خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
جھنگ میں یوتھ کلائمیٹ کانفرنس، 100 سے زائد طلبہ کی شرکت، دریائے چناب میں سیلاب، شدید گرمی، فضائی آلودگی اور کسانوں کے مسائل پر گفتگو، سفارشات نیشنل یوتھ اسٹیٹمنٹ 2026 میں شامل کی جائیں گینائب وزیراعظم کا برآمدات بڑھانے کے لیے مربوط حکومتی تعاون کے عزم کا اعادہحکومت کا ایس ایم ایز کی برآمدی مالی معاونت تک رسائی بہتر بنانے کے عزم کا اعادہسہ ملکی کرکٹ سیریز: انگلینڈ نے سری لنکا کو 55 رنز سے ہرا دیانگہداشت اور معاونت کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہےمودی حکومت کی ناقص قانون سازی کے باعث بھارت عالمی سطح پر جرائم پیشہ نیٹ ورکس کا گڑھ گیاسینیٹ میں آبادی میں تیزی سے اضافے پر قابو پانے سے متعلق قرارداد منظوروزیرِ اعظم نے لاہور اور کراچی ہوائی اڈوں کی ماسٹر پلان کے تحت توسیع کی منظوری دے دی
انسانی حقوق

جبری گمشدگیوں کے عالمی دن کے موقع ایچ آر سی پی کی جانب سے 8 نکاتی منشور پیس کر دیا گیا

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) ریاست سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں کی ظالمانہ سرگرمی کے خاتمے کو یقینی بنائے، یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ یہ بین الاقوامی…

جبری گمشدگیوں کے عالمی دن کے موقع ایچ آر سی پی کی جانب سے 8 نکاتی منشور پیس کر دیا گیا

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) ریاست سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جبری گمشدگیوں کی ظالمانہ سرگرمی کے خاتمے کو یقینی بنائے، یہ تسلیم کرتے ہوئے کہ یہ بین الاقوامی قانون کے تحت انسانیت کے خلاف جرم ہے۔

ہم وفاقی حکومت سے مندرجہ ذیل مطالبات کرتے ہیں

1 جبری طور پر لاپتا کیے گئے تمام افراد کی فوری اور بحفاظت بازیابی کو یقینی بنایا جائے اور انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے۔ جن افراد پر کسی جرم کا الزام ہے، ان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے اور ان کے منصفانہ ٹرائل اور معین قانونی ضابطے کے تحت سلوک کے حق کو برقرار رکھا جائے۔

2 جبری گمشدگیوں کے خلاف ترجیحی بنیادوں پر قانون سازی کی جائے اور اسے جرم قرار دیا جائے۔

3 جبری گمشدگیوں سے تحفظ سے متعلق بین الاقوامی کنونشن کی توثیق کی جائے اور اس پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔

4 جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور جبری طور پر لاپتا کیے گئے افراد پر حراستی تشدد میں ملوث تمام افراد اور اداروں کو جوابدہ بنایا جائے۔

5 جبری گمشدگیوں سے متعلق تحقیقات کمیشن کے نئے چیئرمین کا تقرر کیا جائے اور کمیشن کی اس طرح سے تشکیل نو کی جائے کہ وہ متاثرہ خاندانوں کی ضروریات کو مؤثر طریقے سے پورا کر سکے۔

6 متاثرین اور ان کے خاندانوں کو ان کے آزادی اور معین قانونی ضابطے کے تحت سلوک کے حق کی خلاف ورزیوں کا معاوضہ فراہم کرنے کے لیے ، بشمول ان خواتین کو جو جبری گمشدگی کی وجہ سے اپنے واحد کفیل کو کھوچکی ہیں، ایک شفاف طریقہ کار تشکیل دیا جائے اور اس پر عملدرآمد کیا جائے۔

7 اقوام متحدہ کے جبری یا غیر اختیاری گمشدگیوں سے متعلق ورکنگ گروپ کو پاکستان کا سرکاری دورہ کرنے کی دعوت دی جائے اور اسے اپنی رپورٹ پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

8 متاثرہ خاندانوں کو اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی کے حق کو بلا رکاوٹ اور محفوظ طریقے سے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں