ظالم پرائس کنٹرول مجسٹریٹس کی زد میں سب سے زیادہ گوشت فروش طبقہ ہے۔اکرم قریشی
پرائس کنٹرول مجسٹریٹروں نے جرمانے کرنے بند نہ کیے تو پورے ضلع میں بڑا گوشت والے ایسی ہڑتال کریں گے کہ انتظامیہ کو تارے دکھا دیں گے ہڑتال کو تاریخ یاد رکھے گی ان…

پرائس کنٹرول مجسٹریٹروں نے جرمانے کرنے بند نہ کیے تو پورے ضلع میں بڑا گوشت والے ایسی ہڑتال کریں گے کہ انتظامیہ کو تارے دکھا دیں گے ہڑتال کو تاریخ یاد رکھے گی ان خیالات کا اظہار انجمن بیف مٹن ایسوسیشن کہ رہنما اکرم قریشی نے پریس کلب میں پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر دیگر رہنما بھی موجود تھے اکرم قریشی نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا انتظامیہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹ بیف گوشت والوں کو ناجائز تنگ کر رہی ہے 700 روپے سرکاری ریٹ مقرر کر کے ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم اس ریٹ پر فروخت کریں جو دکاندار ان ریٹوں پر عمل نہیں کر رہا ان کے 20 ہزار 10 ہزار روپے جرمانہ کیا جا رہا ہے اس کے علاوہ فوڈ اتھارٹی والے بھیناجائز جرمانے کر رہے ہیں اکرم قریشی نے ڈپٹی کمشنر سمیت تمام پرائس کنٹرول مجسٹریٹوں اور افسران کو سخت الفاظ میں وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمیں مجبور نہ کیا جائے کہ ہم سڑکوں پر نکل ائیں اگر ایسا ہوا پھر دم دما دم مست قلندر ہوگا جو انتظامیہ کے روکنے کی بس کی بات نہیں ہوگی اگر انتظامیہ چاہتی ہے کہ ہم بیف گوشت سستا بیچیں تو وہ ضلع بندی کروائے اور منڈی سے ہمیں ہول سیل ریٹ میں گوشت خرید کر دے جو ہم مارکیٹوں میں سرکاری ریٹ سے بھی کم فروخت کروائیں گے تمام چیزوں کی ہول سیل مارکیٹ ہے لیکن بیف گوشت کی کوئی ہول سیل مارکیٹ نہیں ہے ضلع جھنگ میں انہوں نے مزید کہا کہ حکمران طبقہ خود گوشت کا کاروبار کر رہا ہے بیرون ملک گوشت بھیجتا ہے اس لیے ہمیں مجبور کیا جا رہا ہے کہ ہم سرکاری ریٹ پر گوشت فروخت کریں اکرم قریشی نے مزید کہا کہ ہم چکن والے یا دیگر دکاندار نہیں ہیں کہ ڈر جائیں گے ہم کھڑے ہیں اور کھڑے رہیں گے ہمارے صبر کا امتحان نہ لیا جائے جیلیں اور مقدمات ہمارے لیے نئے نہیں ہیں ہم اس کے لیے بھی تیار ہیں لیکن یہ انتظامیہ کو اور حکمرانوں کو مہنگا پڑ جائے گا اکرم قریشی نے مزید کہا کہ میڈیا کے لوگ اور پرائس کنٹرول کمیٹی کے لوگ مل کر ایک کمیٹی بنا لیں اور وہ چیک کر لیں کہ گوشت جس پاؤ ہمیں فروخت کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے کیا گوشت اس ریٹ میں ہمیں وارا بھی کھاتا ہے کہ نہیںایک سوال کے جواب میں اکرم قریشی نے کہا کہ سڑکوں پر پولیس والے اور دیگر محکموں کے ملازمین ہمارے یہاں گاڑیاں روک کر گوشت چیک کر رہے ہوتے ہیں جو کہ ان کا اختیار نہیں ہے سلاٹر ایکٹ کے تحت صرف لائیو سٹاک افیسر ہی گوشت کو چیک کر کے اس کو حرام یا حلال کا سرٹیفکیٹ دے سکتا ہے ہمارے لوگوں کا ٹنوں کے حساب سے گوشت ضائع کر دیا جاتا ہے کہ یہ حرام ہے پاس شدہ نہیں ہے سلاٹر ہاؤس کی حالت بڑی خراب ہے وہاں جانور ذبح کرنا ایک الگ مسئلہ ہے لا تعداد کیڑے مکوڑے وہاں پر موجود ہوتے ہیں بلدیہ صحیح طرح صفائی نہیں کرتی پرانے عمارتیں ہیں جو کسی وقت گر سکتی ہیں ان حالات میں قصائی صفائی کا خیال کیسے رکھ سکتے ہیں انتظامیہ کو چاہیے کہ فوری طور پر سلاٹر ہاؤس کی بلڈنگیں بنائیں اور بلدیہ کا اپنا وٹنری ڈاکٹر ہونا چاہیے بلدیہ والے لائیو سٹاک سے عارضی طور پر ڈاکٹر ہائر کرتی ہے جو گوشت کو چیک کرتا ہے اور اپنی مہر لگاتا ہے اکرم قریشی نے مزید کہا کہ ضلع جھنگ واحد علاقہ ہے جہاں بڑے گوشت کو پانی نہیں لگایا جاتا اور صاف ستھرا گوشت فروخت کیا جاتا ہے انہوں نے مزید کہا کہ اگر ہمارا کوئی قصائی مردہ گوشت فروخت کرتا ہے تو انتظامیہ ضرور اس کے خلاف کاروائی کرے ہم انتظامیہ کے ساتھ کھڑے ہوں گے لیکن ہمیں ناجائز تنگ کرنا بند کیا جائے اکرم قریشی نے وزیراعلی سمیت اعلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ دوسرے شہروں کی طرح ہمارے ضلع میں بھی چھوٹے اور بڑے گوشت کا ریٹ مزید بڑھایا جائے ورنہ ہم اپنی دکانیں بند کر دیں گے اس موقع پر کافی تعداد میں چھوٹے اور بڑے گوشت کے دکاندار بھی موجود تھے ان دکاندار نے پریس کلب کے باہر اور اندر احتجاج کرتے ہوئے نعرے بازی بھی کی اور بینر اٹھا کر اپنے اپنے مطالبات کو حکومت کے سامنے پیش کیا


