کبھی کسی ایسے بوڑھے باپ کے پاس بیٹھ کر دیکھیے جس کے گھر میں کبھی بچوں کی آوازیں گونجا کرتی تھیں، مگر آج وہ شام ڈھلے دروازے کی طرف یوں دیکھتا ہے جیسے کسی اپنوں کے قدموں کی آہٹ کا منتظر ہو
کبھی کسی ایسے بوڑھے باپ کے پاس بیٹھ کر دیکھیے جس کے گھر میں کبھی بچوں کی آوازیں گونجا کرتی تھیں، مگر آج وہ شام ڈھلے دروازے کی طرف یوں دیکھتا ہے جیسے کسی اپنوں کے قدموں کی آہٹ کا منتظر ہو۔ کبھی اس ماں کی آنکھوں میں جھانکیے جس نے اپنی اولاد کو انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا، راتوں کو جاگ کر پالا، اپنی خواہشیں قربان کرکے بچوں کے خواب پورے کیے، مگر آج وہی ماں گھر کے ایک کمرے میں خاموش بیٹھی کسی فون کال کی منتظر ہے۔
کبھی اس شخص کے دل کا حال جاننے کی کوشش کیجیے جو ہر محفل میں مسکراتا ہے مگر رات کو اپنے کمرے میں جا کر چپکے سے آنسو پونچھتا ہے۔ تنہائی ہمیشہ خالی گھر کا نام نہیں، کبھی کبھی بھرا ہوا گھر بھی انسان کو ایسا سناٹا دے دیتا ہے جس میں اپنی ہی آواز اجنبی محسوس ہونے لگتی ہے۔
جدید دور اور بڑھتی ہوئی سماجی تنہائی
ہمارا معاشرہ عجیب رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے۔ گھروں میں سہولتیں بڑھ رہی ہیں، رابطے آسان ہو رہے ہیں، اور موبائل فون نے دنیا کو ہاتھ کی ہتھیلی پر لا کھڑا کیا ہے، مگر دلوں کے درمیان فاصلے شاید پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئے ہیں۔
ہم ہزاروں میل دور بیٹھے شخص سے لمحوں میں بات کر لیتے ہیں، لیکن ساتھ والے کمرے میں بیٹھے اپنے بوڑھے والدین کے پاس دس منٹ بیٹھنے کے لیے وقت نہیں نکال پاتے۔ ہماری فہرستِ رابطہ میں سینکڑوں نام ہیں، مگر کبھی کبھی ایسا ایک شخص بھی نہیں ہوتا جس کے سامنے ہم اپنا دل کھول کر رکھ سکیں۔ یہی ہمارے عہد کا ایک بڑا معاشرتی المیہ ہے کہ انسانوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، مگر انسانوں کے درمیان اپنائیت کم ہوتی جا رہی ہے۔
اسلامی تعلیمات اور معاشرتی حقوق
قرآن مجید نے رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کے حقوق پر بار بار توجہ دلائی، کیونکہ اسلام کا معاشرتی تصور صرف عبادات تک محدود نہیں بلکہ انسان کے دکھ کو محسوس کرنا بھی دین کا حصہ ہے۔
رسول اکرم ﷺ کی سیرتِ مبارکہ ہمیں بتاتی ہے کہ کسی انسان کو تنہا چھوڑ دینا محض سماجی بے اعتنائی نہیں بلکہ ایک بڑی اخلاقی کوتاہی ہے۔
- سیرتِ طیبہ کی روشنی: آپ ﷺ یتیموں، مسکینوں، بیواؤں اور کمزور لوگوں کی خبرگیری فرماتے، ان کے ساتھ بیٹھتے، ان کی بات سنتے اور انہیں معاشرے کا بوجھ نہیں بلکہ معاشرے کا حصہ سمجھتے تھے۔
- حدیثِ مبارکہ: ایک حدیثِ مبارکہ کا مفہوم ہے کہ بیوہ اور مسکین کی خبرگیری کرنے والا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کی مانند ہے۔
ذرا سوچیے، جس معاشرے میں ایک بے سہارا عورت کے آنسو پونچھنا، ایک ضرورت مند کی مدد کرنا اور ایک تنہا انسان کا ساتھ دینا اتنا بلند عمل قرار دیا گیا ہو، وہاں ہم نے تنہائی کو ایک معمول کیوں بنا دیا؟
حضرت عمرؓ کے بارے میں تاریخ میں آتا ہے کہ وہ راتوں کو رعایا کے حالات جاننے کے لیے خود نکلتے تھے۔ ان کے دور کا یہ احساسِ ذمہ داری ہمیں بتاتا ہے کہ حکمرانی صرف تخت پر بیٹھنے کا نام نہیں بلکہ ان لوگوں تک پہنچنے کا نام ہے جن کی آواز ایوانوں تک نہیں پہنچتی۔
توجہ کے منتظر رشتے: ہمارا رویہ اور محاسبہ
آج ہمیں صرف حکمرانوں ہی نہیں، بحیثیت معاشرہ اپنے رویوں کا بھی محاسبہ کرنا ہوگا۔ ہمارے آس پاس کتنے لوگ ایسے ہیں جو مدد کے محتاج نہیں، صرف توجہ کے محتاج ہیں۔
- بزرگ والدین: جنہیں دوا سے زیادہ کسی کے ساتھ بیٹھنے کی ضرورت ہے۔
- بیواؤں اور مطلقہ خواتین: جنہیں مالی امداد سے زیادہ یہ احساس چاہیے کہ وہ معاشرے میں اکیلی نہیں۔
- یتیم بچے: جو کھانے سے زیادہ کسی محبت کرنے والے ہاتھ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔
- معذور افراد: جو ہمدردی کے چند الفاظ نہیں بلکہ عزت اور شمولیت چاہتے ہیں۔
- نوجوان نسل: جو بظاہر ہنستے، پڑھتے اور دوستوں کے درمیان گھومتے ہیں مگر اندر سے کسی ایسے شخص کو تلاش کر رہے ہوتے ہیں جو صرف ان کی بات سن لے۔
ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ تنہائی صرف ان لوگوں کا مسئلہ ہے جن کے پاس کوئی نہیں، حالانکہ بعض اوقات سب سے زیادہ تنہا وہ شخص ہوتا ہے جس کے پاس سب کچھ ہوتا ہے مگر اپنا کوئی نہیں ہوتا۔
ایک ہی چھت کے نیچے اجنبی لوگ
آج کا والد صبح دفتر جاتا ہے، شام کو تھکا ہارا گھر آتا ہے، بچوں کے ہاتھ میں موبائل ہے، شریکِ حیات اپنی مصروفیات میں ہے، اور یوں ایک ہی چھت کے نیچے رہنے والے لوگ ایک دوسرے کی زندگی سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔
کبھی گھر میں بزرگ والدین موجود ہوتے ہیں تو انہیں ایک اضافی ذمہ داری سمجھ لیا جاتا ہے، کبھی بیوہ بہن کو صرف اس لیے نظر انداز کر دیا جاتا ہے کہ وہ معاشی طور پر خاندان پر منحصر ہے، کبھی مطلقہ یا اکیلی عورت کو معاشرہ اپنے رویوں سے اس قدر تنہا کر دیتا ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان رہ کر بھی خود کو اجنبی محسوس کرنے لگتی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی تنہا انسان کو سب سے زیادہ تکلیف اس بات سے نہیں ہوتی کہ لوگ اس کے ساتھ نہیں، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ اسے یاد کرنے والا بھی کوئی نہیں۔
خاموش دکھ اور ہماری ناپائیدار زندگی
ذرا تصور کیجیے:
- ایک بوڑھی ماں: جس نے اپنے بچوں کے بخار میں ساری رات جاگ کر گزاری ہو، آج جب اسے بخار ہو تو وہ اپنے ہی بچوں کو فون کرنے سے پہلے کئی مرتبہ سوچتی ہے کہ کہیں وہ مصروف نہ ہوں۔
- ایک مجبور باپ: جس نے اپنی اولاد کی تعلیم کے لیے اپنی جوانی کھپا دی ہو، آج اپنی بیماری کا ذکر اس لیے نہیں کرتا کہ کہیں بچے پریشان نہ ہوں۔
- ایک بیوہ: جو ساری عمر دوسروں کے لیے جیتی رہی، آج اپنے کمرے میں بیٹھ کر پرانے خطوط، تصاویر اور یادوں سے باتیں کرتی ہے۔
- ایک یتیم بچہ: جو کسی تہوار پر دوسروں کو اپنے والدین کے ساتھ دیکھ کر مسکراتا ضرور ہے، مگر اس مسکراہٹ کے پیچھے جو خلا ہوتا ہے، اسے صرف وہی جانتا ہے۔
ایسے لوگوں کو ہماری خیرات سے پہلے ہماری محبت، وقت، توجہ اور احترام کی ضرورت ہے۔ معاشرے کی خوبصورتی بڑے بڑے منصوبوں، بلند عمارتوں اور جدید ٹیکنالوجی سے نہیں، بلکہ اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ اس کے کمزور ترین انسان کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے۔
مثبت تبدیلی کے عملی اقدامات
اگر ہم اپنے معاشرے سے تنہائی کے اس زہر کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو درج ذیل آسان اور عملی خطوات اپنا سکتے ہیں:
- بزرگوں کی خبرگیری: اگر ہمارے محلے میں کوئی بزرگ اکیلا رہتا ہے تو ہفتے میں ایک مرتبہ اس کا دروازہ کھٹکھٹانے میں کوئی حرج نہیں۔
- عیادت کا عمل: اگر کوئی بیمار ہے تو صرف “اللہ شفا دے” کا پیغام بھیجنے کے بجائے اس کے پاس بیٹھنے کا وقت نکالیں۔
- ہمدردانہ گفتگو: اگر کوئی دوست خاموش رہنے لگا ہے تو اسے محبت سے کہیں: “میں سننے کے لیے حاضر ہوں، تم جو کہنا چاہتے ہو کہہ دو۔” شاید آپ کے چند منٹ کسی انسان کو کئی دنوں کی تنہائی سے نکال دیں۔
- بچوں کی تربیت: ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہ تربیت دینا ہوگی کہ معاشرے میں صرف کامیاب لوگوں کی قدر نہیں ہوتی؛ کمزور، بیمار، بوڑھے، یتیم اور تنہا لوگ بھی ہماری اجتماعی ذمہ داری ہیں۔
انہیں یہ سکھانا ہوگا کہ کسی بزرگ کے ساتھ چند لمحے بیٹھنا، کسی بیمار کی عیادت کرنا، کسی غم زدہ شخص کا ہاتھ تھامنا، کسی ضرورت مند کی عزتِ نفس مجروح کیے بغیر مدد کرنا اور کسی تنہا انسان کو اپنے حلقۂ احباب میں شامل کرنا بھی انسانیت کی بڑی خدمت ہے۔
وقت کا پہیہ اور ہماری حتمی ذمہ داری
زندگی کا ایک عجیب اصول ہے: آج جس شخص کو ہم سہارا دے سکتے ہیں، کل ممکن ہے سہارا ہمیں بھی درکار ہو۔ وقت کسی کے ساتھ ایک جیسا نہیں رہتا؛ جوانی بڑھاپے میں بدلتی ہے، طاقت کمزوری میں، مصروف گھر خاموش کمروں میں اور آج کے مصروف لوگ کل کے تنہا انسانوں میں تبدیل ہو سکتے ہیں۔
اس لیے کسی کو تنہا چھوڑنے سے پہلے یہ ضرور سوچ لیجیے کہ زندگی کا پہیہ گھومتا رہتا ہے۔
- شاید وہ بوڑھا باپ جسے آج آپ کے پانچ منٹ درکار ہیں، کل آپ بھی اسی عمر میں کسی دروازے کی طرف دیکھ رہے ہوں۔
- شاید وہ ماں جس کی فون کال آج آپ کو غیر ضروری محسوس ہوتی ہے، کل اس کی آواز سننے کے لیے آپ دنیا کی ہر چیز قربان کرنے کو تیار ہوں، مگر وقت واپس نہ آئے۔
- شاید وہ دوست جو آج خاموش ہے، کل ہمیشہ کے لیے خاموش ہو جائے اور پھر آپ کے پاس صرف یہ سوال رہ جائے کہ کاش میں نے ایک بار پوچھ لیا ہوتا کہ تم ٹھیک تو ہو؟
ہمیں اپنے معاشرے کو صرف ترقی یافتہ نہیں بلکہ حساس بنانا ہوگا، کیونکہ بے حس معاشرہ کتنی ہی بلند عمارتیں تعمیر کر لے، اندر سے کھوکھلا رہتا ہے۔ ہمیں اپنے گھروں کے دروازے ہی نہیں، اپنے دلوں کے دروازے بھی کھولنے ہوں گے۔ کسی تنہا شخص کو ہمیشہ بڑے مالی وسائل نہیں چاہییں؛ کبھی ایک فون کال، کبھی ایک ملاقات، کبھی ایک کپ چائے، کبھی ایک دعا اور کبھی صرف خاموشی سے اس کے پاس بیٹھ جانا ہی اس کے لیے پوری دنیا بن جاتا ہے۔
زندگی کو زندہ دلی عطا کیجیے
یاد رکھیے، ہر شخص جو خاموش ہے ضروری نہیں کہ خوش ہو، ہر شخص جو مسکرا رہا ہے ضروری نہیں کہ بے غم ہو، اور ہر شخص جو کسی سے مدد نہیں مانگ رہا ضروری نہیں کہ اسے مدد کی ضرورت نہ ہو۔ کچھ لوگ اپنی خودداری کے پردے میں اپنے دکھ چھپا لیتے ہیں۔ ان کے دروازے پر دستک دینا ہماری انسانیت ہے۔
شاید زندگی کا سب سے بڑا المیہ یہ نہیں کہ انسان مر جائے؛ اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ وہ زندہ رہے اور اسے یہ محسوس ہوتا رہے کہ اس کی زندگی کی کسی کو ضرورت نہیں۔
اس لیے اپنے اردگرد دیکھیے! شاید کوئی بوڑھا باپ آپ کی ایک کال کا منتظر ہے، کوئی ماں آپ کے چند لمحوں کی منتظر ہے، کوئی دوست آپ کی ایک توجہ کا منتظر ہے، کوئی یتیم آپ کی محبت کا منتظر ہے، اور کوئی بیوہ عزت سے پوچھے جانے والے ایک سوال کی منتظر ہے۔
اس سے پہلے کہ کسی کی تنہائی قبر کی خاموشی میں بدل جائے، اس کے کمرے کی خاموشی توڑ دیجیے۔ اس سے پہلے کہ کوئی آپ کی یادوں کا حصہ بن جائے، اسے اپنی زندگی کا حصہ بنا لیجیے۔ قبرستانوں میں جا کر پھول چڑھانے سے کہیں زیادہ قیمتی وہ لمحہ ہے جب کوئی زندہ انسان آپ کے سامنے بیٹھا ہو اور آپ اسے یہ احساس دلا دیں کہ “تم اکیلے نہیں ہو، میں تمہارے ساتھ ہوں۔” شاید یہی انسانیت ہے اور یہی وہ چھوٹی سی نیکی ہے جو کسی کے اندھیرے دن میں چراغ بن کر جل سکتی ہے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *