خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
جھنگ میں یوتھ کلائمیٹ کانفرنس، 100 سے زائد طلبہ کی شرکت، دریائے چناب میں سیلاب، شدید گرمی، فضائی آلودگی اور کسانوں کے مسائل پر گفتگو، سفارشات نیشنل یوتھ اسٹیٹمنٹ 2026 میں شامل کی جائیں گینائب وزیراعظم کا برآمدات بڑھانے کے لیے مربوط حکومتی تعاون کے عزم کا اعادہحکومت کا ایس ایم ایز کی برآمدی مالی معاونت تک رسائی بہتر بنانے کے عزم کا اعادہسہ ملکی کرکٹ سیریز: انگلینڈ نے سری لنکا کو 55 رنز سے ہرا دیانگہداشت اور معاونت کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہےمودی حکومت کی ناقص قانون سازی کے باعث بھارت عالمی سطح پر جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا گڑھ گیاسینیٹ میں آبادی میں تیزی سے اضافے پر قابو پانے سے متعلق قرارداد منظوروزیرِ اعظم نے لاہور اور کراچی ہوائی اڈوں کی ماسٹر پلان کے تحت توسیع کی منظوری دے دی
انسانی حقوق

بلوچستان میں 2023 کے دوران سکیورٹی کے مسائل، انسانی حقوق کی پامالیاں اور سیاسی بدنظمی عروج پر رہی ایچ آر سی پی

جبری گمشدگیوں کے کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کے چیئر پرسن اسد اقبال کی جانب سے جاری کیئے جانے والے ایک پریس ریلیز میں…

بلوچستان میں 2023 کے دوران سکیورٹی کے مسائل، انسانی حقوق کی پامالیاں اور سیاسی بدنظمی عروج پر رہی ایچ آر سی پی

جبری گمشدگیوں کے کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کے چیئر پرسن اسد اقبال کی جانب سے جاری کیئے جانے والے ایک پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کی سالانہ رپورٹ ” پاکستان میں انسانی حقوق کی صورتحال 2023″ نے بلوچستان میں بڑھتے ہوئے عدم استحکام اور امن و امان کی بگڑتی صورتحال کی نشاندہی کی ہے۔صوبے میں صرف 2023 میں عسکریت پسندوں کی جانب سے 110 حملوں کی اطلاعات موصول ہوئیں۔ مارچ 2023 میں بولان میں ایک پولیس قافلے پر خودکش حملے میں نو پولیس اہلکار جاں بحق ہو ئے، جبکہ ستمبر میں مستونگ میں ایک مسجد کے قریب خودکش حملے میں عام شہریوں سمیت 50 سے زائد افراد ہلاک ہو ئے۔ نومبر میں تربت میں نامعلوم افراد نے چھ پنجابی مزدوروں کو گولی مار کر قتل کردیا۔

پچھلے سالوں کی طرح، بلوچستان میں جبری گمشدگیوں اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات تشویش کا باعث رہے اور ان واقعات میں مجرموں کو سزا نہ ملنا اور حکومتی بے حسی کا عنصر نمایاں رہا۔ نومبر 2023 میں، نوجوان بلوچ حقوق کے کارکنوں نے ایک بلوچ نوجوان کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف تربت سے اسلام آباد تک مارچ کیا۔ مارچ کے شرکاء کو ہراساں کیا گیا اور پولیس نے پرتشدد کارروائیوں کے ذریعے ان کے پرامن اجتماع کے حق کو پامال کیا۔ گوادر میں “حق دو تحریک” ریاست کی جانب سے جبری گمشدگیوں سمیت حقوق کی خلاف ورزیوں اور سیکیورٹی کے غیر معمولی اقدامات کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتی رہی۔

اظہار رائے کی آزادی محدود رہی اور صحافی سیکیورٹی فورسز، علیحدگی پسند گروہوں اور قبائلی رہنماؤں سمیت مختلف عناصر کی جانب سے انتقامی کارروائیوں کے خوف کے باعث پریس پر پابندیوں کے بارے میں بات کرنے سے ہچکچاتے رہے۔

صوبے میں قانون کی حکمرانی کمزور رہی۔ قومی سطح پر غم و غصے کا باعث بننے والے ایک واقعے میں، صوبائی قانون ساز سردار عبدالرحمان کھیتران پر لوگوں کو نجی جیلوں میں زیرِ حراست رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک ملازم کے خاندان کے افراد، جو ان کی خواہشات کو پورا کرنے میں ناکام رہے تھے، کے ساتھ جنسی زیادتی اور انہیں قتل کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

فوجی اسٹیبلشمنٹ کا غلبہ اگست 2023 میں انوار الحق کاکڑ کے بطور نگراں وزیر اعظم تقرر کی شکل میں دیکھا گیا۔ کئی سیاسی تجزیہ کاروں نے اس اقدام کو اسٹیبلشمنٹ کی حمایت یافتہ بلوچستان عوامی پارٹی میں ان کی سابقہ پوزیشن سے منسوب کیا۔ مقامی حکومت کی متنازع حلقہ بندیوں کے نتیجے میں کوئٹہ میں انتخابات روک دیے گئے جبکہ بجٹ کی کمی نے حکومتوں کے کام کرنے کی استعداد کو متاثر کیا۔

بلوچستان کی کانوں میں متعدد حادثات پیش آئے: 2023 کے دوران صوبے میں کم از کم 36 کان کن ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔ تاہم، ایک مثبت پیش رفت یہ تھی کہ بلوچستان حکومت نے صوبے کی ماہی گیر برادری کو مزدوروں کا درجہ دینے کا فیصلہ کیا۔

خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات سال بھر رپورٹ ہوتے رہے۔ ایک واقعے میں، ڈیرہ مراد جمالی میں ایک شخص نے شادی کے رشتے سے انکار کرنے پر اپنی نو عمر بیٹی کو قتل کر دیا، جبکہ ایک اور واقعے میں چاغی میں ایک مقامی جرگے نے ایک مرد کے ساتھ ‘ناجائز’ تعلقات کے الزام میں ایک نوعمر لڑکی کو سزائے موت سنائی۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں