جھنگ کے اہم بازاروں میں تجاوزات کی شکایات، شہریوں کا پیدل گزرگاہیں بحال کرانے کا مطالبہ
جھنگ: (وحید اختر چوہدری سے) شہر کے مختلف اہم بازاروں اور مارکیٹوں میں مبینہ تجاوزات کے باعث شہریوں کو آمدورفت اور خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں اور عوامی حلقوں کے مطابق ریل…

جھنگ: (وحید اختر چوہدری سے) شہر کے مختلف اہم بازاروں اور مارکیٹوں میں مبینہ تجاوزات کے باعث شہریوں کو آمدورفت اور خریداری میں مشکلات کا سامنا ہے۔ شہریوں اور عوامی حلقوں کے مطابق ریل بازار، مین بازار، شہید روڈ، انارکلی بازار، کھیتیاں والا بازار، جھنگ بازار، چوک بازار، لوہاراں بازار اور کوٹ روڈ سمیت مختلف علاقوں میں بعض دکانداروں کی جانب سے دکانوں کے باہر سامان رکھنے اور گزرگاہوں میں عارضی سٹال لگانے کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ بعض مقامات پر تجاوزات کے باعث پیدل چلنے والوں کے لیے مختص جگہ محدود ہوگئی ہے، جبکہ بازاروں میں رش کے اوقات کے دوران آمدورفت مزید متاثر ہوتی ہے۔ بالخصوص خواتین، بزرگوں اور دیگر پیدل خریداروں کو بعض گزرگاہوں سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
عوامی حلقوں کے مطابق چوڑے ریل بازار، تنگ ریل بازار، انارکلی بازار، کھیتیاں دا بازار، دجی روڈ، چوک بازار اور کوٹ روڈ سمیت دیگر علاقوں میں بھی تجاوزات سے متعلق شکایات موجود ہیں۔ شہریوں نے ضلع کے دیگر علاقوں، جن میں شورکوٹ، احمدپور سیال اور 18 ہزاری شامل ہیں، میں بھی تجاوزات کے مسئلے کا جائزہ لینے کا مطالبہ کیا ہے۔
مقامی شہریوں کی جانب سے بعض مقامات پر سرکاری نالوں اور گزرگاہوں کے اوپر تھڑے یا دیگر تعمیرات قائم ہونے اور ان جگہوں کے تجارتی استعمال سے متعلق بھی شکایات سامنے آئی ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کو موقع پر صورتحال کا جائزہ لے کر یہ تعین کرنا چاہیے کہ کون سی تعمیرات یا تجاوزات قانونی اجازت کے بغیر قائم ہیں اور ان کے خلاف ضابطے کے مطابق کارروائی کی جائے۔
شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جھنگ، متعلقہ انفورسمنٹ حکام اور پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) کے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کے بازاروں کا سروے کرکے تجاوزات کی نشاندہی کی جائے، سرکاری گزرگاہوں اور فٹ پاتھوں کو واگزار کرایا جائے اور کارروائی کے بعد دوبارہ تجاوزات قائم ہونے کی روک تھام کے لیے مؤثر نگرانی کا نظام وضع کیا جائے۔
دوسری جانب تجاوزات کے حوالے سے متعلقہ اداروں کا مؤقف سامنے آنے پر اسے بھی خبر کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ معاملے کے تمام پہلوؤں کو متوازن انداز میں پیش کیا جاسکے۔


