728 x 90

اقوامِ متحدہ کے مالی بحران سے امن مشنز متاثر ہو رہے ہیں، پاکستان

اقوامِ متحدہ کے مالی بحران سے امن مشنز متاثر ہو رہے ہیں، پاکستان

پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو درپیش مالی بحران براہِ راست امن مشنز کو متاثر کر رہا ہے، جس کے باعث گشت، نقل و حرکت اور فیلڈ میں موجودگی کم ہو رہی ہے۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں مینڈیٹ پر عملدرآمد، شہریوں کے تحفظ، تشدد کی روک تھام اور امن اہلکاروں

پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ اقوامِ متحدہ کو درپیش مالی بحران براہِ راست امن مشنز کو متاثر کر رہا ہے، جس کے باعث گشت، نقل و حرکت اور فیلڈ میں موجودگی کم ہو رہی ہے۔ اس صورتِ حال کے نتیجے میں مینڈیٹ پر عملدرآمد، شہریوں کے تحفظ، تشدد کی روک تھام اور امن اہلکاروں کی سلامتی و تحفظ پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

اسپیشل کمیٹی آن پیس کیپنگ آپریشنز کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے امن مشنز بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے ناگزیر ذریعہ ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ مشنز اس وقت بڑھتے ہوئے سیاسی، عملیاتی اور مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جس کے لیے اجتماعی غور و فکر اور مؤثر اقدام کی ضرورت ہے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے قدیم ترین امن مشنز میں سے ایک، یونائیٹڈ نیشنز ملٹری آبزرور گروپ اِن انڈیا اینڈ پاکستان (UNMOGIP) کی میزبانی کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان گزشتہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے امن مشنز کے لیے سب سے بڑے اور مسلسل دستے فراہم کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے، اور اب تک 2 لاکھ 50 ہزار سے زائد پاکستانی امن اہلکار چار براعظموں میں 48 مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے پرچم تلے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے 182 پاکستانی امن اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

انہوں نے خبردار کیا کہ قابلِ پیشگوئی مالی وسائل، جو کبھی سب سے بڑی طاقت تھے، اب سب سے بڑا چیلنج بن چکے ہیں، اور ہنگامی اقدامات کے تحت مختلف مشنز میں فوجی اور سویلین عملے میں کمی کی جا رہی ہے۔ پاکستانی مندوب نے امن مشنز کے مالیاتی ڈھانچے کا سنجیدہ اور منظم جائزہ لینے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ فنڈنگ کو پائیدار، قابلِ پیشگوئی اور مینڈیٹس سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔

اصلاحات کو ناگزیر قرار دیتے ہوئے مستقل مندوب نے کہا کہ امن مشنز کو زیادہ فعال، مرکوز اور بدلتے ہوئے خطرات سے نمٹنے کے لیے بہتر طور پر لیس ہونا چاہیے، جس میں ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال اور مضبوط شراکت داریاں شامل ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کا تحفظ، خلاف ورزیوں کی روک تھام، اور جنگ بندی کی نگرانی و تصدیق بنیادی ذمہ داریاں ہیں، اور سیاسی پیش رفت کی کمی کو مشنز کے خاتمے کا جواز نہیں بنایا جانا چاہیے۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos