صنفی بنیاد پر تشدد ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ ہے جو پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں رپورٹ ہو رہا ہے۔سماجی دباؤ، قانونی پیچیدگیوں اور بدنامی کے خوف کے باعث صنفی بنیاد پر تشدد کے متعدد متاثرین سامنے نہیں آ پاتے۔
صنفی بنیاد پر تشدد ایک سنجیدہ سماجی مسئلہ ہے جو پاکستان سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں رپورٹ ہو رہا ہے۔سماجی دباؤ، قانونی پیچیدگیوں اور بدنامی کے خوف کے باعث صنفی بنیاد پر تشدد کے متعدد متاثرین سامنے نہیں آ پاتے۔
صنفی بنیاد پر تشدد پر خاموشی کیونکر ہے ۔ اس سے متعلق عالمی و ملکی اعداد و شمار اور متاثرین کی خاموشی کی وجوہات پر رپورٹس کیا کہتیں ہیں ۔
عالمی سطح پر صنفی بنیاد پر تشدد کے اعداد و شمار
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق صنفی بنیاد پر تشدد دنیا بھر میں خواتین کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق تقریباً 840 ملین خواتین نے اپنی زندگی میں جسمانی یا جنسی تشدد کا سامنا کیا ہے۔ گزشتہ ایک سال میں 316 ملین خواتین شریکِ حیات کی جانب سے تشدد کا شکار ہوئیں۔ مزید یہ کہ 263 ملین خواتین کو 15 سال کی عمر کے بعد غیر ازدواجی جنسی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ بعض خطوں میں صنفی بنیاد پر تشدد کی شرح عالمی اوسط سے کئی گنا زیادہ ہے۔
پاکستان کی موجودہ صورتحال
پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد ایک تشویشناک سماجی مسئلہ بنتا جا رہا ہے
۔ پاکستان ڈیموگرافک اینڈ ہیلتھ سروے کے مطابق 28 فیصد خواتین جسمانی جبکہ 6 فیصد جنسی تشدد کا شکار ہوئیں۔ شادی شدہ خواتین میں 34 فیصد نے ازدواجی صنفی بنیاد پر تشدد کی مختلف شکلوں کا سامنا کیا۔
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے مطابق ملک میں 90 فیصد خواتین کو زندگی میں کسی نہ کسی مرحلے پر صنفی بنیاد پر تشدد برداشت کرنا پڑا۔ عالمی اقتصادی فورم کی رپورٹ بتاتی ہے کہ 85 فیصد شادی شدہ خواتین شریک حیات کی جانب سے تشدد کا شکار رہیں۔
صنفی بنیاد پر تشدد اور متاثرین کی خاموشی کی وجوہات
پاکستان میں صنفی بنیاد پر تشدد کے متاثرین اکثر سماجی دباؤ اور بدنامی کے خوف کے باعث خاموش رہتے ہیں۔ روایتی سوچ خواتین کو ہی قصوروار ٹھہراتی ہے، جس سے متاثرین آواز اٹھانے سے گریز کرتی ہیں۔
اس حوالے سے تشدد کا شکار خواتین خاندان کے بکھرنے، بچوں کے مستقبل اور مالی انحصار کی وجہ سے خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔ طلاق کو معیوب سمجھا جانا اس خاموشی کو مزید مضبوط کرتا ہے۔
اگرچہ پاکستان میں اس کے خلاف قوانین موجود ہیں، لیکن متاثرین کو انصاف حاصل کرنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ قانونی نظام پر عدم اعتماد بھی خاموشی کی ایک بڑی وجہ ہے۔
یہ خواتین کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات چھوڑتا ہے۔ خوف، شرمندگی اور کم خود اعتمادی متاثرین کو بولنے سے روکتی ہے۔
صنفی بنیاد پر تشدد کے خلاف خاموشی توڑنا کیوں ضروری ہے؟
اس کے خلاف قوانین کا سخت نفاذ،آگاہی ، تعلیم، متاثرین کے لیے محفوظ شکایتی نظام،کے ساتھ ساتھ اس خلاف سماجی رویوں میں تبدیلی اور اس کے متاثرین کے لیے نفسیاتی مدد کرنا بھی ضروری ہے۔
اہم نکتہ
صنفی بنیاد پر تشدد صرف ایک فرد کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کا بحران ہے۔ جب تک متاثرین خاموش رہیں گے اس کا خاتمہ ممکن نہیں۔ ایک محفوظ اور منصفانہ معاشرے کے لیے اب اس کے خلاف آواز اٹھانا ناگزیر ہے۔
ملائکہ خانم صحافت کی طالبہ ہیں اور مختلف سماجی اور معاشرتی موضوعات پر لکھتیں ہیں


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *