خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
پہلی تاریخی جھنگ ڈیزرٹ ریلی و تین روزہ ثقافتی فیسٹیول,11,10,9 اکتوبر رحمت آباد، تحصیل اٹھارہ ہزاری میں ہوگیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیشرفت پر تشویش کا اظہارحکومت کا تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی آڈٹ کا فیصلہپاکستان اور آسٹریا کا علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیالامریکی ناظم لاامور نٹالی بیکر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہالیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرروزیراعظم شہباز شریف کا شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہجھنگ: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کا عمل تیز کرنے کا حکم، اب تک جھنگ سے356 افراد وطن واپس بھجوائے گئے، ترجمان پولیس
معلومات تک رسائی

معلومات تک رسائی کے قوانین کا عالمی دن

2015 کو اقوام متحدہ کی تعلیم، سائنسی اورثقافتی تنظیم(یونیسکو)نے 28 ستمبر کو معلومات تک رسائی کا عالمی دن قرار دیا ۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ دنیا کی متعدد سول سوسائٹی کی…

معلومات تک رسائی کے قوانین کا عالمی دن

2015 کو اقوام متحدہ کی تعلیم، سائنسی اورثقافتی تنظیم(یونیسکو)نے 28 ستمبر کو معلومات تک رسائی کا عالمی دن قرار دیا ۔ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ دنیا کی متعدد سول سوسائٹی کی تنظیموں اور حکومتی اداروں نے اس دن کو اپنایا اور اس وقت پوری دنیا میں یہ دن منا یا جارہا ہے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی 28 ستمبر 2019 کو معلومات تک رسائی کے عالمی دن کے طور پر اپنایا۔

معلومات ایک طاقت ہے اورباخبر شہری باخبر فیصلے کر سکتے ہیں، مثال کے طور پر، انتخابات میں جاتے وقت شہری تب درست فیصلے کر سکتے ہیں جب شہری جانتے ہو کہ ان نمائندے کس طرح حکومت کرتے ہیں تب ہی وہ اپنی حکومتوں کو اپنے فیصلوں اور ان کے اعمال کے لیے جوابدہ ٹھہرا سکتے ہیں۔ لہذا، معلومات تک رسائی صحت مند اور جامع علمی معاشروں کا سنگ بنیاد ہے۔

معلومات تک  رسائی کا مطلب ہے کہ ہر کسی کو معلومات حاصل کرنے  کا حق ہے۔ یہ حق اظہار رائے کی آزادی کے حق کا ایک لازمی حصہ ہے۔ میڈیا عوام کو دلچسپی کے مسائل سے آگاہ کرنے میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے، لیکن یہ معلومات حاصل کرنے اور حاصل کرنے کی صلاحیت پر بھی انحصار کرتا ہے اس لیے معلومات تک  رسائی کا حق بھی آزادی صحافت کے حق کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔اسی وجہ  سے صحافیوں کو اس حق کا استعمال ضر ور کرنا چاہئے تاکہ فیک نیوز اور مبالغہ آرائی کی خبروں میں کمی آسکے ۔صرف صحافی ہی نہیں بلکہ عام شہریوں کے لئے بھی یہ قانون بہت ضروری اور انہیں یہ علم ہونا چاہئے کہ ان کے دیئے جانے والے ٹیکس کے پیسوں سے ان کے نمائندےاور حکومتی اہلکار ان کی بھلائی کے لئے بنائے جانے والے منصوبوں پر کس انداز میں کام کررہے ہیں۔

معلومات کی فراہمی کے زیادہ تر قوانین نجی شعبے کو ان کے دائرہ اختیار سے باہر کرتے ہیں اس لیے نجی شعبے کے پاس موجود معلومات کو قانونی حق کے طور پر حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

کچھ  ممالک ایسے قوانین متعارف کرانے کی سمت  میں کام کر رہے ہیں، اور قومی قانون سازی والے ممالک کے بہت سے خطوں میں مقامی قوانین موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، تمام امریکی ریاستوں میں ریاست اور مقامی ٹیکس دینے والے اداروں سے تعلق رکھنے والے عوامی دستاویزات تک رسائی کو کنٹرول کرنے والے قوانین ہیں

اب تک دنیا میں 100 سے زائد ممالک میں معلومات تک رسائی کے قوانین بنائے جا چکے ہیں. دنیا میں معلومات سے آگاہی کا قانون  مختلف ناموں سے نافذ ہے۔دنیا میں سوئیڈن وہ پہلا ملک ہے جس نے اس قانون کا اطلاق کیا سوئیڈن میں1766 میں فریڈم آف دی پریس ایکٹ 1766 کے نام سے یہ قانون بنایا گیا

 

جنوبی ایشیا میں پاکستان نے 2002 میں یہ قانون بنایا جبکہ ہندوستان میں 2005، نیپال میں 2007 اور بنگلہ دیش 2009 میں معلومات تک رسائی کے لئے قانون سازی کی گئی. 2002 میں وفاقی حکومت نےمعلومات تک رسائی کے آرڈیننس کا اجراء کیا اس کا اطلاق تمام وفاقی وزراتوں اور دیگر تمام وفاقی اداروں پر ہوتا ہے اور بعدازاں بلوچستان حکومت نے 2005 اور سندھ کی حکومت نے 2006  اپنے معلومات تک رسائی کے قوانین بنائے لیکن یہ تمام وفاقی اور صوبائی قوانین ہندوستان اور بنگلہ دیش میں بنائے جانے والے معلومات تک رسائی کے قوانین نسبتاً بہت کمزور اور محدود دائرہ کار کے حامل تھے

پاکستان میں ان قوانین کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سی پی ڈی آئی کے مطابق .1973 کے آئین میں لوگوں کی معلومات تک رسائی کے حق کے بارے میں کوئی آرٹیکل موجود نہیں تھا اور 1973کے آئین میں موجود آرٹیکل 19 کے تحت صرف آزادی تقریر اور اظہار کو ایک بنیادی انسانی حق قرار دیا گیا تھا. تاہم ملک کی اعلیٰ عدالتیں معلومات تک رسائی کے حق کو تحفظ دیتیں رہیں.جس کی ایک مثال عدالت عظمیٰ کا یہ فیصلہ ہے

حکومت معلومات کا سب سے بڑا ذریعہ ہوتی ہے اور جمہوری طرز حکومت حکومت میں اس کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ہر شہری کی آگاہی کے لئے معلومات کو عام کرے تا کہ وہ حکومت میں شامل افراد کے عمل کو پرکھ سکیں اور وہ حکومتی اقدامات کی خرابیوں اور خوبیوں کے بارے میں جان سکیں (پی ایل ڈی 1993، ایس سی 746).

2001میں لوکل گورنمنٹ آرڈیننس نافذ کیا یہ آرڈیننس ملک کے چاروں صوبوں میں نافذ کیا گیا اس آرڈیننس کےسیکشن 137 میں معلومات تک رسائی کے حوالے سے کسی حد تک بات کی گئی تھی تاہم اس کا مکمل طور پر اطلاق نہ ہوسکا کیونکہ صوبائی حکومتیں اس حق کے رولز اور طریقہ کار وضع کرنے میں ناکام رہیں.

2010میں جب اٹھارہویں ترمیم کے تحت آئین کے آرٹیکل 19 اے کو بنیادی حقوق کے باب کا حصہ بنا دیا گیاتو اس میں معلومات تک رسائی کو بنیاد ی حق کے طور پر تسلیم کیا گیا

آرٹیکل 19 اے کے مطابق

؛ عوامی اہمیت کے تمام امور کے بارے میں ہر شہری کا معلومات تک رسائی کا حق ہوگا ماسوائے مستثنیات کے جو مناسب ہوں گی اور قانون کے دائرے کار میں رہتے ہوئے لگائی جائیں گی؛

اب اس امر کی ضرورت تھی کہ کہ آئین کے آرٹیکل 19 اے کی روشنی میں وفاقی اور سندھ اور بلوچستان کے معلومات تک رسائی کے قوانین میں بہتری لائی جائےوفاقی حکومت کی جانب سے دی رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2017میں بنایا گیا. 31 اکتوبر 2013 کو خیبر پختون خواہ اسمبلی نے رائٹ ٹوانفارمیشن ایکٹ 2013 کی منظوری دی اور پنجاب اسمبلی نے 12 دسمبر 2013 دی پنجاب ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 کی منظوری دے دی ،سندھ ٹرانسپرنسی اینڈ رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2016 میں بنایا گیا ، بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2021میں بنایا گیا ہے۔

ان قوانین کے بنانے کے بعد پاکستان میں معلومات کی فراہمی اور حصول کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا ۔ معلومات تک رسائی کے تام قوانین اگر چہ یکساں نہیں ہیں لیکن اس کے باوجود شہریوںاور صحافیوں کے لئے مستند معلومات کا اہم ذریعہ ہیں ۔ قوانین تب تک صرف کتابوں میں ہی رہتے ہیں جب تک ان کا استعمال نہ کیا جائے لہذا عوامی مفاد کے لئے بنائے گئے ان قوانین کے استعمال سے ہی اس کی افادیت میں اضافہ ہوسکتا ہے جس سے نہ صرف فیصلہ سازی میں بہتری آسکتی ہے بلکہ انتظامی مسائل میں کمی لائی جاسکتی ہے ۔پاکستان میں ان کی قوانین کے آگاہی کے حوالے سے غیر سرکاری تنظیم سی پی ڈی آئی کے کردار بھی بہت اہمیت کا حامل ہے ۔ ایک دہائی سے زائد عرصہ سے سی پی ڈی آئی ان قوانین کی آگاہی اور اور ان پر عمل درآمد میں مثالی کردار اد کر رہی ہے

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں