صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی ملکی یا غیر ملکی کو اپنے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال نہیں کرنے دے گا۔ انہوں نے آج (پیر) سہ پہر اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ
صدر آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کسی بھی ملکی یا غیر ملکی کو اپنے امن کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہمسایہ ملک کی سرزمین استعمال نہیں کرنے دے گا۔
انہوں نے آج (پیر) سہ پہر اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس سے اپنے خطاب میں کہا کہ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ میں افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو ایک ماورائے علاقائی خطرہ قرار دیا گیا ہے۔
صدر نے کہا کہ پاکستان اور دوست ممالک کی جانب سے متعدد سفارتی سرگرمیوں کے باوجود افغان حکومت القاعدہ، بی ایل اے اور ٹی ٹی پی سمیت کئی دہشت گرد گروپوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ افغان حکومت نے دوحہ میں وعدے کیے تھے کہ وہ ان دہشت گرد گروپوں کو اپنے ملک سے سرگرم نہیں ہونے دے گی لیکن اب یہ تمام وعدے وہ آسانی سے بھول گئی ہے۔
صدر نے کہا کہ انہیں ان دہشت گرد گروپوں کو ختم کرنے کا انتخاب کرنا ہوگا جن کی بقاء تنازعات اور اس کی جنگی معیشت ہے۔
صدر نے افغان طالبان پر بھی زور دیا کہ وہ کسی دوسرے ملک کے جنگی عزائم کو پورا کرنے کیلئے اس کے آلہ کار نہ بنیں۔
آصف علی زرداری نے ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران جنگ چھیڑنے کی بھی مذمت کی۔
انہوں نے برادر ملک کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت پر تعزیت کا اظہار کیا۔
آصف علی زرداری نے خودمختاری کے تحفظ، دہشت گردی کے خاتمے اور معاشی استحکام کو فروغ دینے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے وفاقی ہم آہنگی مضبوط کرنے اور ملک میں جمہوری طرز حکمرانی کو مستحکم کرنے پر بھی زور دیا۔
صدر نے کہا کہ قدرتی وسائل، مالیاتی تقسیم، توانائی کوآرڈینیشن اور پانی کے انتظام سے متعلق مسائل کو مشاورت سے حل کیا جانا چاہیے۔
بلوچستان کے حوالے سے آصف علی زرداری نے کہا کہ حکومت بلوچ عوام کی حقیقی سماجی اور معاشی شکایات کے ازالے پر یکساں توجہ دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام پاکستان کی ترقی میں مکمل شراکت دار ہیں اور رہیں گے۔
تنازعہ کشمیر کے بارے میں صدر نے کہا کہ پاکستان جموں و کشمیر کے عوام کے منصفانہ نصب العین کی مکمل سفارتی اور اخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں کوئی بھی اس وقت تک آزاد اور محفوظ نہیں ہو گا جب تک کشمیری بھارتی قبضے سے آزادی حاصل نہیں کر لیتے۔
بھارتی لیڈروں کے جنگی جنون کے بارے میں انہوں نے کہا کہ کسی بھی جارح کو ایک اور ذلت آمیز شکست کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
دنیا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے بارے میں بات کرتے ہوئے صدر نے کہا کہ پاک چین تعلقات تمام شعبوں میں نئی بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ پاکستان کے بنیادی ڈھانچے میں انقلاب برپا کرے گا۔
انہوں نے خلیجی ممالک، آذربائیجان اور ترکیہ کے ساتھ گہرے تعلقات پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ پاکستان سعودی اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدہ خطے میں ایک نیا سنگ میل ہے۔
فلسطین کے حوالے سے آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان انیس سو سڑسٹھ سے قبل کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد اور غیر منقسم ریاست فلسطین کے قیام کی حمایت جاری رکھے گا جس کا دارلحکومت القدس الشریف ہو۔
بنگلہ دیش کے عوام کو نئی حکومت کی تشکیل پر مبارکباد دیتے ہوئے صدر نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مسلسل بہتر اور مضبوط ہورہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے اور دنیا بھر میں امن، سلامتی اور استحکام کے لیے کام جاری رکھے گا۔
پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اب غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کر دیا گیا ہے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *