خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
جھنگ: موچیوالا کے چک نمبر 441 میں مبینہ فائرنگ کی ویڈیو پر ڈی پی او ساجد حسین کا نوٹس، پولیس نے 6 ملزمان حراست میں لے لیے، دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاریجھنگ: ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) عبدالرحمن کا ضلعی محکموں کے اجلاس اور شہر کے مختلف علاقوں کے اچانک دوروں میں ترقیاتی منصوبوں، صفائی آپریشن، سیوریج اور ہسپتال کی سہولیات کا جائزہ، بروقت تکمیل اور عوامی خدمات بہتر بنانے کی ہدایتجھنگ: ڈی پی او ساجد حسین کی زیرِ صدارت ٹریفک پولیس اجلاس، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے، حادثات کی روک تھام اور کرپشن میں ملوث اہلکاروں کے سخت احتساب کی ہدایتجھنگ میں یوتھ کلائمیٹ کانفرنس، 100 سے زائد طلبہ کی شرکت، دریائے چناب میں سیلاب، شدید گرمی، فضائی آلودگی اور کسانوں کے مسائل پر گفتگو، سفارشات نیشنل یوتھ اسٹیٹمنٹ 2026 میں شامل کی جائیں گینائب وزیراعظم کا برآمدات بڑھانے کے لیے مربوط حکومتی تعاون کے عزم کا اعادہحکومت کا ایس ایم ایز کی برآمدی مالی معاونت تک رسائی بہتر بنانے کے عزم کا اعادہسہ ملکی کرکٹ سیریز: انگلینڈ نے سری لنکا کو 55 رنز سے ہرا دیانگہداشت اور معاونت کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے
انسانی حقوق

سندھ میں ہندو برادری کی نقل مکانی پر ایچ آر سی پی کی رپورٹ کا اجراء

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ، “ہجرت: کیا ہندو برادری سندھ چھوڑ رہی ہے؟” ظاہر کرتی ہے کہ ریاست ایک کمزور اقلیت کے تحفظ میں ناکام رہی…

سندھ میں ہندو برادری کی نقل مکانی پر ایچ آر سی پی کی رپورٹ کا اجراء

پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (ایچ آر سی پی) کی فیکٹ فائنڈنگ رپورٹ، “ہجرت: کیا ہندو برادری سندھ چھوڑ رہی ہے؟” ظاہر کرتی ہے کہ ریاست ایک کمزور اقلیت کے تحفظ میں ناکام رہی ہے۔ کئی ہندو خاندان نہ صرف مذہبی بنیادوں پر ہونے والے تشدد بلکہ معاشی مشکلات اور موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہجرت پر مجبور ہو رہے ہیں۔

رپورٹ کے مشاہدات سے آگاہ کرنے کے لیے منعقد کیے گئے ایک اجلاس میں ایچ آر سی پی کے چیئرمین اسد اقبال بٹ نے نشاندہی کی کہ سندھ میں ہندو برادریوں کے خلاف تشدد اور امتیازی سلوک کی خبریں بہتکم رپورٹ ہوتی ہیں۔ ان برادریوں کے بہت سے افراد بیرون ملک، بشمول بھارت، ہجرت پر مجبور ہیں، حالانکہ اس کے لیے انہیں بھاری سماجی قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے مشیر برائے انسانی حقوق، راج ویر سنگھ سوڈھا، نے کہا کہ اعلیٰ ذات کے کئی ہندو خاندان صوبے میں امن و امان کی خراب صورت حال کے دوران مجرمانہ گروہوں کی جانب سے بھتہ خوری کا نشانہ بنے ہیں، جس کے باعث وہ ہجرت پر مجبور ہوئے۔ ایچ آر سی پی کی کونسل رکن پشپا کماری نے ہندو خواتین کے اغوا، جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی کے مسائل کو اجاگر کیا۔

کونسل رکن اور صحافی سہیل سنگی نے سندھ اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ ہندو برادری کے لیے محفوظ اور باوقار ماحول پیدا کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں، جن میں قانون کا مؤثر نفاذ، پولیس میں ہندوؤں کی نمائندگی بڑھانا اور حکومت اور مقامی ہندو برادریوں کے درمیان مسلسل مشاورت شامل ہے۔

ایچ آر سی پی کی تحقیق یہ بھی تجویز کرتی ہے کہ اس مسئلے کی سنگینی کا اندازہ لگانے کے لیے ہندو افراد اور خاندانوں کی سندھ سے نقل مکانی سے متعلق مستند اعداد و شمار اکٹھے کیے جائیں، اقلیتوں کے خلاف تشدد والے علاقوں میں خصوصی قانون نافذ کرنے والے یونٹس تعینات کیے جائیں، اور جبری تبدیلی مذہب اور کم عمری کی شادی کی روک تھام کے لیے قانون سازی کی جائے اور اس پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

ایچ آر سی پی سندھ کے نائب چیئرمین قاضی خضر حبیب نے اجلاس کا اختتام پر شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں