پاکستان میں بھیک مانگنا اب ایک سماجی مجبوری نہیں بلکہ ایک منظم ’بلیک انڈسٹری‘ بن چکا ہے، جس کے تانے بانے وائٹ کالر کرائم اور بین الاقوامی انسانی سمگلنگ سے جا ملتے ہیں۔ 25 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں تقریباً 4 کروڑ افراد اس قبیح دھندے سے جڑے ہیں، جو روزانہ اربوں روپے کا کالا دھن پیدا کر رہے ہیں۔
پاکستان میں ’پیشہ ور بھکاری مافیا‘: معیشت اور عالمی وقار کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے، پاکستان میں بھیک مانگنا اب ایک سماجی مجبوری نہیں بلکہ ایک منظم ’بلیک انڈسٹری‘ بن چکا ہے، جس کے تانے بانے وائٹ کالر کرائم اور بین الاقوامی انسانی سمگلنگ سے جا ملتے ہیں۔ 25 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں تقریباً 4 کروڑ افراد اس قبیح دھندے سے جڑے ہیں، جو روزانہ اربوں روپے کا کالا دھن پیدا کر رہے ہیں۔
عالمی سطح پر پاکستان کی بدنامی: حالیہ حقائق
پاکستان کے پیشہ ور بھکاریوں نے اب بین الاقوامی سطح پر ملک کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔
- ستمبر 2023 کی سینیٹ رپورٹ: وزارت سمندر پار پاکستانیز کے سیکرٹری نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے سمندر پار پاکستانیز کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ بیرونی ممالک (خاص طور پر مشرق وسطیٰ) میں گرفتار ہونے والے بھکاریوں میں 90 فیصد پاکستانی ہیں۔
- سعودی عرب کی جیلیں: سرکاری اعداد و شمار (بمطابق رپورٹ اکتوبر 2023) کے مطابق، سعودی عرب کی مختلف جیلوں میں قید پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد (تقریباً 13,000) صرف بھیک مانگنے اور جیب تراشی کے الزامات میں بند ہے۔
- عمرہ ویزہ کا غلط استعمال: دسمبر 2023 کی ایک رپورٹ کے مطابق، سعودی حکام نے پاکستان کو متنبہ کیا ہے کہ عمرہ زائرین کی آڑ میں پیشہ ور بھکاریوں کا آنا بند کیا جائے، ورنہ ویزہ پالیسی مزید سخت کر دی جائے گی۔
معاشی حجم اور منی لانڈرنگ کا گٹھ جوڑ
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں سب سے زیادہ خیرات دی جاتی ہے۔
- پاکستان سینٹر فار فلانتھروپی (PCP) رپورٹ 2022: اس رپورٹ کے مطابق پاکستانی قوم سالانہ 650 ارب روپے سے زائد کی رقم زکوٰۃ و صدقات کی مد میں دیتی ہے۔ اس رقم کا ایک بڑا حصہ براہِ راست پیشہ ور بھکاریوں کی جیب میں جاتا ہے۔
- بلیک منی کو وائٹ کرنا: بینکنگ سیکٹر کے ذرائع کے مطابق، کئی بڑے سرمایہ کار بھکاریوں کے نام پر بے نامی اکاؤنٹس چلا رہے ہیں۔ بھکاریوں سے حاصل ہونے والی نقد رقم کو ان اکاؤنٹس کے ذریعے گردش دے کر ٹیکس چوری اور منی لانڈرنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
سماجی اثرات اور اخلاقی پستی
اس انڈسٹری نے معاشرے میں کئی نئے ناسور پیدا کر دیے ہیں:
- بچوں کا استحصال: ایڈوکیٹ فار رائٹس (2023) کی ایک رپورٹ کے مطابق، بڑے شہروں میں 70 فیصد بھکاری بچے اغوا شدہ ہیں یا انہیں کرائے پر حاصل کیا گیا ہے۔
- جسم فروشی اور صحت کے مسائل: مشاہدے اور حالیہ ہیلتھ سرویز (جنوری 2024) سے یہ تشویشناک پہلو سامنے آیا ہے کہ بھکاری خواتین کی آڑ میں جسم فروشی کا دھندہ عروج پر ہے، جو ایچ آئی وی (HIV/AIDS) کے پھیلاؤ کا ایک بڑا ذریعہ بن رہا ہے۔
این جی اوز کا مبینہ کردار اور حکومتی ایکشن
پاکستان میں کام کرنے والی کئی این جی اوز پر سوالیہ نشانات اٹھ رہے ہیں۔
- اکنامک افیئرز ڈویژن (EAD) کی پالیسی 2022: حکومت نے مشکوک فنڈنگ کے پیشِ نظر سینکڑوں این جی اوز پر پابندی لگائی۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ کئی ادارے ’دسترخوان‘ اور ’امداد‘ کے نام پر حاصل ہونے والے فنڈز کو ذاتی نمود و نمائش اور غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کر رہے تھے۔
- رمضان ٹرانسمیشن فراڈ: ہر سال رمضان میں میڈیا پر دکھائے جانے والے ڈونیشن شوز کے بارے میں پیمرا (PEMRA) کو متعدد شکایات موصول ہوئیں کہ یہ شوز شفافیت کے معیار پر پورے نہیں اترتے۔
5. علاقائی موازنہ اور حل (بنگلہ دیش ماڈل)
تحقیق کے مطابق، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں غربت کے باوجود بھکاریوں کی شرح پنجاب اور سندھ کے مقابلے میں کم ہے۔ اس کی وجہ وہاں کا ’محنت کش کلچر‘ ہے۔
- بنگلہ دیش کا کامیاب تجربہ (2010-2022): بنگلہ دیش نے اپنی ’بیگری انڈسٹری‘ کو ختم کرنے کے لیے بھکاریوں کی پروفائلنگ کی اور انہیں گارمنٹس سیکٹر میں چھوٹے چھوٹے ہنر سکھائے۔ آج بنگلہ دیش کی ایکسپورٹ میں اس افرادی قوت کا بڑا ہاتھ ہے۔
- پاکستان کی ضرورت: محض عارضی امدادی سکیمیں (جیسے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام) حل نہیں ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان 4 کروڑ لوگوں کو ہنر مند بنا کر ملکی معیشت کا حصہ بنایا جائے۔
اہم نکتہ
پیشہ ور بھکاریوں کا یہ سیلاب پاکستان کی عالمی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہا ہے۔ اگر حکومت نے چیرٹی کمیشن کے ذریعے عطیات کی تقسیم کو منظم نہ کیا اور ان مافیاز کے پشت پناہ ’وائٹ کالر‘ مجرموں کو قانون کے کٹہرے میں نہ لایا، تو یہ کینسر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ یہ محض غربت کا مسئلہ نہیں، بلکہ ایک قومی سکیورٹی اور اخلاقی بقا کا مسئلہ ہے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *