خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
پاکستان اور ترکیہ کے درمیان لائیو اسٹاک اور ویکسین کی مقامی تیاری میں تکنیکی تعاون پر اہم پیشرفتپاکستان بیس سال بعد سمندر میں تیل و گیس کی تلاش کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کرے گاپاکستان کا اقوامِ متحدہ کی عبوری فورس برائے ابیئی کیلئے اپنی بھرپور حمایت کا اعادہطالبان رجیم کی تعلیم دشمن پالیسیوں نے افغانستان کی نئی نسل کا مستقبل تباہی کے دہانے پرپہنچا دیاجھنگ میں دو ٹریفک حادثات، موٹرسائیکلوں کے تصادم میں 3 افراد زخمی، تیز رفتار موٹرسائیکل کی ٹکر سے 65 سالہ خاتون جاں بحق،ریسکیوپاکستان، برطانیہ کا انسداد دہشت گردی، منشیات اور سائبر جرائم کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاقوزیراعظم کی ملک بھر میں انٹرنیٹ کی دستیابی اور ٹیکنالوجی تک آسان رسائی یقینی بنانے کی ہدایتریسکیو 1122 جھنگ کے تمام اسٹیشنز پر اہلکاروں کے ماہانہ فزیکل فٹنس ٹیسٹ، ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے جسمانی استعداد کا جائزہ لیا گیا
معیشت

وفاقی وزیر مصدق ملک کا ماحولیاتی تحفظ کیلئے استعمال شدہ کپڑوں کی تجارت کو فروغ دینے پر زور

وفاقی وزیر مصدق ملک نے ماحولیاتی تحفظ کیلئے استعمال شدہ کپڑوں کی تجارت کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔ یہ بات انہوں نے پاکستان میں دائرہ کار معیشت اور استعمال شدہ کپڑوں کی…

وفاقی وزیر مصدق ملک کا ماحولیاتی تحفظ کیلئے استعمال شدہ کپڑوں کی تجارت کو فروغ دینے پر زور

وفاقی وزیر مصدق ملک نے ماحولیاتی تحفظ کیلئے استعمال شدہ کپڑوں کی تجارت کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔

یہ بات انہوں نے پاکستان میں دائرہ کار معیشت اور استعمال شدہ کپڑوں کی تجارت سے متعلق ایک اہم مشاورتی اجلاس کے دوران کہی جو ایک غیر سرکاری تنظیم نے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) اور یورپی یونین کے اشتراک سے اسلام آباد میں منعقد کیا۔

اجلاس میں ماحولیاتی عمل، دائرہ معیشت، اور جامع ترقی کے باہمی تعلقات پر گفتگو ہوئی۔

وفاقی وزیر ماحولیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی مصدق ملک نے کہا کہ عالمی فیشن انڈسٹری فضلے کے سب سے بڑے ذرائع میں سے ایک ہے جہاں ہر سال لاکھوں ٹن کپڑے لینڈ فلز (کوڑے کے بڑے مراکز) میں پھینک دیے جاتے ہیں تاہم استعمال شدہ کپڑوں کی تجارت کو فروغ دے کر اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ری سائیکلنگ یعنی دوبارہ استعمال اور اپ سائیکلنگ کے ذریعے کپڑوں کی عمر میں اضافہ کیا جا سکتا ہے جس سے فضلے کی مقدار میں نمایاں کمی آئے گی۔

وزیر مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان میں استعمال شدہ کپڑوں کی تجارت اب صرف ایک تجارتی سرگرمی نہیں بلکہ ماحولیاتی حفاظت، سماجی انصاف اور معاشی پائیداری کی ایک مثال بن چکی ہے۔ 2024 میں پاکستان کی استعمال شدہ ٹیکسٹائل کی برآمدات 283 ملین امریکی ڈالر سے تجاوز کر گئیں جو 2023 میں 255 ملین ڈالر تھیں۔ پاکستان دنیا کے تین بڑے استعمال شدہ کپڑوں کے دوبارہ برآمد کرنے والے ممالک میں شامل ہے جو ملک کی کل ٹیکسٹائل برآمدات کا تقریباً 60 فیصد ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں درآمد کیے گئے استعمال شدہ کپڑوں کا صرف 1% سے بھی کم لینڈ فلز میں جاتا ہے۔ فیصل آباد ملک کے 85% سے زائد ٹیکسٹائل فضلے کو پروسیس کرتا ہے۔ محدود وسائل کے باوجود پاکستان نے کچرے کو وسائل میں بدلنے میں غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے جو عالمی ماحولیاتی اقدام میں ایک بڑا حصہ ہے۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں