خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
جھنگ: موچیوالا کے چک نمبر 441 میں مبینہ فائرنگ کی ویڈیو پر ڈی پی او ساجد حسین کا نوٹس، پولیس نے 6 ملزمان حراست میں لے لیے، دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے جاریجھنگ: ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) عبدالرحمن کا ضلعی محکموں کے اجلاس اور شہر کے مختلف علاقوں کے اچانک دوروں میں ترقیاتی منصوبوں، صفائی آپریشن، سیوریج اور ہسپتال کی سہولیات کا جائزہ، بروقت تکمیل اور عوامی خدمات بہتر بنانے کی ہدایتجھنگ: ڈی پی او ساجد حسین کی زیرِ صدارت ٹریفک پولیس اجلاس، ٹریفک کی روانی بہتر بنانے، حادثات کی روک تھام اور کرپشن میں ملوث اہلکاروں کے سخت احتساب کی ہدایتجھنگ میں یوتھ کلائمیٹ کانفرنس، 100 سے زائد طلبہ کی شرکت، دریائے چناب میں سیلاب، شدید گرمی، فضائی آلودگی اور کسانوں کے مسائل پر گفتگو، سفارشات نیشنل یوتھ اسٹیٹمنٹ 2026 میں شامل کی جائیں گینائب وزیراعظم کا برآمدات بڑھانے کے لیے مربوط حکومتی تعاون کے عزم کا اعادہحکومت کا ایس ایم ایز کی برآمدی مالی معاونت تک رسائی بہتر بنانے کے عزم کا اعادہسہ ملکی کرکٹ سیریز: انگلینڈ نے سری لنکا کو 55 رنز سے ہرا دیانگہداشت اور معاونت کا عالمی دن آج منایا جا رہا ہے
ماحولیات

موسمیاتی بحران: پاکستان اور عالمی سطح پر خواتین کی زندگیوں پر بڑھتا ہوا بوجھ

موسمیاتی بحران صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے یہ ایک سنگین انسانی حقوق کا چیلنج ہے جو خاص طور پر خواتین کی زندگیوں پر منفی اثرات ڈال رہا ہے، خاص طور پر ان کمیونٹیز پر…

موسمیاتی بحران: پاکستان اور عالمی سطح پر خواتین کی زندگیوں پر بڑھتا ہوا بوجھ

موسمیاتی بحران صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں ہے یہ ایک سنگین انسانی حقوق کا چیلنج ہے جو خاص طور پر خواتین کی زندگیوں پر منفی اثرات ڈال رہا ہے، خاص طور پر ان کمیونٹیز پر جو پہلے سے ہی کمزور ہیں۔ پاکستان اور دنیا بھر میں، خواتین موسمیاتی تبدیلی کا بوجھ اٹھا رہی ہیں، جو کہ ان کی زندگیوں میں منفرد چیلنجز اور کمزوریاں پیدا کر رہا ہے۔

پاکستان میں، خواتین پہلے ہی معاشرتی اور اقتصادی رکاوٹوں کی وجہ سے استحصال کا شکار ہیں۔ موسمیاتی بحران ان مسائل کو مزید بڑھا دیتا ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں جہاں خواتین پانی اور ایندھن اکٹھا کرنے، گھریلو امور کی دیکھ بھال کرنے، اور بچوں کی دیکھ بھال کی ذمہ دار ہوتی ہیں۔ خشک سالی، ہیٹ ویوز، اور سیلاب جیسے واقعات مزید بار بار اور شدید ہو گئے ہیں، جس سے یہ کام مزید مشکل ہو گئے ہیں۔

پاکستان میں 2022 کے سیلاب نے بے مثال تباہی مچائی، جس میں 2,000 صحت کے مراکز ملبے کا ڈھیر بن گئے اور تولیدی صحت کی خدمات بری طرح متاثر ہوئیں۔ اس تباہی نے 33 ملین لوگوں کو متاثر کیا، جن میں 8.2 ملین خواتین شامل تھیں، جو تولیدی عمر میں تھیں اور صحت کے خطرات سے دوچار ہو گئیں۔ اس کے علاوہ، سیلاب زدہ علاقوں میں 650,000 حاملہ خواتین کو مناسب طبی سہولت کے بغیر خطرناک حالات کا سامنا کرنا پڑا (اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ، اگست 2022)۔

دیہی علاقوں میں رہنے والی 64 ملین خواتین جو کل دیہی آبادی کا نصف سے زائد بنتیں اس تباہی کا سب سے زیادہ شکار ہوئی۔

پاکستان میں 62 فیصد خواتین کھیتوں میں کام کرتیں ہیں جن میں صر ف 19 فیصد کو اجرت ملتی ہے

عالمی سطح پر، خواتین موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے لیے سب سے زیادہ متاثرہ طبقہ  ہیں کیونکہ ان کا معاشرتی، اقتصادی، اور سیاسی مقام کمزور ہے۔ وہ زیادہ تر غربت میں زندگی بسر کرتی ہیں، وسائل اور معلومات تک رسائی محدود ہوتی ہے، اور امتیاز اور حاشیہ بندی کا سامنا کرتی ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی آفات اور موسم کے پیٹرن میں تبدیلیاں خواتین کی زندگیوں پر منفی اثرات ڈالتی ہیں، جس سے غربت اور عدم مساوات کے سلسلے کو برقرار رکھا جاتا ہے۔

موسمیاتی بحران خواتین پر مندرجہ ذیل بوجھ ڈال رہا ہے

بڑھا ہوا کام کا بوجھ: خواتین پانی اور ایندھن اکٹھا کرنے کی ذمہ دار ہوتی ہیں، جو خشک سالی اور جنگلات کی کٹائی کی وجہ سے مزید مشکل ہو جاتا ہے۔

خوراک کی عدم دستیابی: خواتین اکثر خوراک کی تیاری اور فراہمی کی ذمہ دار ہوتی ہیں، جو کم ہوتی ہوئی فصل کی پیداوار اور موسم کے بدلتے ہوئے حالات کی وجہ سے خطرے میں ہوتی ہے۔

صحت کے اثرات: خواتین گرم درجہ حرارت کی وجہ سے گرمی کے دباؤ، سانس کی بیماریوں، اور دیگر صحت کے مسائل کے لئے زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔

معاشی خودمختاری: خواتین کے معاشی مواقع موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے زرعی اور قدرتی وسائل پر منفی اثرات کے باعث محدود ہو جاتے ہیں۔

ہجرت اور بے دخلی: خواتین کو اکثر موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی آفات کی وجہ سے ہجرت کرنے یا بے گھر ہونے پر مجبور کیا جاتا ہے، جس سے روزگار کے مواقع اور معاشرتی نیٹ ورکس سے محروم ہو جاتی ہیں۔

تشدد اور استحصال: موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے ہونے والی بے دخلی اور ہجرت کے تناظر میں خواتین اور لڑکیاں تشدد اور استحصال کے لیے زیادہ کمزور ہوتی ہیں۔ موسمیاتی بحران اور اس کے خواتین کی زندگیوں پر اثرات کو کم کرنے کے لئے، ہمیں ایک صنفی حساس نقطہ نظر اپنانا چاہیے۔ اس میں خواتین کی منفرد کمزوریوں اور چیلنجز کو تسلیم کرنا اور ان کا حل شامل ہے، موسمیاتی فیصلہ سازی میں خواتین کی شرکت اور قیادت کو فروغ دینا، اور موسمیاتی تبدیلیوں سے مطابقت رکھنے والے زرعی اور قدرتی وسائل کے انتظام کے طریقوں کی حمایت کرنا شامل ہے۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں