خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
پہلی تاریخی جھنگ ڈیزرٹ ریلی و تین روزہ ثقافتی فیسٹیول,11,10,9 اکتوبر رحمت آباد، تحصیل اٹھارہ ہزاری میں ہوگیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیشرفت پر تشویش کا اظہارحکومت کا تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی آڈٹ کا فیصلہپاکستان اور آسٹریا کا علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیالامریکی ناظم لاامور نٹالی بیکر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہالیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرروزیراعظم شہباز شریف کا شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہجھنگ: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کا عمل تیز کرنے کا حکم، اب تک جھنگ سے356 افراد وطن واپس بھجوائے گئے، ترجمان پولیس
جھنگ

وفاقی بجٹ سرمایہ دارانہ سوچ کا عکاس، امیر طبقے کو ریلیف اور غریب کو نظر انداز کیا گیا، شہباز احمد گجر ایڈووکیٹ

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن شہباز احمد گجر ایڈووکیٹ نے وفاقی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے روایتی سرمایہ دارانہ بجٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں…

وفاقی بجٹ سرمایہ دارانہ سوچ کا عکاس، امیر طبقے کو ریلیف اور غریب کو نظر انداز کیا گیا، شہباز احمد گجر ایڈووکیٹ

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی مجلسِ شوریٰ کے رکن شہباز احمد گجر ایڈووکیٹ نے وفاقی بجٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے روایتی سرمایہ دارانہ بجٹ قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں امیر طبقے کو نوازنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ عام آدمی اور کم آمدنی والے طبقات کے مسائل کو نظر انداز کیا گیا ہے۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ غیر ملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کے خاتمے کی تجویز اور دیگر مراعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ حکومت نے صاحبِ ثروت طبقے کو فائدہ پہنچانے کی پالیسی اپنائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاگیرداروں پر کوئی مؤثر ٹیکس عائد نہیں کیا گیا، حالانکہ اس شعبے سے 10 کھرب روپے سے زائد آمدن حاصل کی جا سکتی تھی۔

شہباز احمد گجر نے کہا کہ حکومت نے یہ واضح نہیں کیا کہ بجٹ خسارے کو کس طرح پورا کیا جائے گا۔ ان کے مطابق بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے نئے قرضے لینے اور مزید کرنسی نوٹ چھاپنے کا راستہ اختیار کیا جا سکتا ہے، جس سے افراطِ زر میں اضافہ اور مہنگائی میں مزید شدت پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کا سب سے زیادہ بوجھ غریب اور متوسط طبقے پر پڑے گا، جبکہ عوام کی قوتِ خرید مزید متاثر ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ایسے اقدامات کیے گئے ہیں جو مشکلات میں اضافہ کر سکتے ہیں۔

جے یو آئی رہنما نے مزید کہا کہ بجٹ میں تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں کو بری طرح نظر انداز کیا گیا ہے، حالانکہ قومی ترقی اور انسانی وسائل کی بہتری کے لیے ان شعبوں میں زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت تھی۔ انہوں نے موجودہ بجٹ کو ایک ناقص معاشی دستاویز قرار دیتے ہوئے حکومت سے عوام دوست پالیسیوں کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں