پنجاب میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے حالیہ برسوں میں متعدد اعلانات اور اقدامات سامنے آئے ہیں۔تاہم جب ان اقدامات کے عملی نتائج کا جائزہ لیا جائے تو کئی سنجیدہ سوالات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔
پنجاب میں اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے حالیہ برسوں میں متعدد اعلانات اور اقدامات سامنے آئے ہیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی اقلیت دوست پالیسی اور انکی جانب سے اقلیتوں کے لیے خطیر بجٹ مختص کرنا بلاشبہ ایک مثبت پیش رفت ہے جو حکومتی نیت اور ترجیحات کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم جب ان اقدامات کے عملی نتائج کا جائزہ لیا جائے تو کئی سنجیدہ سوالات ابھر کر سامنے آتے ہیں۔
بجٹ کا مؤثر استعمال اور زمینی حقائق
یہ سوالات اس وقت مزید تقویت اختیار کرتے ہیں جب ساہیوال سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکن اشکناز کھوکھر کی جانب سے معلومات تک رسائی کے حق کے قانون کے تحت دی گئی درخواست کے جواب میں وزارتِ انسانی حقوق و اقلیتی امور پنجاب خود یہ اعتراف کرتی ہے کہ گزشتہ مالی سال میں 4000 ملین روپے کے بجٹ میں سے صرف 1290.678 ملین روپے ہی خرچ کیے جا سکے۔ یہ محض ایک عددی فرق نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ وسائل ہونے کے باوجود ان کا مؤثر استعمال یقینی نہیں بنایا جا سکا۔ جب فنڈز دستیاب ہوں مگر اقلیتی بستیاں بنیادی سہولیات سے محروم رہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ رکاوٹ کہاں ہے؟ کیا منصوبہ بندی کمزور تھی، یا عملدرآمد میں سنجیدگی کا فقدان رہا؟
نمائندگی اور پارلیمانی تشویش
محکمہ کے اندر 78 ملازمین میں سے صرف 5 اقلیتی افراد کی موجودگی بھی اس تاثر کو مضبوط کرتی ہے کہ نمائندگی اور شمولیت کے دعوے زمینی حقیقت سے ہم آہنگ نہیں۔ پنجاب اسمبلی میں بھی یہ معاملات زیر بحث آئے جہاں اکثریتی پارلیمنٹیرینز نے اقلیتی حقوق کے مسائل کو بھرپور انداز میں اٹھایا۔ اس موقع پر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان نے بھی غیر معمولی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر مسیحی بستیاں رہنے کے قابل نہیں اور وہاں کے رہائشی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں تو محض عبادت گاہوں پر فنڈز خرچ کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ان کا مؤقف تھا کہ سب سے پہلے انسانی بنیادی ضروریات کو یقینی بنایا جائے اس کے بعد دیگر اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے مزید زور دیا کہ متعلقہ وزارت کو اپنے دفاتر سے باہر نکل کر زمینی حقائق کا جائزہ لینا چاہیے اور متاثرہ بستیوں سے براہ راست معلومات لے کر عملی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔
اقلیتی فلاح و بہبود اور بنیادی سہولیات
اقلیتی فلاح کے لیے متعارف کردہ 8 اسکیمیں اپنی جگہ اہم ہو سکتی ہیں مگر جب چھوٹے اضلاع اور دور دراز علاقوں میں اقلیتی بستیاں، صاف پانی، گندگی، صفائی ستھرائی، سیوریج، سوئی گیس، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہوں تو یہ اسکیمیں اپنی افادیت کھو دیتی ہیں۔
مسیحی کمیونٹی کو درپیش مسائل، خصوصاً کرسمس اور ایسٹر فنڈ جیسے اقدامات، وقتی ریلیف تو فراہم کرتے ہیں مگر یہ غربت کے مستقل حل کا متبادل نہیں۔ مزید برآں، آن لائن نظام کے ذریعے فنڈز کی تقسیم میں شفافیت اور چیک اینڈ بیلنس کے فقدان نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔
قبرستانوں کے مسائل اور انتظامی ناکامی
قبرستانوں کے مسائل بھی ایک اہم مسئلہ ہیں جہاں واضح ہدایات کے باوجود عملی اقدامات نہ ہونے کے باعث آج بھی مسیحی برادری کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ تحصیل جھنگ میں فیصل آباد روڈ پر واقع برطانوی دور 140 سال قبل از تعمیر ہونے والا قبرستان آج بھی اپنی حالت زار پر رو رہا ہے جہاں پر قبرستان کی نئی جگہ نہ ملنے کی وجہ سے قبروں کے اوپر قبریں بنائی جا رہی ہے اور کئی سالوں سے پنجاب حکومت اور ضلعی حکومت کو اس کی نشاندہی کی گئی ہے لیکن یہ مسئلہ آج تک حل نہیں ہوا۔
اسی طرح 2019 میں قائم کی گئی ضلعی انسانی حقوق کمیٹیاں جو ایک مؤثر نظام بن سکتی تھیں بدقسمتی سے غیر فعال ہو چکی ہیں۔ نہ ان کے اجلاس ہوئے، نہ انہیں وسائل دیے گئے اور نہ ہی وزارت کی سپورٹ کے بغیر ضلعی سطح پر ان کا کوئی عملی کردار نظر آیا۔ یہ ایک اہم ادارہ جاتی موقع کا ضیاع ہے۔
تعلیمی اسکالرشپ اور شفافیت کا سوال
تعلیم کے میدان میں اقلیتی طلبہ کے لیے اسکالرشپ پروگرام ایک مثبت اقدام ہے مگر اس میں بھی عملی رکاوٹیں موجود ہیں خاص طور پر سکالرشپ حاصل کرنے کے لیے ڈگری ویریفکیشن فیس اور پرائیویٹ تعلیمی اداروں کے طلبہ کی شمولیت کا مسئلہ۔ ان تمام حقائق سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ ان کے مؤثر استعمال، شفافیت اور زمینی سطح پر عملدرآمد کا ہے۔ آخر میں یہ کہنا ضروری ہے کہ راقم کا مقصد محض تنقید نہیں بلکہ اقلیتی حقوق کی حقیقی پاسداری اور بہتری کو یقینی بنانا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکن اشکناز کھوکھر کی یہ درخواست اور اس پر حاصل ہونے والا سرکاری جواب ایک اہم آئینہ ہے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پالیسی اور عمل کے درمیان اب بھی ایک واضح خلا موجود ہے۔ جب تک یہ خلا پر نہیں ہوتا، تب تک ترقی کے دعوے مکمل حقیقت کا روپ نہیں دھار سکتے۔
آصف منور سماجی کارکن ہیں اور سماجی اور معاشرتی موضوعات پر لکھتے ہیں

یہ تحریر مصنف کی ذاتی آراء اور تحقیق پر مبنی ہے ادارہ دی جھنگ ٹائمز کا اس تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *