پنجاب کے قدیم ترین ضلع جھنگ کو ڈویژن نہ بنانا اس کے عوام کی حق تلفی ہے،عمیر غزالی
جھنگ ڈویژن بنا ؤ تحریک کے چیئرمین ؑمیر غزالی نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جھنگ کو ڈویژن بنانے کا مطالبہ کیا ، انہوں نے کہا کہ ایک فلاحی ریاست کا فرض…

جھنگ ڈویژن بنا ؤ تحریک کے چیئرمین ؑمیر غزالی نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جھنگ کو ڈویژن بنانے کا مطالبہ کیا ، انہوں نے کہا کہ ایک فلاحی ریاست کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کو ہر وہ سہولت دیں جو ان کے حقوق کی ادائیگی کا ذریعہ بنیں اور ریاست کو اپنا خیر خواہ ہ سمجھیں تاکہ ریاست کی عوام میں افراتفری احساس کمتری، احساس محرومی اور نفرت پیدا نہ ہو۔ یہی اسلامی ریاست کا فرض بھی ہے کہ وہ روٹی کپڑا مکان اور صحت کا خیال رکھے اگر عوام مقروض ہے تو اس کا قرض ادا کرے اگر نوجوان بیروز گار ہیں تو ان کے کاروبار کا اہتمام بھی کرے اور ان کی شادیاں بھی کروائے۔ اور عوام کے مسائل کا حل فی الفور اور جلد کیا جائے۔ وطن عزیز پاکستان کا صوبہ پنجاب گنجان آباد اور بارہ کروڑ آبادی کا صوبہ ہے۔ یہاں لوگوں کے مسائل کے حل واسطے نئے اضلاع اور ڈویژن کی تشکیل ضروری ہے گزشتہ دور حکومت میں اس پر کام ہوا کچھ اضلاع کا اضافہ ہوا جس میں تونسہ ، کوٹ ادو، مری ، تلہ گنگ اور وزیر آباد شامل ہیں۔ اور ایک ڈویژن گجرات بھی تشکیل دیا گیا۔ مگر جھنگ جو کہ پنجاب کا سب سے پرانا اور بڑا ضلع ہو تا تھا جس کی تحصیلیں آج ڈویژن اور اضلاع کا روپ دھار چکی ہیں، اس کو پھر سے محروم رکھا گیا اور وقتی طور پر جھنگ بارے افواہ بھی پھیلی کہ اس کو ڈویژن بنانے کی بات زیر غور ہے مگر موجودہ دور حکومت میں جو باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہوا اس سے اب کلئیر ہو گیا ہے کہ صوبہ میں انتظامی طور پر نئے یونٹ بنانے کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ ختم ہوا اور جھنگ کا مطالبہ بھی اس کے ساتھ دفن ہو گیا ہے ۔ جھنگ کی عوام میں اس پر شدید غم و قصہ اور احساس محرومی پایا جاتا ہے۔ دنیا کے تمام آفاقی مذاہب اس بات پر متفق ہیں کہ ہر انسان کا وقت ، مال جان عزت ابرو اور ایمان قیمتی چیزیں ہیں۔ انسان اپنا وقت لگا کر مال کماتا ہے اور وہ لگا کر جان محفوظ رکھتا ہے اور یہ تینوں لگا کر اپنی عزت آبرو کی حفاظت کرتا ہے یہ سب چیزیں لگا کر انسان اپنا ایمان بچاتا ہے مگر ہمارا ایمان ہر چوک چوراہے پر برائے فروخت ہے۔ کبھی دولت کے لیے، کبھی منصب کے لیے، کبھی طاقت کے لیے، کبھی گریڈ کے لیے، کبھی سکیل کے لیے ، کبھی سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ کے لیے تو کبھی جاگیرداری نظام کو محفوظ بنانے کے لیے تو کبھی اپنے سرمایہ درانہ نظام کو منظم کرنے لیے۔ اگر ہم سب یکسو ہو جائیں جھنگ کے لیے اور دوغلا پن چھوڑ دیں تو جھنگ کے مسائل کا خاتمہ ممکن ہے ریاست کو جھنگ کا حق دینا پڑے گا۔ مگر مجال ہے جھنگ کے کس سیاسی نے چاہے وہ موجودہ حکومت سے ہوں یا حزب اختلاف سے ہوں سب کے سب کو نجانے کس مجبوری نے اس قدر باندھ رکھا ہے کہ ان کے لب سل چلے ہیں ان کے اندر اخلاقی جرات ختم ہو چکی ہے اپنی ماں دھرتی اور دیس کے لیے ان کے نہ لب کھلتے ہیں نا ان کے قدم اٹھتے ہیں نہ قلم چلتے ہیں
کبھی کسی نے جھنگ سے ائیر پورٹ چھینا تا کہ ترقی نا ہو تو کبھی کسی نے جنگ سے موٹر وے چھینے تاکہ ان کی ٹرانسپورٹ چلاتی رہے تو کبھی کسی نے جھنگ سے کارڈیالوجی ہسپتال چھینا اور حسین بن علی بلاک بنا ڈالا، تو کبھی کسی نے جھنگ سے لاہوروویمن یونیورسٹی کیمپس کا خاتمہ کیا اور اس کو نو مولود یونیورسٹی کا کالج بنا ڈالا تاکہ جاگیرداروں کی زمینوں کے ریٹ ڈیل ہوں تو کبھی کسی نے جھنگ سے سوئی گیس آفس چھینا تا کہ عوام کے مسائل کا حل ممکن نا ہو۔ اس سب کا سبب ایک ہی ہے کہ ہمارا ایمان دولت، منصب، وڈیرہ شاہی گریڈ اور سکیل کے چکر میں ہر چوک پر ہر روڈ پر برائے فروخت ہے جھنگ کی عوام کے سامنے اٹھانے کے تمام حلف ردی کی ٹوکری میں پھینک دیئے جاتے ہیں۔ آج کی اس پر ہجوم پریس کا نفرنس سے ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ جھنگ کوفی الفور اورڈویژن بنایا جائے اس کو اس کا حق دیا جائے۔ جھنگ کو اگنور کرنا کم ظرفی ہے اور جھنگ کے ساتھ زیادتی ہے اس کے علاوہ جھنگ کے ہسپتال کو ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ دیا جائے۔ جھنگ بہت بڑا ضلع ہے۔ اس کی آبادی بھی کافی زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ اس کے حدود سے منسلک اضلاع کو بھی اس سے فائدہ ہو گا۔ جنگ کے ویران ریلوے اسٹیشن پر ترس کھایا جائے اور ساندل ٹرین جو ملتان تا سر گو دھا براستہ جھنگ چلتی تھی اس کو بحال کیا جائے اس ٹرین کو کرونا کی وجہ سے بند کیا گیا اور اس کے بعد آج تک نہیں چلایا گیا ہے جب کہ اگر اس کو اچھے انداز سے چلایا جائے جیسے گرین لائن اور سرسید ایکسپریس چل رہی ہیں تو یہ انتہائی منافع بخش روٹ ہو گا۔ بے شک اس کو پبلک پرائیوٹ پارٹنر شپ سے چلایا جائے۔ جھنگ کی سیم نہر کو پختہ کیا جائیں اور اس پر واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس لگائے جائیں ہمارے ملک میں سرمایہ کار کا اپنا قانون ہوتا ہے۔ ملز کا فاسد مواد انسان واسطے زہر ہے مگر وہ بغیر ٹریٹمنٹ کے چھوڑ کر عوام میں کینسر ہیپاٹائٹس اور گردوں کے امراض کا ذریعہ بنے ہوئے ہیں۔ جھنگ میں موجود فلٹر پلانٹس کو فنکشنل کیا جائے عوام کو صاف پانی نہیں مل رہا ہے کیونکہ یا تو فلٹر پلانٹس نہیں ہیں یا پھر ان کا فنڈ خرد برد ہو جاتا ہے اور اکثریت وہ فلٹر پلانٹ کام کر رہے جو این جی اوز کے نصب کردہ ہیں جبکہ سرکاری پلانٹ ایک بھی فنکشنل ہونا مشکل ہے جو کہ سراسر انتظامی ناکامی ہے۔ جھنگ کی تمام تحصیلوں کو ملانے والی سڑکوں کو ون وے کیا جائے۔ جھنگ شور کوٹ روڈ ون وے ہوتا تھا مگر افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے سیاسی اور ان کے حواری جو بغلیں بجاتے نظر آرہے ہیں وہ عقل و فہم سے عاری ہیں۔ پریس کانفرنس میں جھنگ ڈویژن بناؤ تحریک کے تمام ممبران اور عہیداران نے شرکت کی۔


