728 x 90

بر صغیر کی ماحول دوست مذہبی عبادت گاہیں

بر صغیر کی ماحول دوست مذہبی عبادت گاہیں

برصغیرمیں گیارہویں اور سولویں صدی میں کے دوران تمام مذاہب کی عبادت گاہیں جن میں مندر گردوارہ چرچ مسجد درگاہیں وغیرہ شامل ہیں کی تعمیر میں اس وقت کے مطابق ماحول دوست مٹیریل اور ڈیزائن کا استعمال عام ہوا تھا اس سے پہلے مندر چرچ وغیرہ کی تاریخ تو بہت پرانی ہے یہ عبادت گاہیں

برصغیرمیں گیارہویں اور سولویں صدی میں کے دوران تمام مذاہب کی عبادت گاہیں جن میں مندر گردوارہ چرچ مسجد درگاہیں وغیرہ شامل ہیں کی تعمیر میں اس وقت کے مطابق ماحول دوست مٹیریل اور ڈیزائن کا استعمال عام ہوا تھا اس سے پہلے مندر چرچ وغیرہ کی تاریخ تو بہت پرانی ہے

یہ عبادت گاہیں توانائی کے استعمال کے حوالے سے زیرو توانائی والی عمارتوں کی لسٹ میں شامل تھیں ان بارگاہوں نے صدیوں تک باہر کے ذرائع سے کوئی توانائی جو ماحول اور عبادت گاہ دونوں کو خراب کرے حاصل نہیں کی وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ توانائی کے ذرائع بدل کر جدید شکل میں اگئے تو ان عبادت گاہوں کا فعال کردار خود انصاری پر تبدیل ہو کر توانائی کے نئے ذرائع پر اگیا لیکن ابھی بھی اپ دیکھیں تو اپ کو معلوم ہوگا کہ اتنے سال گزرنے کے باوجود اج بھی توانائی کے خود انصاری کے جو ذرائع ہیں ہوا اور روشنی کے لیے وہ زیادہ موثر ہیں پاکستان ہندوستان برما بھوٹان بنگلہ دیش وغیرہ میں اج بھی یہ عبادت گاہیں اچھی حالت میں ہیں اور بہت ہی ماحول دوست ہیں اس لیے ان کو فال بنانے میں نہ تو کہیں سے کاربن کی مقدار خارج ہو کر فضا کو الودہ کرتی ہے اور نہ ہی توانائی کا ضیا ہوتا ہے لہذا ہم پورے اعتماد سے ان عمارتوں کو خود انصاری ماحول دوست اور فعال عمارتیں قرار دے سکتے ہیں

یہ عبادت گاہیں زیادہ تر ابادی سے دور و رانو پہاڑوں جنگلوں میں تعمیر کی گئی ہیں یا پرانے فصل بند شہروں کے اندر اونچے مقامات پر ان کی تعمیر ہوئی ہے اگر کسی جگہ ان عمارتوں کو مدانی علاقے میں بنایا گیا تو وہ زمین سے کافی اونچا رکھا گیا ایسے اقدامات سے ان بعض گاؤں میں ہوا کی امد و رفت یقینی ہوگی ہوا کا قدرت دباؤ اتنا تھا کہ بنا کسی مشینی ذرائع سے ہوا ان بعض گاؤں کے اندر داخل ہو کر باہر نکل سکتی تھی میں نے خود ہندوستان سمیت برش گر کے بہت سارے علاقوں کا دورہ کیا ہے جس میں مندر چرچ گردوارے صوفی درگاہ ہیں وزٹ کی ہیں جو کہ ہزاروں سال سے اپنی اصلی حالت میں ہیں وہاں پر انے والے زارین کو قدرتی ہوا فراہم کر رہی ہیں میں نے بھارت اور برما میں ایسے ایسے مندر دیکھے ہیں جن کی بلندی ہزاروں فٹ ہے اور چڑھائے بھی بہت زیادہ ہے ان میں انسان بنا کسی توانائی کے کئی سال تک رہ سکتا ہے پرانے زمانے کے محلات بھی ان قوانین کے تحت ہی بنائے جاتے تھے تاج محل لال قلعہ انڈیا شاہی قلع پاکستان سمیت بہت ساری عمارتیں ماحول دوست انوائرمنٹ فراہم کرتی ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان عمارتوں کے ارد گرد دیگر ہیں عمارتیں بنا کر ان کا حسن تباہ کر دیا گیا ہے حالانکہ ان عمارتوں کے نزدیک اس وقت کوئی اور عمارت تعمیر کرنا معیوب خیال کیا جاتا تھا جیسا کہ متحدہ ہندوستان میں کئی صوفی درد کا ہیں مربع یا ہشت پہلو سطحی پلان پر بنائی گئی ہیں یوں کشادہ صحن کے وسط میں ہونے کے سبب ان مزارات اور درگاہوں میں سے ہوا کا گزر قدرتی انداز سے ہوتا ہے اپ نے دیکھا ہوگا ہر صوفی درگاہ پر جالی نما دروازے وغیرہ بنا کر ہوا گزرنے کا بندوبست کیا جاتا تھا ان عمارتوں میں زیادہ تر مٹی چونا اور کئی قسم کی دالیں پیس کر اس کا سیمنٹ پیسٹ بنا کر عمارت کو بنایا جاتا تھا جس سے یہ عبادت گاہیں دربار وغیرہ ٹھنڈی اور گرم دونوں حالت میں انسان کو راحت فراہم کرتی تھی ان بعض عبادت گاہوں پر انے والے کیونکہ اللہ بھگوان گرو کے مہمان ہوتے ہیں اس لیے ان کی تعمیر میں مہمانوں کو راحت فراہم کرنے والے عوامل کو مد نظر رکھا جاتا تھا اج جدید دور میں مندر چرچ گردوارے مسجدیں وغیرہ میں انے والے مہمانوں کو جو عبادت کرنے دور دراز سے اتے ہیں ان کی سہولیات کے لیے اے سی لائٹ پکے ہیٹر وغیرہ کا استعمال عام بات ہو گئی ہے بر صغیر میں ان عبادت گاہوں پر انے والے مہمانوں کے لیے پانی کی فراہمی کے لیے زیر زمین کنویں کھودے جاتے تھے اور ڈوری یا رسی کے ذریعے ڈور لگا کر پانی نکالا جاتا تھا اور استعمال میں احتیاط برتی جاتی تھی اس لیے پمپ یا انجن کی ایجاد اس سے پہلے غیر ضروری توانائی کا استعمال محب نہ بنتا تھا استعمال شدہ ہواؤں کو ان عبادت گاہوں سے خارج کرنے کے لیے تمام عبادت گاہوں کے درمیان میں گنبد نما زرعی حصے میں کھڑکیاں اور روشندان بنائے جاتے تھے جن سے استعمال شدہ ہیں ہوائیں ہلکی ہو کر اوپر اٹھتی تھی اور ان روشندانوں سے باہر خارج ہو جاتی تھیں اور اس کی جگہ تازہ ہوا قدرتی بہاؤ سے اندر داخل ہو کر اپنی جگہ بنا لیتی تھی اس طریقے سے ہوا کے بہاؤ کا قدرتی نظام واضح ہو جاتا تھا جس کے لیے کوئی مشنری کا استعمال نہیں ہوتا لہذا کوئی توانائی اس عمل میں استعمال نہیں ہوتی اس نسبت سے مزارات عبادت گاہوں مسجد مندر چرچ گرجے گردوارے ان سب کو زیرو توانائی استعمال کرنے والی عمارتیں قرار دیا جا سکتا ہے ان ان عمارتوں میں تعمیر کے لیے جو سامان استعمال ہوتا تھا وہ مٹی کی بیرونی دیواریں پھر بیرونی اور اندرونی اطراف دیواروں پر پختہ اینٹوں کا استعمال ہوتا مٹی کی دیواریں کسی قسم کی گرمی کو اندر جانے سے روکتی تھیں کھڑکیوں اور دروازوں کا سائز بھی کم رکھا جاتا تھا بیرون حصے پر چونے کا مصالحہ اس کی کلی کر کے سفید رنگ کے سبب سورج کی شعائیں زیادہ سے زیادہ واپس چلی جاتی دیواروں میں کم جذب ہوتی جس سے ہمارا ٹھنڈی رہتی اس کے مقابلے میں اج کی عمارتیں سیمنٹ اور پختہ اینٹوں سے تعمیر ہوتی ہیں گرمیوں میں بہت گرم اور سردیوں میں بہت جلد ٹھنڈی ہو جاتی ہیں

ان میں سے سورج کی گرمی گزر کر بہت زیادہ اندرونی ماحول کو گرم کر دیتی ہیں کئی پرانی عبادت گاہوں میں لکڑی کی چھت بھی اپ کو جو نظر اتی ہے اس سے کم سے کم درجہ حرارت اندر کمروں میں جاتا تھا ان عبادت گاہوں میں درخت بہت زیادہ تعداد میں لگائے جاتے تھے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کاٹ کر عمارتوں میں توثیق کی جاتی رہی ہے جب سنگ مرمر کا استعمال شروع ہوا تو تو ان عمارتوں کے صحن میں سایہ دار درختوں کو جو صدیوں سے موجود تھے یہ بہانہ بنا کر کاٹ دیا جاتا ہے کہ ان سے سنگ مر مر کےفرش پر پرندوں اور پتوں کی وجہ سے صفائی نہیں رہتی اور درختوں کی جڑیں فرش کو توڑ دیتی ہیں فرش تو پختہ ہو گئے مگر گرمی کی وجہ سے ان سنگ مرمر پر چلنا بہت مشکل ہو گیا ہے اب سائے کے لیے ان عبادت گاہوں پر شامیان نے چھتریاں وغیرہ لگائی گئی ہیں اور کئی جدید عمارتوں پر فائبر گلاس لگا کر ان عمارتوں کے ماحول کو مزید گرم کر دیا گیا ہے ان عبادت گاہوں پر جو درخت ہوتے تھے وہ دن میں اکسیجن خارج کرتے اور رات کو کاربن ڈائی اکسائیڈ خارج ہوتی تھی قدرتی ماحول قدیم طرز تعمیر نے اور عبادت گاہوں پر انے والوں کو وقت کے ساتھ ساتھ حاضری کے اوقاف میں تبدیلی نے عبادت گاہوں کو کئی صدیوں تک ماحول دوست اور خود انصار بنائے رکھا لیکن جدید دنیا نے انسان کی عبادت گاہ کو تبدیل کر دیا جو ماحول دوست فضا ان عبادت گاہوں کی ہوتی تھی اس کو نئی طرز تعمیرات نئی رسومات بدلتی ہوئی سماجی و مذہبی اقتدار نے ان ماحول دوست عبادت گاہوں کا حلیہ تبدیل کر کے رکھ دیا ہے قدرت کے قوانین کے ساتھ ساتھ مذہب اور عبادت کے قوانین کو بھی بدل دیا گیا ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان کم از کم اپنی عبادت گاہ کی جگہ کو قدرتی ماحول میں واپس لانے کی کوشش کر سکتا ہے جو اج کے حالات میں اہم ضروری ہے دنیا بھر میں ماحول کی تبدیلی اور دیگر عوامل نے انسان کی تباہی کا سامان پیدا کیا ہے ائے روز کے سونامی طوفان زلزلے سلاب یہ سب قدرت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے نتیجے ہیں انسان نے دیگر ضروریات زندگی کے ساتھ ساتھ اپنی عبادت گاہ کو بھی خراب کر دیا ہے ہزاروں سالوں سے بنی ہوئی عبادت گاہیں اج بھی زائرین کو راحت اور سکون فراہم کرتی ہیں

یہ تحریر مصنف کی ذاتی آراء اور تحقیق پر مبنی ہے جس سے دی جھنگ ٹائمز کا متفق ہونا ضروری نہیں

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos