جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن شہباز احمد گجر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ملک بھر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ نے شہریوں، تاجروں اور صنعتکاروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں بڑھتا ہوا گردشی قرضہ حکومتی پالیسیوں پر ایک بڑا
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن شہباز احمد گجر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ ملک بھر میں بجلی کی بڑھتی ہوئی لوڈشیڈنگ نے شہریوں، تاجروں اور صنعتکاروں کو شدید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ توانائی کے شعبے میں بڑھتا ہوا گردشی قرضہ حکومتی پالیسیوں پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
جے یو آئی کے مقامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے شہباز احمد گجر ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس وقت بجلی کے شعبے کا مجموعی گردشی قرضہ 1857 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، لیکن اس کے باوجود حکومت توانائی کے شعبے میں دیرپا اور مؤثر اصلاحات متعارف کرانے سے گریز کر رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکمران طبقہ اب تک اپنے وعدوں کے مطابق ملکی آزاد بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں (آئی پی پیز) کے ساتھ کیے گئے مہنگے ترین معاہدوں پر نظرثانی کیوں نہیں کر سکا۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ پندرہ برسوں کے دوران حکمرانوں نے ملکی اور غیر ملکی آئی پی پیز کو تقریباً 27 ارب ڈالر کمانے کا موقع فراہم کیا، جبکہ اس کا تمام تر مالی بوجھ عوام پر ڈال دیا گیا۔ ان کے مطابق مہنگی بجلی اور مسلسل لوڈشیڈنگ نے عام آدمی کی زندگی اجیرن بنا دی ہے اور کاروباری سرگرمیاں بھی بری طرح متاثر ہو رہی ہیں۔
شہباز احمد گجر ایڈووکیٹ نے مزید کہا کہ جمعیت علمائے اسلام عوامی مسائل کے حل اور ملکی حالات پر قوم کو اعتماد میں لینے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔ انہوں نے بتایا کہ جے یو آئی 11 جولائی کو قصور میں ایک بڑا عوامی جلسہ منعقد کر رہی ہے، جس سے جماعت کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن خطاب کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس جلسے میں مولانا فضل الرحمٰن ملک کی موجودہ معاشی، سیاسی اور بین الاقوامی صورتحال پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے اور آئندہ کے سیاسی لائحہ عمل کا بھی اعلان کریں گے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *