ایران مذاکرات سے متعلق نیویارک پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے مذاکرات کا اگلا دور آئندہ 2روز میں پاکستان میں ہو سکتا ہے اور ایران سے بات چیت کیلئے ہمارے وفد کا پاکستان جانے کا امکان ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان میں اگلا دور ہونے کی وجہ یہ
ایران مذاکرات سے متعلق نیویارک پوسٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران سے مذاکرات کا اگلا دور آئندہ 2روز میں پاکستان میں ہو سکتا ہے اور ایران سے بات چیت کیلئے ہمارے وفد کا پاکستان جانے کا امکان ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ پاکستان میں اگلا دور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ فیلڈ مارشل بہت اچھا کام کر رہے ہیں فیلڈ مارشل زبردست ہیں اور اس لیے امکان ہے ہم دوبارہ اسلام آباد جائیں۔
ٹرمپ نے صحافی کو مشورہ دیا کہ آپ کو وہاں رہنا چاہیے اگلے دو دنوں میں کچھ ہو سکتا ہے وہاں جانے کا امکان زیادہ ہے پتہ ہے کیوں؟ کیونکہ فیلڈ مارشل بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔
کسی اور ملک میں مذاکرات کے امکان کو مسترد کرتے ہوئے ٹرمپ نے دوٹوک کہا کہ ہم ایسے ملک میں کیوں جائیں جس کا اس معاملےسے کوئی تعلق نہیں۔
پاکستان کی ثالثی میں امریکہ اور ایران کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے حل کے لیے سفارتی سرگرمیاں ایک بار پھر تیز ہو گئی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حکام موجودہ جنگ بندی کی مدت ختم ہونے سے پہلے ایران کے ساتھ دوسری براہِ راست ملاقات پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کابینہ کے اہم ارکان اس وقت ایرانی حکام کے ساتھ ممکنہ “ذاتی ملاقات” کے ایجنڈے اور مقام پر تبادلہ خیال میں مصروف ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کا یہ دوسرا راؤنڈ بھی اسلام آباد میں ہونے کا قوی امکان ہے، تاہم عمان یا مشرقِ وسطیٰ کے کسی اور ملک کو بھی بطور متبادل زیرِ غور رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب امریکی اخبار ‘نیویارک ٹائمز’ نے ایک اہم رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے پہلے دور کے مذاکرات کے دوران ایران نے پانچ سال کے لیے یورینیم کی افزودگی معطل کرنے کی پیشکش کی تھی۔ تاہم، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیشکش کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کم از کم 20 سال تک یورینیم کی افزودگی مکمل طور پر روک دے اور اپنا پہلے سے موجود انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ بیرونِ ملک منتقل کرے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *