جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی مجلس شوریٰ کے مرکزی رکن شہباز احمد گجر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بجلی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کیے بغیر ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانا ممکن نہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کی مجلس شوریٰ کے مرکزی رکن شہباز احمد گجر ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ بجلی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں کمی کیے بغیر ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی پر قابو پانا ممکن نہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے پیٹرولیم لیوی واپس لی جائے، بجلی کے نرخ کم کیے جائیں اور آئی پی پیز کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر ازسرنو نظرثانی کی جائے۔
اپنے ایک بیان میں شہباز احمد گجر ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت کی جانب سے فی لیٹر پیٹرول پر تقریباً 125 روپے پیٹرولیم لیوی وصول کرنا عوام پر غیرمنصفانہ مالی بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی موجودہ لہر میں عام شہری پہلے ہی شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں بھاری ٹیکس اور لیویز عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں (آئی پی پیز) کے ساتھ کیے گئے معاہدوں پر فوری نظرثانی کی جائے۔ ان کے بقول، ان کمپنیوں نے کیپیسٹی چارجز کی مد میں اربوں ڈالر وصول کیے، جس کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل ہوا اور اس کے نتیجے میں بجلی کے نرخوں میں مسلسل اضافہ اور گردشی قرضوں میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔
شہباز احمد گجر ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ عوامی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے بجلی، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں فوری کمی کا اعلان کرے تاکہ مہنگائی کے ستائے ہوئے شہریوں کو حقیقی ریلیف مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام کا راستہ عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے نہیں بلکہ بنیادی اشیائے ضروریہ اور توانائی کی قیمتوں میں کمی سے ہموار ہوگا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت نے عوام کو فوری ریلیف فراہم کرنے کے لیے مؤثر اقدامات نہ کیے تو عوام کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ حکمرانوں سے جواب طلب کریں اور ان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر عوامی مفاد میں معاشی پالیسیاں اختیار کرے تاکہ مہنگائی کے بحران پر قابو پایا جا سکے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *