خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
وزیر خزانہ اور انٹرنیشنل اسلامک ٹریڈ فنانس کارپوریشن کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کا تجارت کو وسعت دینے سے متعلق امور پر تبادلہ خیالبرطانیہ : پاک فوج نے مشق کیمبرین پیٹرول 2026ء میں سلور میڈل اپنے نام کرلیایورپی یونین کے وزرائے خارجہ کا لبنان میں ایک نیا معاون مشن قائم کرنے پر اتفاقنائب وزیراعظم کا روس کیساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دینے پر زورپارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس،خیبر پختونخوامیں ایمرجنسی، گورنر راج کے نفاذ کی منظوریپشاور میں نجی اسکول کی عمارت منہدم، 35 افراد جاں بحق، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ؛ امدادی کارروائیاں جاریاے ڈی سی (انفورسمنٹ) رب نواز چدھڑ کا کنٹرول روم کا دورہ، عملے کی حاضری اور ڈیوٹی روسٹر چیک کرنے کے ساتھ عوامی شکایات کے فوری ازالے کی ہدایتجھنگ ڈیزرٹ جیپ ریلی: ڈی ٹی او سعید اختر دھولکہ اور ڈی ایس پی پٹرولنگ محمد جاوید ڈھڈھی کا روٹ کا دورہ، ٹریفک انتظامات کا جائزہ
میگزین

پنجاب کے عمومی نظامِ صحت میں آؤٹ سورسنگ کی پالیسی، اصلاحات اور ملازمین پر اثرات: ایک جامع تحقیقی جائزہ

عالمی سطح پر عمومی صحتِ عامہ (Public Health) کے ڈسکورس میں 1978ء کا سال ایک بنیادی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جب عالمی ادارہ صحت (WHO) اور یونیسف (UNICEF) کے زیرِ اہتمام الما…

پنجاب کے عمومی نظامِ صحت میں آؤٹ سورسنگ کی پالیسی، اصلاحات اور ملازمین پر اثرات: ایک جامع تحقیقی جائزہ

عالمی سطح پر عمومی صحتِ عامہ (Public Health) کے ڈسکورس میں 1978ء کا سال ایک بنیادی سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے، جب عالمی ادارہ صحت (WHO) اور یونیسف (UNICEF) کے زیرِ اہتمام الما آٹا (موجودہ الماتی، قازقستان) میں ایک تاریخی بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کے نتیجے میں منظور ہونے والے “الما آٹا اعلامیے” نے صحت کو محض بیماری کی عدم موجودگی کے بجائے مکمل جسمانی، ذہنی اور سماجی خوشحالی سے تعبیر کرتے ہوئے اسے ایک بنیادی انسانی حق قرار دیا۔ اس اعلامیے کا مرکزی مقصد “سب کے لیے صحت” (Health for All) کے عالمی ہدف کو حاصل کرنا تھا، جس کی بنیاد منصفانہ تقسیم، کمیونٹی کی شمولیت، اور بنیادی صحت کے مراکز (Primary Health Care) کی مضبوطی پر رکھی گئی۔ پاکستان نے اس عالمی اعلامیے کی نہ صرف توثیق کی بلکہ اپنے عمومی صحت کے نظام کو دیہی و شہری طبقات تک پھیلانے کا عزم کیا۔ صوبہ پنجاب میں اس فریم ورک کے تحت بنیادی مراکزِ صحت (BHUs) اور دیہی مراکزِ صحت (RHCs) کا ایک وسیع نیٹ ورک قائم کیا گیا، جن کی کل تعداد بالترتیب تقریباً 2,501 سے 2,503 اور 313 سے 320 تک ہے۔ انتظامی قواعد کے مطابق ایک بی ایچ یو یونین کونسل کی سطح پر 10,000 سے 25,000 کی آبادی کے لیے قائم کیا جاتا ہے، جبکہ آر ایچ سی تقریباً 1,00,000 کی آبادی کو 10 سے 20 بستروں کی سہولت کے ساتھ ثانوی علاج دہندگان سے جوڑتا ہے۔

تاہم، دہائیوں پر محیط انتظامی کمزوریوں، سیاسی اثر و رسوخ کے تحت غیر مناسب سائٹس (مثلاً آبادی سے دور یا غیر محفوظ مقامات پر عماراتی تعمیر)، اور فنڈز کی عدم فراہمی نے ان مراکز کی افادیت کو شدید متاثر کیا۔ ڈاکٹروں کی غیر حاضری، ادویات کا فقدان، اور بنیادی تشخیصی سہولیات کی عدم موجودگی کی وجہ سے دیہی آبادی میں ان مراکز کا استعمال (Utilization) انتہائی کم سطح پر رہا۔ تاریخی اعداد و شمار کے مطابق آر ایچ سیز میں بستروں کے استعمال کی شرح صرف 19 فیصد جبکہ بی ایچ یوز میں روزانہ کی اوسط او پی ڈی (OPD) صرف 22 مریضوں تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ اس کی وجہ سے دیہی مریض براہِ راست بڑے شہروں کے تدریسی اور ثانوی ہسپتالوں کا رخ کرنے پر مجبور ہوئے، جس سے پورے نظامِ صحت کا ریفرل سسٹمز مفلوج ہو کر رہ گیا۔

2۔ انتظامی اصلاحات کا ارتقائی سفر: پی آر ایس پی سے ہیلتھ سیکٹر ریفارم فریم ورک تک

حکومتی سطح پر عمومی صحت کے نظام میں موجود اس جمود کو توڑنے کے لیے پنجاب رورل سپورٹ پروگرام (PRSP) اور بعد میں پیپلز پرائمری ہیلتھ کیئر انیشیٹو (PPHI/لودھراں ماڈل) کے تحت بی ایچ یوز کا انتظامی کنٹرول نجی و نیم سرکاری انتظام کے حوالے کرنے کے ابتدائی تجربات کیے گئے۔ اس کے ساتھ ہی 2006ء میں پنجاب ریسورس مینجمنٹ پروگرام (PRMP) اور محکمہ صحت نے مشترکہ طور پر “ہیلتھ سیکٹر ریفارم فریم ورک” (HSRF) تشکیل دیا۔ اس فریم ورک نے نشاندہی کی کہ جب تک ڈائریکٹرز، نرسوں اور پیرامیڈیکس کے باہمی تناسب (Doctor-Nurse Ratio) کو درست نہیں کیا جاتا اور نتائج پر مبنی مالیاتی مراعات (Incentive Structures) فراہم نہیں کی جاتیں، تب تک صرف عمارتیں تعمیر کرنے سے صحت کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے۔ اسی دور میں رحیم یار خان اور گجرات ماڈل (این سی ایچ ڈی پارٹنرشپ) کے ذریعے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (PPP) کے دائرہ کار کو وسعت دی گئی۔

اس اصلاحاتی ارتقاء نے ثابت کیا کہ روایتی اور ایک ہی نوعیت کی (One size fits all) حکمتِ عملی کے بجائے ضلع وار بیماریوں کے بوجھ (Burden of Disease) کے مطابق بجٹنگ کرنا ناگزیر ہے۔ “چیف منسٹرز انیشیٹو فار پرائمری ہیلتھ کیئر” (CMIPHC) اور “پنجاب ڈیولوڈ سوشل سروسز پروگرام” (PDSSP) جیسے پروگراموں نے ثابت کیا کہ پرائمری ہیلتھ کیئر کی بحالی کے لیے مقامی کمیونٹی کی شمولیت، سروس ڈلیوری کے واضح معیارات (Minimum Service Delivery Standards – MSDS)، اور کارکردگی پر مبنی نگرانی کا ہونا لازمی ہے۔ یہی سائنسی تجربات موجودہ دور کی جدید آؤٹ سورسنگ پالیسی کی بنیاد بنے۔

3۔ موجودہ آؤٹ سورسنگ پالیسی کا جوہر: مریم نواز ہیلتھ کلینکس (MNHC) ماڈل اور پے فار پرفارمنس

موجودہ دور میں آؤٹ سورسنگ کی پالیسی پنجاب کے عمومی نظامِ صحت کی اصلاحات کا سب سے نمایاں اور زیرِ بحث پہلو بن چکی ہے۔ یہاں یہ وضاحت انتہائی اہم اور بنیادی نوعیت کی ہے کہ آؤٹ سورسنگ کا مطلب ہرگز ہسپتال یا سرکاری عمارت کو فروخت کرنا یا نجی ملکیت میں منتقل کرنا نہیں ہے۔ اس پالیسی کے تحت تمام سرکاری زمین، عمارتیں، اور آلات حکومتِ پنجاب کی ملکیت ہی رہتے ہیں، جبکہ صرف انتظامی، تشخیصی یا طبی خدمات چلانے کی ذمہ داری ایک مقررہ معاہدے کے تحت نجی اداروں، معالجین یا کنٹریکٹ پارٹنرز کو دی جاتی ہے۔ اس کا بنیادی مقصد سرکاری ڈھانچے کے اندر نجی شعبے کی انتظامی لچک، مالیاتی شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں کو داخل کرنا ہے۔

حکومتِ پنجاب نے پرائمری ہیلتھ کیئر کی بحالی کے لیے “مریم نواز ہیلتھ کلینکس” (MNHC) کا پے فار پرفارمنس (Pay-for-Performance) ماڈل متعارف کرایا ہے۔ اس ماڈل کے تحت ایم بی بی ایس یا بی ڈی ایس ڈگری ہولڈرز، یا پبلک ہیلتھ و سوشل سائنسز میں ماسٹرز ڈگری کے حامل نوجوان پیشہ ور افراد کو بی ایچ یوز کا انتظام سونپا جاتا ہے۔ معالجین کا معاوضہ الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ (EMR) کے ذریعے مریضوں کے اندراج، زچہ و بچہ کی صحت (MCH)، حفاظتی ٹیکہ جات، اور 24/7 ایمرجنسی خدمات کی فراہمی کے تصدیق شدہ اہداف سے جوڑا گیا ہے۔ ہر کلینک کو ماہانہ ادویات و عملے کے لیے تقریباً 8 لاکھ روپے سے زائد اور عمارت کی دیکھ بھال کے لیے 25,000 روپے کی رقم فراہم کی جاتی ہے، جس کے بدلے میں عوام کو تمام ادویات اور معائنہ بلا معاوضہ فراہم کیا جاتا ہے۔

4۔ صوبائی اعداد و شمار، مراحل اور جغرافیائی دائرہ کار (اکتوبر 2026ء تک)

اکتوبر 2026ء تک دستیاب تصدیق شدہ صوبائی اعداد و شمار اور محکمہ صحت کی باضابطہ رپورٹس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آؤٹ سورسنگ کا یہ عمل مختلف ادوار پر محیط مرحلہ وار حکمتِ عملی کا حصہ ہے۔ جنوری 2025ء میں شروع ہونے والے ابتدائی پائلٹ مرحلے کے تحت صوبے بھر کے 150 شدید غیر فعال بی ایچ یوز کو آؤٹ سورس کیا گیا۔ اس کے بعد مئی 2025ء میں شروع ہونے والے دوسرے بڑے مرحلے کے تحت مزید 982 بی ایچ یوز کو نجی انتظام میں دیا گیا۔ آگے بڑھتے ہوئے سالانہ ترقیاتی منصوبے (2026-27ء) کی دستاویزات کے مطابق صوبے کے کل 2,508 بی ایچ یوز اور 115 RHCs/THQs/DHQs کو آؤٹ سورسنگ اور ری ویمپنگ ماڈل کے فریم ورک کے تحت لانے کے ہدف کی توثیق کی گئی۔

ضلعی سطح کی مثالیں اس انتظامی تبدیلی کی عملی وسعت کو واضح کرتی ہیں۔ ضلع راولپنڈی میں کل 98 بی ایچ یوز میں سے ابتدائی طور پر 7 بی ایچ یوز جنوری 2025ء میں، اپریل 2025ء میں مزید 20 بی ایچ یوز، اور نومبر 2025ء تک 91 بی ایچ یوز مریم نواز ہیلتھ کلینکس کے طور پر فعال کر دیے گئے۔ اسی طرح راولپنڈی کے 10 اور رحیم یار خان کے 30 سے زائد RHCs کی اپ گریڈیشن اور آؤٹ سورسنگ کا عمل مرحلہ وار مکمل کیا گیا۔ درج ذیل جدول صوبائی سطح پر آؤٹ سورسنگ کے مراحل، سہولیات کی نوعیت اور مالیاتی ماڈل کا خلاصہ پیش کرتا ہے:

مرحلہ / کیٹیگریمراکز و ہسپتالوں کی نوعیتتعدادمالیاتی و عملی ماڈل
ابتدائی مرحلہ (جنوری 2025ء)غیر فعال بنیادی مراکزِ صحت (BHUs)150 مراکزمریم نواز ہیلتھ کلینکس (انفرادی معالجین/پرفارمنس لنکیج)
مرحلہ دوم (مئی 2025ء)مزید پرائمری صحت کے مراکز (BHUs)982 مراکزکلسٹرنگ و پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل
مجموعی صوبائی دائرہ کار (2026ء)صوبائی بی ایچ یوز کا کل نیٹ ورک2,508 مراکزای ایم آر تصدیق شدہ پے فار پرفارمنس ماڈل
دیہی مراکز و ثانوی ہسپتالRHCs / THQ / DHQ اپ گریڈیشن115 سہولیاتری ویمپنگ، ریفرل لنکس اور جزوی آؤٹ سورسنگ
ثالثی ہسپتال (Specialized Care)CSSD اور ہسپتال لانڈری سروسزمنتخب تدریسی ہسپتالپے فار پرفارمنس / نجی ویندرز کی تنصیب

5۔ ثانوی اور ثالثی ہسپتالوں کی صورتحال: ٹی ایچ کیو، ڈی ایچ کیو اور سی ایس ایس ڈی کی آؤٹ سورسنگ

ثانوی اور ثالثی سطح کے ہسپتالوں میں آؤٹ سورسنگ کا ماڈل بی ایچ یوز سے مختلف اور تخصیصی نوعیت کا ہے۔ صوبے بھر کے 115 DHQ اور THQ ہسپتالوں کے تناظر میں 115 کا عدد بنیادی طور پر ان ثانوی ہسپتالوں کی عمارتوں کی ری ویمپنگ، ایمرجنسی بلاکس کی بہتری اور منتخب تشخیصی و غیر طبی خدمات (مثلاً ڈائلائسز، ریڈیالوجی، صفائی اور سکیورٹی) کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر لانے کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد ان ہسپتالوں میں 24 گھنٹے ایمرجنسی سروسز اور آپریشن تھیٹرز کی افادیت کو برقرار رکھنا ہے تاکہ دیہی علاقوں سے آنے والے سنگین مریضوں کو بروقت علاج مل سکے۔

تدریسی اور ثالثی ہسپتالوں کے لیے سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (SHC&MED) نے سنٹرل سٹریلائزیشن سپلائی ڈیپارٹمنٹ (CSSD) اور ہسپتال لانڈری سروسز کی آؤٹ سورسنگ کے لیے پری کوالیفکیشن کا عمل مکمل کیا۔ اس ماڈل کے تحت نجی وینڈر ہسپتال کی عمارت کے اندر ہی جدید سی ایس ایس ڈی اور لانڈری پلانٹس نصب کرتا ہے اور آلات کی تعقیم (Sterilization) اور صفائی کی خدمات پرفارمنس معاہدے کے تحت فراہم کرتا ہے۔ اس سے ہسپتالوں میں انفیکشن کنٹرول کے معیار میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

6۔ سرکاری ملازمین اور طبی عملے پر آؤٹ سورسنگ کے اثرات: باقاعدہ بمقابلہ کنٹریکٹ ملازمین

آؤٹ سورسنگ پالیسی کے تحت سرکاری ملازمین کی ملازمت کی صورتحال کا جائزہ لینا اس تحقیقی رپورٹ کا سب سے حساس اور مرکزی پہلو ہے۔ محکمہ پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے باضابطہ ٹرانسفر آرڈرز (مثلاً 16 جنوری 2025ء کا نوٹیفکیشن) کے مطابق، آؤٹ سورس کیے گئے بی ایچ یوز پر تعینات بی ایس 17 (BS-17) کے باقاعدہ (Regular) میڈیکل آفیسرز (MOs) اور وومن میڈیکل آفیسرز (WMOs) کو ملازمت سے فارغ نہیں کیا گیا۔ اس کے بجائے سول سروس قوانین کے تحت ان کے روزگار کا تحفظ کرتے ہوئے انہیں متعلقہ اضلاع و تحصیلوں کے ثانوی ہسپتالوں (THQs/DHQs) یا دیگر بی ایچ یوز میں خالی اسامیوں پر فوری منتقل کر دیا گیا۔ اس کے برعکس، عارضی (Ad-hoc)، پروجیکٹ ملازمین یا ڈلیوری انسنٹیو اسکیم کے تحت کام کرنے والے غیر مستقل عملے کے لیے ملازمت کے خدشات پیدا ہوئے، کیونکہ نئے نجی معالجین کو اپنا پیرامیڈیکل عملہ خود منتخب کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تاھم، اکتوبر 2026ء تک پورے پنجاب میں آؤٹ سورسنگ کے نتیجے میں ملازمت سے فارغ ہونے والے، دوسری جگہ منتقل ہونے والے اور کنٹریکٹ پر رکھے گئے ملازمین کی ایک جامع، تصدیق شدہ مجموعی تعداد (Unified Aggregate Headcount) دستیاب سرکاری دستاویزات سے یکجا فراہم نہیں ہوتی۔

اس انتظامی تبدیلی کا باریک بینی سے جائزہ لینے سے ہیلتھ گورننس میں دو اہم گہرے اثرات (Second and Third-Order Insights) سامنے آتے ہیں۔ پہلا اثر ہیلتھ کیئر ڈیلیوری کی دہرے ڈھانچے (Dual-Track System) کی شکل میں ابھرا ہے؛ جہاں ثانوی ہسپتالوں میں ریگولر سول سروس کے ڈاکٹرز تعجب انگیز طور پر زیادہ تعداد میں جمع ہو گئے ہیں جبکہ پرائمری ہیلتھ کیئر مکمل طور پر نجی کنٹریکٹ معالجین کے سپرد ہو گئی ہے۔ دوسرا گہرا اثر ریاست کے بنیادی کردار کی تبدیلی ہے؛ ریاست کا کردار اب خود علاج فراہم کرنے والے (Direct Service Provider) کے بجائے نجی شعبے کی کارکردگی کی نگرانی اور کنٹریکٹ مینجمنٹ (Contract Regulator/Auditor) کرنے والے ادارے میں تبدیل ہو رہا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹیز (DHAs) کے لیے اب محض طبی عملہ سنبھالنا ہی کافی نہیں بلکہ نجی معاہدوں کے قانونی، فنی اور الیکٹرانک آڈٹ کی صلاحیت پیدا کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔

جدید ٹیکنالوجی اور مالیاتی ماڈلز کے باوجود، دیہی علاقوں میں عماراتی و بنیادی سہولیات کی زبوں حالی آؤٹ سورس کیے گئے کلینکس کی طویل المدتی پائیداری کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ ستمبر 2025ء کی ایک صحافتی و تحقیقی رپورٹ میں ضلع جہلم کے گاؤں جنڈالہ میں واقع “مریم نواز شریف کلینک” کی مثال سامنے آئی، جہاں علاج معالجے اور ادویات کی فراہمی میں ڈرامائی بہتری تو دیکھی گئی، لیکن عملے کی شدید خستہ حال رہائش گاہوں (Staff Residences) اور کلینک کی عمارت کے ارد گرد جنگلی جھاڑیوں نے کلینک کی افادیت پر سوالات اٹھائے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جب تک حکومت نجی معالجین کو فنڈز کی فراہمی کے ساتھ ساتھ بی ایچ یوز کی بنیادی عماراتی مرمت، سکیورٹی اور رہائشی سہولیات کی مستقل بہتری پر توجہ نہیں دیتی، تب تک دور دراز علاقوں میں معالجین کی طویل المدتی موجودگی کو برقرار رکھنا مشکل رہے گا۔

7۔ آؤٹ سورسنگ پالیسی کا جامع تقابلی جائزہ، فوائد، خدشات اور مستقبل کی سفارشات

پنجاب میں آؤٹ سورسنگ کی پالیسی کے شفاف اور غیر جانبدارانہ تجزیے کے لیے اس کے مثبت نتائج اور ابھرتے ہوئے خدشات کا یکساں جائزہ لینا ضروری ہے۔ مندرجہ ذیل تقابلی جدول پالیسی کے فوائد اور اس سے منسلک انتظامی و سماجی چیلنجز کو اجاگر کرتا ہے:

ممکنہ فوائد (Potential Benefits)ممکنہ خدشات و چیلنجز (Potential Risks & Concerns)
مراکز کی فوری فعالیت: 24/7 ڈاکٹرز اور عملے کی حاضری اور او پی ڈی میں اضافہ۔معاہدوں کی کمزور نگرانی: اگر ڈی ایچ اے کی جانب سے تھرڈ پارٹی آڈٹ کمزور ہو تو صرف کاغذی اهداف پورے کیے جانے کا خطرہ۔
مفت ادویات و ٹیسٹ: حکومت کی جانب سے فی کلینک ماہانہ ادویات و بجٹ کی باقاعدہ فراہمی۔رہائشی سہولیات کا فقدان: دیہی علاقوں میں رہائش گاہوں کی زبوں حالی معالجین کی پائیدار موجودگی میں رکاوٹ۔
ای ایم آر اور شفافیت: الیکٹرانک میڈیکل ریکارڈ کے ذریعے ہر مریض کی تصدیق اور آڈٹ۔غیر مستقل ملازمین میں اضطراب: ایڈہاک اور پروجیکٹ عملے کی ملازمت کے تحفظ کی واضح پالیسی کی عدم موجودگی۔
بڑے ہسپتالوں پر دباؤ میں کمی: دیہی سطح پر علاج ملنے سے تدریسی ہسپتالوں کا بوجھ کم ہونا۔ریفرل نیٹ ورک کا فقدان: آؤٹ سورس بی ایچ یوز کا سرکاری ثانوی ہسپتالوں سے منظم ربط نہ ہونا۔

پنجاب میں بنیادی اور ثانوی صحت کے نظام کو پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کے لیے چند اہم اصلاحی تجاویز پر عمل درآمد ضروری ہے۔ سب سے پہلے، بی ایچ یوز کے انتخاب میں سائنسی جائزہ لیا جائے اور غیر مناسب جگہوں پر قائم مراکز کی جگہ موبائل ہیلتھ یونٹس فعال کیے جائیں۔ ثانیاً، آؤٹ سورسنگ کے معاہدوں میں عماراتی بحالی، سولر پاور اور محفوظ رہائش گاہوں کو لازمی ترجیح بنایا جائے۔ ثالثاً، صرف علاج (Curative OPD) کے بجائے وقائتی ادویات (Preventive Care)، ماں بچے کی صحت (MCH)، غذائیت اور سکول ہیلتھ کو بی ایچ یو کے بنیادی پیکج میں مکمل طور پر ضم کیا جائے۔ رابعاً، آؤٹ سورس کیے گئے کلینکس اور سرکاری انتظام میں چلنے والے بی ایچ یوز کی کارکردگی کا آزادانہ اداروں سے باقاعدہ تقابلی آڈٹ کرایا جائے۔ خامساً، کنٹریکٹ اور ایڈہاک عملے کے لیے واضح اور شفاف روزگار پالیسی نافذ کی جائے تاکہ طبی فورس میں عدم تحفظ ختم ہو سکے۔ سادساً، پالیسی سازی میں پبلک ہیلتھ، ایپیڈیمیولوجی اور ہیلتھ اکنامکس کے ماہرین کو شامل کیا جائے تاکہ نظامِ صحت محض تجارتی معاہدہ بننے کے بجائے عوام کا بنیادی حق بنا رہے۔

8۔ اہم نکتہ

الما آٹا اعلامیے سے شروع ہونے والا “سب کے لیے صحت” کا سفر پنجاب میں مختلف انتظامی تجربات سے گزرتا ہوا اب آؤٹ سورسنگ اور پے فار پرفارمنس ماڈل تک پہنچا ہے۔ اکتوبر 2026ء تک کے حقائق اور دستیاب ڈیٹا سے ثابت ہوتا ہے کہ اس ماڈل نے پرائمری مراکز کی غیر فعالیت کو دور کرنے اور مفت ادویات کی فراہمی میں نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔ تاہم، یہ پالیسی اسی وقت مکمل طور پر کامیاب تصور کی جائے گی جب ریاست اپنی بنیادی آئینی ذمہ داری سے دستبردار ہوئے بغیر، نجی شراکت داروں کی شفاف نگرانی کرے، ملازمین کے جائز حقوق کا تحفظ کرے، اور بنیادی انفراسٹرکچر کی بحالی پر یکساں سرمایہ کاری کرے۔ صرف اسی صورت میں پنجاب کا عمومی نظامِ صحت ہر شہری کے لیے منصفانہ، معیاری اور قابلِ رسائی علاج کی ضمانت بن سکتا ہے۔

وحید اختر چوہدری گزشتہ چار دہائیوں سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں اور مختلف موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں

اعلان لا تعلقی: تحریر میں شامل تمام مواد مصنف کی ذاتی تحقیق اورآراء پر مبننی ہے ادارہ دی جھنگ ٹائمز کا ان کی تحریر سے متفق ہونا ضروری نہیں

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں