پیکا ایکٹ کے خلاف یوم سیاہ ملک بھر کی طرح پریس کلب جھنگ پر بھی سیاہ پرچم لہرا گیا
پیکا ایکٹ کے خلاف یوم سیاہ ملک بھر کی طرح پریس کلب جھنگ پر بھی سیاہ پرچم لہرا گیا ،جھنگ یونین آف جرنلسٹ کے صدر شریف طاہر کا کہنا تھا کہ جھوٹی خبروں (Fake…

پیکا ایکٹ کے خلاف یوم سیاہ ملک بھر کی طرح پریس کلب جھنگ پر بھی سیاہ پرچم لہرا گیا ،جھنگ یونین آف جرنلسٹ کے صدر شریف طاہر کا کہنا تھا کہ جھوٹی خبروں (Fake News) کے کئی خطرناک نتائج ہو سکتے ہیں، لیکن انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس کے سدباب کے لیے بنائے گئے قوانین کو آزادی اظہار کے آئینی حق کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ مبہم اور وسیع تعریفات کے ذریعے اختلاف رائے کو دبانے کے خدشات بھی سامنے آئے۔ مزید برآں، اس قانون کے تحت کسی بھی شخص کو شکایت درج کرانے کا اختیار دینا اس کے غلط استعمال کا سبب بن سکتا ہے۔ صحافی برادری کسی بھی طور اس کالے قانون کو تسلیم نہیں کرے گئی اور اس کے خاتمے تک صحافیوں کا احتجاج جاری رہے گا، صدر پریس کلب لیاقت علی انجم کا کہنا تھا یہ قانون آزادی اظہاررائے پر قدغن ہے اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ماضی میں اس قانون کی مخالفت کرنے والی سیاسی جماعتوں نے اب اسے منظور کرنے میں کوئی دیر نہیں لگائی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ یہ جماعتیں اپنی پوزیشن واضح کریں اور آزادی اظہار پر سمجھوتہ کرنے پر جوابدہ ہوں۔اس قانون کے خاتمہ تک ہمارا احتجاج جاری رہے گا۔


