کیا وجہ ہے کہ معصوم بچوں کےساتھ جنسی جرائم میں ملوث ملزمان پکڑے جاتے ہیں بسا اوقات سزا بھی ہوجاتی ہے لیکن پھربھی ایسے جرائم کی شرح کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتی جارہی ہے؟
پاکستان میں بچوں کے ساتھ بڑھتے ہوئے جنسی جرائم ہری پور کی آیت نور سے لے کر ڈارک ویب تک ایک جامع تحقیقاتی رپورٹ
کیا وجہ ہے کہ معصوم بچوں کےساتھ جنسی جرائم میں ملوث ملزمان پکڑے جاتے ہیں بسا اوقات سزا بھی ہوجاتی ہے لیکن پھربھی ایسے جرائم کی شرح کم ہونے کے بجائے مسلسل بڑھتی جارہی ہے؟
ساحل (Sahil) کی رپورٹ کے بنیادی حقائق
بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی معروف تنظیم ’ساحل‘ (Sahil) کی رپورٹ کے مطابق:
- روزانہ کے کیسز: پاکستان میں روزانہ کی بنیاد پر اوسطاً 9 سے زائد بچے اور بچیاں جنسی استحصال، اغوا اور تشدد کا شکار ہو رہے ہیں۔
- سال 2024 کے اعداد و شمار: 2024 کے دوران بچوں سے زیادتی کے کل 3,630 کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان کیسز میں 2023 کے مقابلے میں 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
- صنف کے اعتبار سے تقسیم: جنسی درندگی کا شکار ہونے والوں میں 53 فیصد لڑکیاں اور 47 فیصد لڑکے شامل تھے۔ انتہائی افسوسناک بات یہ ہے کہ 116 نوزائیدہ بچوں کے کیسز بھی رپورٹ ہوئے، جنہیں لاوارث یا مردہ حالت میں پایا گیا۔
- سال 2025 کا رجحان: یہ رجحان 2025 کے ابتدائی چھ ماہ میں مزید خوفناک صورت اختیار کر گیا۔ اس عرصے میں 1,956 کیسز رپورٹ ہوئے، جو کہ 2024 کے مقابلے میں 20 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔
- صوبائی شرح: سب سے زیادہ کیسز پنجاب سے رپورٹ ہوئے، جہاں مجموعی کیسز کا 73 سے 78 فیصد حصہ سامنے آیا۔ سندھ 14 سے 21 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جبکہ خیبر پختونخوا سے 4 سے 6 فیصد کیسز رپورٹ ہوئے۔ متاثرہ بچوں میں 11 سے 15 سال کی عمر کے بچے سب سے زیادہ شامل تھے۔
- مجرمان کی شناخت: تقریباً 49 فیصد واقعات میں ملزم متاثرہ بچے کا جاننے والا، مثلاً رشتہ دار، پڑوسی، استاد یا خاندانی دوست تھا، جبکہ اجنبی افراد 18 سے 20 فیصد کیسز میں ملوث تھے۔ مزید برآں، تقریباً 47 فیصد واقعات بچوں کے اپنے گھروں میں پیش آئے۔
یہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطرہ باہر کے کسی نامعلوم شخص سے زیادہ گھر، خاندان اور محلے کے اندر موجود ہے۔ والدین بدنامی اور سماجی دباؤ کے خوف سے اکثر ان جرائم کو رپورٹ کرنے سے گریز کرتے ہیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مجرمان طویل عرصے تک اپنے افعال جاری رکھتے ہیں۔
ڈارک ویب اور بین الاقوامی نیٹ ورکس کا کردار
روایتی طور پر پولیس اکثر زیادتی کے واقعات کو کسی مقامی یا غیر متوازن شخص کا انفرادی فعل قرار دے کر کیس سمیٹنے کی کوشش کرتی ہے۔ تاہم، حقیقت یہ ہے کہ ڈیجیٹل دور میں یہ جرم ایک منظم عالمی کاروبار کی شکل اختیار کر چکا ہے۔
بعض شیطانی صفت گروہ کریپٹو کرنسی کے ذریعے مقامی ہینڈلرز کو ادائیگیاں کرتے ہیں تاکہ وہ معصوم بچوں کی زیادتی کی لائیو اسٹریمنگ دیکھ سکیں۔ مقامی مجرمان چند ڈالرز کے عوض بچوں کی زندگیوں کو تباہ کر دیتے ہیں۔
اس کے علاوہ، آن لائن جنسی استحصال کے مواد کی تیاری اور فراہمی میں پاکستان عالمی سطح پر نمایاں ہو چکا ہے۔
نیشنل سینٹر فار مسنگ اینڈ ایکسپلائٹڈ چلڈرن (NCMEC) کی رپورٹ کے مطابق، 2020 سے 2022 کے درمیان پاکستان سے آن لائن استحصال کی 54 لاکھ سے زائد رپورٹس موصول ہوئیں۔ اس بنا پر پاکستان ہندوستان اور فلپائن کے بعد عالمی سطح پر تیسرے نمبر پر آ گیا ہے۔
مظفر گڑھ اور سرگودھا کے ہوشربا واقعات
منظم نیٹ ورکس کی موجودگی کا لرزہ خیز ثبوت مئی 2025 میں مظفر گڑھ کے علاقے کوٹ ادو میں سامنے آیا۔ جہاں FIA اور پولیس نے ایک گھر پر چھاپہ مارا جسے مقامی طور پر بچوں کا “فائٹنگ اسکول” کہا جاتا تھا۔
غریب والدین بچوں کو کھیل کود کے لیے وہاں بھیجتے تھے، لیکن تحقیقات سے انکشاف ہوا کہ وہاں جدید کیمروں اور ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کی مدد سے کم از کم 50 بچوں کا جنسی استحصال کر کے اسے غیر ملکی خریداروں کے لیے براہِ راست نشر کیا جاتا تھا۔
اسی طرح، سرگودھا میں مجرم سادات امین کو سائبر کرائم کورٹ کی جانب سے 7 سال قید اور 1.2 ملین روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔ اس کے قبضے سے 6 لاکھ 50 ہزار سے زائد ڈیجیٹل فائلز برآمد ہوئیں۔ تحقیقات سے ثابت ہوا کہ یہ شخص سویڈن، اٹلی، امریکہ اور برطانیہ تک پھیلے عالمی چائلڈ پورنوگرافی ریکٹ کا فعال رکن تھا، جسے انٹرپول کی مدد سے پکڑا گیا۔
اس سے قبل 2015 کا قصور اسکینڈل، جس میں 285 سے زائد بچوں کو ویڈیوز بنا کر بلیک میل کیا گیا، اسی منظم جرم کی ایک کڑی تھا.
یہ تمام شواہد واضح کرتے ہیں کہ بچوں سے زیادتی محض ایک اتفاقی جرم نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی معیشت ہے، جس میں مقامی سطح پر بچوں کو ورغلا کر ڈارک ویب کے خریداروں کی بھینٹ چڑھایا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں، مقامی سطح پر بااثر افراد کے ہاں بھی ایسے کیسز کی بھرمار ہے جو اکثر رپورٹ ہی نہیں ہوتے۔ اگست 2023 میں خیرپور کا فاطمہ پھریرو کیس اس کی بڑی مثال ہے۔
پولیس تفتیش اور نظامی ناکامی کی وجوہات
یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ پولیس ان واقعات کے پیچھے موجود بڑے نیٹ ورکس اور بااثر افراد کو بے نقاب کیوں نہیں کرتی؟ اس حوالے سے بنیادی نکات درج ذیل ہیں:
- انیسویں صدی کے تفتیشی طریقے: پاکستان کی روایتی پولیس آج بھی پرانے تفتیشی طریقوں پر انحصار کرتی ہے۔ ڈارک ویب، کرپٹو کرنسی، اور VPNs کے ذریعے چلنے والے سائبر کرائم نیٹ ورکس تک رسائی تھانہ کلچر کے بس میں نہیں ہے۔ لہٰذا، پولیس نچلی سطح کے آلہ کار کو پکڑ کر کیس بند کر دیتی ہے۔
- بااثر افراد کی سرپرستی: جب تحقیقات منظم نیٹ ورکس کی جانب بڑھتی ہیں تو ان کے ڈانڈے بااثر سیاست دانوں، بیوروکریٹس یا جاگیرداروں سے جا ملتے ہیں۔ پولیس تبادلوں کے خوف سے ان پر ہاتھ ڈالنے سے گریز کرتی ہے۔
- میڈیا اور حکام کا دباؤ: اعلیٰ حکام کی جانب سے کیسز جلد حل کرنے کے دباؤ کے باعث پولیس اپنی کارکردگی دکھانے اور عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے کسی ایک فرد سے اعترافِ جرم کروا کر چالان پیش کر دیتی ہے۔
- اداروں میں عدم تعاون: بچوں کے استحصال کے کیسز میں صوبائی پولیس، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (FIA) اور چائلڈ پروٹیکشن اداروں کے درمیان ڈیٹا شیئرنگ نہ ہونے کے برابر ہے۔
عدالتی نظام اور سزاؤں کی کم شرح
ایک اور تشویشناک بات یہ ہے کہ ایسے کیسز میں مجرموں کو سزا ملنے کی شرح نہ ہونے کے برابر ہے۔ کمزور تفتیش اور عدالتی رکاوٹوں کے باعث زیادہ تر ملزمان سزا سے بچ جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق:
- بچوں کے جنسی استحصال کے مقدمات میں صرف 0.7 فیصد مجرمان کو سزا مل سکی۔
- جبکہ 99.3 فیصد ملزمان سزا سے بچ گئے۔
اس کی بڑی وجوہات میں گواہوں کا بیانات سے مکر جانا، فرانزک شواہد کا ضائع ہونا، FIR کا تاخیر سے اندراج، اور فریقین کے درمیان راضی نامہ شامل ہیں۔
زینب الرٹ ایکٹ (ZARRA) کی صورتحال
حکومت کا عمومی وطیرہ یہ ہے کہ لرزہ خیز واقعات کے بعد عوامی غیظ و غضب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے نئے قوانین کا اعلان کر دیا جاتا ہے، لیکن عملدرآمد کاغذی کارروائیوں تک محدود رہتا ہے۔
2018 میں قصور کی 7 سالہ بچی زینب کے واقعے کے بعد جنوری 2020 میں ‘زینب الرٹ، رسپانس اینڈ ریکوری ایکٹ’ (ZARRA) منظور کیا گیا۔ اس کا مقصد امریکی AMBER Alert کے طرز پر خودکار الرٹ سسٹم قائم کرنا تھا۔
تاہم، حقائق بتاتے ہیں کہ قانون کی منظوری کے بعد بھی یہ ایجنسی مکمل طور پر فعال نہیں ہو سکی۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے روبرو یہ انکشاف ہوا کہ ایکٹ کی کلیدی شقوں پر عملدرآمد زیرِ التوا ہے، ایجنسی کے رولز منظور نہیں ہوئے، اور پولیس سسٹمز کے ساتھ اس کا ریئل ٹائم (Real-time) انضمام موجود نہیں ہے۔
اہم نکتہ
جب تک حکومت، عدالتیں اور تفتیشی ادارے بچوں کے خلاف ہونے والے جرائم کو سنجیدگی سے نہیں لیں گے، یہ مسئلہ ختم نہیں ہوگا۔ بااثر لوگوں کو بچانے اور مقدمات کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ بند کرنا ہوگا۔
چونکہ ایسے کیسز میں اکثر آشنا یا رشتہ دار ہی ملوث ہوتے ہیں، اس لیے سب سے بڑی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔ فرسودہ سماجی بدنامی اور رسوائی کے ڈر سے خاموش رہنے کے بجائے ظالم کی نشاندہی کرنا ضروری ہے۔

شاکراحمد خان گزشتہ ایک دہائی سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، وہ نیوز روم رپورٹنگ کا وسیع تجربہ رکھنے کے ساتھ ساتھ تحقیقاتی رپورٹس کے حوالے بھی اہم مقام رکھتے ہیں
اعلان لاتعلقی، یہ مضمون مصنف کی ذاتی تحقیق اور آراء پر مبنی ہے ادارہ دی جھنگ ٹائمز کا مصنف کی تحقیق اور آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *