728 x 90

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ اسلامی اتحاد کی جانب پہلا قدم ہے، دیگر مسلم ممالک بھی شامل ہوں: مولانا زبیر احمد صدیقی

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ اسلامی اتحاد کی جانب پہلا قدم ہے، دیگر مسلم ممالک بھی شامل ہوں: مولانا زبیر احمد صدیقی

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ اسلامی بلاک کے قیام کی جانب پہلا اور خوش آئند قدم ہے، دیگر اسلامی ممالک کو بھی اس دفاعی معاہدے کا حصہ بننا چاہیے۔ کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لیے اسلامی ممالک متحد ہو کر اپنا کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس العربیہ

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا دفاعی معاہدہ اسلامی بلاک کے قیام کی جانب پہلا اور خوش آئند قدم ہے، دیگر اسلامی ممالک کو بھی اس دفاعی معاہدے کا حصہ بننا چاہیے۔ کشمیر اور فلسطین کی آزادی کے لیے اسلامی ممالک متحد ہو کر اپنا کردار ادا کریں۔ ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس العربیہ پنجاب کے ناظم اعلیٰ مولانا زبیر احمد صدیقی نے پریس کلب جھنگ میں علماء رابطہ کمیٹی کے زیر اہتمام ’’قیام پاکستان میں علماء کا کردار‘‘ کے عنوان سے پریس کلب جھنگ میں منعقدہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

مولانا زبیر احمد صدیقی نے کہا کہ ایک عرصے سے ان کی اور ملک بھر کے علماء کرام کی یہ خواہش رہی ہے کہ امت مسلمہ کے دفاع اور تحفظ کے لیے ایک مضبوط اسلامی بلاک تشکیل دیا جائے۔ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان دفاعی معاہدہ اس سمت میں بارش کا پہلا قطرہ ہے، جس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں امت مسلمہ کو اتحاد، اتفاق اور باہمی تعاون کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے، اس لیے دیگر تمام اسلامی ممالک کو بھی اس دفاعی تعاون میں شامل ہونا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ دفاعی معاہدے کو صرف تین ممالک تک محدود رکھنے کے بجائے اسے وسیع تر اسلامی تعاون کی بنیاد بنایا جائے تاکہ امت مسلمہ اپنے اجتماعی مفادات کا مؤثر انداز میں دفاع کرسکے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ دفاعی معاہدے میں شامل ممالک کشمیر اور فلسطین کے مظلوم عوام کی آزادی اور ان کے بنیادی حقوق کے حصول کے لیے بھی اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔

مولانا زبیر احمد صدیقی نے کہا کہ قیام پاکستان کی جدوجہد میں علماء کرام نے بھرپور کردار ادا کیا اور پاکستان کے قیام کے بعد بھی علماء اور دینی مدارس نے ملک کے اسلامی تشخص کو اجاگر کرنے، دینی و اخلاقی اقدار کے فروغ اور معاشرے کی اصلاح کے لیے نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام آئندہ بھی ملک کے استحکام، ترقی اور خوشحالی کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرتے رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ہمارا ملک ہے اور افواج پاکستان ملک کی محافظ ہیں۔ ملکی سلامتی، خودمختاری اور استحکام کے لیے پوری قوم کو متحد رہنا چاہیے۔ علماء کرام اور دینی مدارس قومی سلامتی، ملکی استحکام اور معاشرتی اصلاح کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔

کنونشن میں مولانا حبیب اللہ نقشبندی، مولانا عبدالرحیم نقشبندی، مولانا سید مصدوق حسین شاہ، مولانا قاری محمد شفیق، مفتی عبیداللہ رحیمی، مولانا عثمان مدنی، مولانا عثمان طارق، مولانا عبدالعلیم حقانی، جمعیت علماء اسلام کی مرکزی شوریٰ کے رکن چودھری شہباز گجر ایڈووکیٹ سمیت دیگر علماء کرام اور مذہبی شخصیات نے شرکت کی۔

کنونشن کے اختتام پر ملک و قوم کی سلامتی، استحکام، ترقی و خوشحالی اور عالم اسلام کے اتحاد و اتفاق کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos