصد عالمی سطح پر انسانی حقوق کی حفاظت کرنا ہے اور یہ اقوام متحدہ کے 1948 کے انسانی حقوق کے اعلامیہ کے اصولوں کے مطابق مرتب کیے گئے ہیں تاہم ان قوانین کا نفاذ مختلف ممالک اور خطوں میں مختلف ہوتا ہے اور انہیں مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے لیے بین الاقوامی تعاون، قانونی ہم آہنگی، اور عوامی آگاہی کی ضرورت ہے۔ عالمی سطح پر انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے، تمام ممالک کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ ڈیجیٹل دور میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مؤثر تدارک کیا جا سکے۔
جہاں پرڈیجیٹل ٹیکنالوجیز انسانی حقوق کی وکالت، دفاع اور ان پر عمل کرنے کے نئے ذرائع فراہم کرتی ہیں وہیں پر شہری اور سیاسی، نیز ثقافتی، اقتصادی، سماجی حقوق کو متاثر کرتی ہیں۔ اس تمام جدت نے معلومات تک رسائی اس کا اشتراک اور عوامی رائے بنانے، بحث کی نئی راہیں پید ا کیں ہیں، اور دنیا کو متحرک کیا ہے – لیکن اس کے ساتھ ہی وہ حقوق کو دبانے، محدود کرنے اور ان کی خلاف ورزی کرنے کے لیے یکساں طور پر استعمال ہوتے ہیں، مثال کے طور پر نگرانی، سنسرشپ، آن لائن ہراساں کرنے، الگورتھمک تعصب اور خودکار فیصلہ سازی کے نظام کے ذریعے۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کا غلط استعمال بھی غیر متناسب طور پر پسماندہ افراد اور گروہوں کو متاثر کرتا ہے، جس سے آن لائن اور آف لائن دونوں طرح سے عدم مساوات اور امتیازی سلوک ہوتا ہے۔


