خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
پہلی تاریخی جھنگ ڈیزرٹ ریلی و تین روزہ ثقافتی فیسٹیول,11,10,9 اکتوبر رحمت آباد، تحصیل اٹھارہ ہزاری میں ہوگیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیشرفت پر تشویش کا اظہارحکومت کا تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی آڈٹ کا فیصلہپاکستان اور آسٹریا کا علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیالامریکی ناظم لاامور نٹالی بیکر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہالیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرروزیراعظم شہباز شریف کا شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہجھنگ: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کا عمل تیز کرنے کا حکم، اب تک جھنگ سے356 افراد وطن واپس بھجوائے گئے، ترجمان پولیس
انسانی حقوق

ملک بھر میں صنفی تشدد کے کیسز میں اضافےکا رجحان

قانون انصاف کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 2 اگست 2024کوپاکستان  میں  صنفی تشدد کے حوالے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں سال 2023 کے دوران ملک بھر میں صنفی تشدد کے…

ملک بھر میں صنفی تشدد کے کیسز میں اضافےکا رجحان

قانون انصاف کمیشن آف پاکستان کی جانب سے 2 اگست 2024کوپاکستان  میں  صنفی تشدد کے حوالے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ میں سال 2023 کے دوران ملک بھر میں صنفی تشدد کے حوالے سے زیرالتواء اور درج ہونے والا مقدمات کے اعداود شماراورمخلتف عوامل کا جائزہ لیا گیا ہے۔ رپورٹ میں پاکستان میں صنفی تشدد کے رجحان میں تشویشناک اضافہ سامنے آیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں،صنفی تشدد کے مقدمات کے لئے مجموعی طور پر 480 عدالتیں نامزد کی گئیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یکم جنوری2023 کے آغاز میں 21،891 کیسز زیرالتواء تھے۔جبکہ سال 2023میں 48,395 نئے کیسز قائم کیے گئے اور 30,631 کیسز کو حل کیا گیا، جس کے نتیجے میں دسمبر 2023 تک کل39,655 کیسز زیرالتواء تھے یہ اعدادو شمار کیسز میں نمایاں اضافے کی  نشاندہی کرتا ہے۔رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال کے اختتام پر پاکستان بھر میں صنفی تشدد کے  تقریبا 81 فیصد کیسززیرالتواء تھے۔

 رپورٹ کے مطابق پنجاب میں صنفی تشدد کے مقدمات کے لیے 196 عدالتیں تفویض کیں گئیں تھی۔ سال کے آغاز میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 16,958 تھی جبکہ 2023 کے اختتام پرنئے قائم ہونے والے مقدمات کی تعداد 42,990 تک پہنچ گئی جبکہ 25,598 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں 34,350 مقدمات باقی رہ گئے جو کہ تقریبا سوفیصد سے زائد مقدمات زیرالتواء ہیں۔

سندھ میں صنفی تشدد کے مقدمات کے لیے 27 عدالتیں تفویض کی گئیں۔ گزشتہ سال کے آغاز میں زیر التواءمقدمات کی تعداد 1,453 تھی۔  اس سال کے دوران کل 1515 نئے کیسز قائم کئے گئے اور 1473 مقدمات کا فیصلہ کیا گیا جس کے نتیجے میں 1473 مقدمات زیر التواء تھے ۔سندھ میں ان میں صرف 3 فیصد معمولی اضافی دیکھنے میں آیا ۔

خیبر پختنخواہ میں صنفی تشدد کے لئے 105 عدالتیں قائم ہیں۔2023 کے آغاز میں یہاں پر زیر التواء مقدمات کی تعداد2،230 تھی جبکہ اس سال 1738 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ 1421 کیسز حل کر لئے گئے اور سال کے آخر میں 2،547 کیسز باقی رہے گئے اور یہاں پر زیرالتواء مقدمات کی کی شرح میں چودہ فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

بلوچستان میں صنفی تشدد کے مقدمات کے لئے 150 عدالتیں کام کررہی ہیں ۔گزشتہ سال کے آغاز میں یہاں پرزیر التواء مقدمات کی تعداد 170 تھی جبکہ اس سال کے دوران 432 نئے مقدمات درج ہوئے اور 428 مقدمات حل کر لئے گئے اور یوں یہاں پر زیر التواء مقدمات کی تعداد 2023 کے آخرمیں 174 رہ گئی جوکہ تقریبا 2 فیصد بنتی ہے۔

وفاقی درالحکومت اسلام آباد میں صنفی تشدد کے لئے 2 عدالتییں بنائی گئیں ہیں یہاں گزشتہ سال کے آغاز میں زیر التواء مقدمات کی تعداد 1080 تھی جبکہ اس سال کے اختتام پر کل 1720 نئے مقدمات کا اندراج کیا گیا جبکہ 1711 مقدمات کا فیصلہ کر دیا گیا ۔

رپورٹ میں یہ بھی  بتایا گیا ہے کہ صنف کی بنیاد پر ہلاکتوں میں اضافہ ہوا حالانکہ صنفی بنیاد پر نقصان کے واقعات میں کمی واقع ہوئی ہے۔ شادی سے متعلق جرائم میں زیر التوا مقدمات میں اضافہ دیکھا گیا  جبکہ معاشی تشدد کے واقعات میں کمی آئی ۔قانون و انصاف کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ صنفی بنیاد پر دھمکیاں دینے کے مقدمات میں کمی ہوئی جبکہ صنفی بنیاد پر الیکٹرانک جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔

 رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 5 فیصد سزا کی کم شرح اور 64 فیصد مقدمات میں ملزما ن کا بری ہوجانا ایک پریشان کن صورت حال ہے یہ رجحان  تمام صوبوں میں یکساں ہے اور نظام کے  مسائل کی نشاندہی کرتا ہے جن میں فوری اصلاحات کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں ان مسائل سے نمٹنے کے لیے سفارشات بھی مرتب کی گئیں ہیں، جن میں بری ہونے کے مقدمات کا مکمل جائزہ،عدالتی افسران اورپراسیکیوٹرز کے لیے بہتر تربیت، متاثرین کی معاونت کی خدمات کوبہتر کرنا، عوامی آگاہی میں اضافہ، مقدمات کے نظام کے طریقہ کار میں بہتری، قانون سازی کا جائزہ، وسائل کی بہتر تقسیم،احتسابی نظام میں بہتری اور انسانی حقوق کی بہتری کے لئے کام کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔

قانون انصاف کی کمیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے  کہ مجموعی طور پر، یہ رپورٹ پاکستان میں صنفی تشدد کے مقدمات کی موجودہ حالت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے اوریہ رپورٹ مستقبل کے اقدامات اور اصلاحات میں مدد فراہم کرے گئی اور ادارہ شفافیت، احتساب اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔رپورٹ کے مطابق سال کے آخر میں ایک جامع فالو اپ رپورٹ تیار کی جائے گی اورخوف و تشدد سے پاک منصفانہ معاشرے کو فروغ دینے کی کوششیں جاری رکھیں جائیں گئیں۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں