جھنگ میں کسان تنظیموں کے رہنماؤں نے پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کسانوں اور زراعت کو تباہ کرنے پر ت±لی ہوئی ہے۔ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگی کھادوں ، غیر معیاری زرعی ادویات اور بجلی کے میٹروں پر فکسڈ ٹیکسوں نے کسان کو شدید
جھنگ میں کسان تنظیموں کے رہنماؤں نے پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کسانوں اور زراعت کو تباہ کرنے پر ت±لی ہوئی ہے۔ ڈیزل اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگی کھادوں ، غیر معیاری زرعی ادویات اور بجلی کے میٹروں پر فکسڈ ٹیکسوں نے کسان کو شدید مشکلات میں مبتلا کر کھا ہے۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کسان رہنماو¿ں واجد علی نول، حاکم خان سیال، رمضان نول اور دیگر نے کہا کہ 5 سال قبل گندم کا ریٹ 4000 روپے فی من تھا جو آج کم ہو کر 3500 روپے رہ گیا ہے یہی حال دیگر اجناس کا ہے جبکہ اسی دوران ڈیزل، بیج اور کھادوں کے نرخوں میں 5 گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اخراجات میں ہوشربا اضافے اور فصلوں کے کم نرخوں نے کسان کو مقروض کر دیا ہے۔کسان رہنماو¿ں نے بتایا کہ شوگر ملوں کے ذمہ کسانوں کے اربوں روپے کے واجبات بقایا ہیں۔ عید سر پر ہے اور کسانوں کو اپنی ہی رقوم کی وصولی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔رہنماو¿ں نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے زرعی میٹرز پر عائد فکس چارجز فوری طور پر ختم کیے جائیں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ واپس لیا جائے اور زرعی ادویات میں ملاوٹ کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔کسان رہنماو¿ں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے ان کے مطالبات منظور نہ کیے تو عید سے قبل جھنگ میں بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *