برائلر ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال کی گئی
جھنگ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور بلاجواز جرمانوں ایف ائی ار کے خلاف برائلر ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال کا اعلان کردیا گیا حکومتی ریٹ لسٹ پر برائلر فروخت نہیں کر…

جھنگ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے مبینہ طور بلاجواز جرمانوں ایف ائی ار کے خلاف برائلر ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال کا اعلان کردیا گیا حکومتی ریٹ لسٹ پر برائلر فروخت نہیں کر سکتے صدر پولٹری فارم ایسوسی ایشن ماڈل بازار میں لگائے گئے برائلر گوشت کے سٹال بھی ختم کر دیے گئے ذرائع جھنگ عوام روزے کی حالت میں گوشت کے حصول کے لیے در بدر اعلی حکام سے نوٹس کا مطالبہذرائع کے مطابق گزشتہ کئی روز سے بریلر مرغ والے سرکاری ریٹ کی بجائے مہنگے داموں بریلر گوشت فروخت کر رہے تھے عوام کی طرف سے احتجاج کرنے اور میڈیا پر خبریں چلنے پر بریلر ایسوسییشن نے اج ہڑتال کی کال دے دی جس میں شہر بھر میں تمام دکانوں نے اپنی دکانیں بند کر دیں کئی دکانداروں سے جب بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ انتظامیہ نے چند روز سے ہمارے دکانداروں پر ایف ائی ار اور جرمانے کرنے شروع کر دیے ہیں جو کہ بلا جواز ہیں اس لیے ہم پولٹری والے اپنی دکانیں بند کر رہے ہیں جب تک انتظامیہ کے افسران بلا جواز مقدمات اور جرمانے کرنے سے باز نہیں اتے اس وقت تک ہڑتال رہے گی ہڑتال کا دائرہ اختیار ضلع بھر میں کر دیا گیا ہے دوسری طرف انتظامیہ کا موقف ہے کہ سرکاری ریٹ میں دکانداروں کو اچھا خاصا پرافٹ ہے لیکن اس کے باوجود کئی دکاندار پریلر مرغی مہنگے دام فروخت کر رہے ہیں اور میڈیا بھی روزانہ کی بنیاد پر شور مچا رہا ہے کہ بریلر مرغے والوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کیا ہوا ہے اس لیے ایسی کاروائی کرنی بہت ضروری تھی مرغے والے ایک مافیا بن چکی ہے رمضان کے مقدس مہینے میں مرغا گوشت عام ادمی کی پہنچ سے دور ہوتا جا رہا ہے انتظامیہ کے اس فیصلے کو سرایا جاتا ہے اگر عوام چند دن گوشت نہیں کھائے گی تو یہ ریٹ کم کرنے پر مجبور ہو جائیں گے بھی معلوم ہوا ہے کہ وزیراعلی کی طرف سے ارڈر ہے کہ 591 سے زیادہ نہیں بکنا چاہیےاگر اس ریٹ سے زیادہ مرغا بکا تو اس ضلع کا ڈپٹی کمشنر ذمہ دار ہوگا دوسری طرف کنٹرولر شیڈ فارم والوں نے میڈیا کو بتایا کہ لاہور والے ہمیں چوزا بہت مہنگا دیتے ہیں خوراک بھی بہت مہنگی ہے ہمارا روزانہ کا خرچہ کئی لاکھ روپے ہے ہم یہ نقصان کب تک برداشت کریں گے حکومت کو پولٹری فارم والے چوزوں والے اور خوراک بنانے والوں سے مذاکرات کرنے چاہیے تاکہ عوام کا نقصان نہ ہو اور پولٹری والوں کا بھی کوئی نقصان نہ ہو عوامی حلقوں کا انتظامیہ کو خراج تحسین


