امریکی حملے میں مبینہ طور پر تین بھارتی شہریوں کی ہلاکت کے بعد بھارت میں سیاسی اور عوامی سطح پر تشویش اور تنقید میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے بعد وزیرِاعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ برطانوی جریدے”دی گارڈین” کے مطابق واقعے کے بعد بھارت میں شدید
امریکی حملے میں مبینہ طور پر تین بھارتی شہریوں کی ہلاکت کے بعد بھارت میں سیاسی اور عوامی سطح پر تشویش اور تنقید میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس کے بعد وزیرِاعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی پر بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
برطانوی جریدے”دی گارڈین” کے مطابق واقعے کے بعد بھارت میں شدید ردعمل سامنے آیا، تاہم حکومت کی جانب سے جی 7 سمٹ میں شرکت کا فیصلہ بھی بحث کا باعث بن گیا۔
رپورٹ کے مطابق بھارت کی جانب سے ہلاک ہونے والے شہریوں کے حوالے سے وضاحت اور معذرت کا مطالبہ کیا گیا، تاہم امریکہ نے موقف اختیار کیا کہ کارروائی ایران پر پابندیوں کی خلاف ورزی اور تیل کی غیر قانونی ترسیل کے خلاف کی گئی۔
اس صورتحال کے بعد بھارت میں سیاسی حلقوں اور ریٹائرڈ فوجی افسران کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا ہے۔ ریٹائرڈ میجر جنرل جی ڈی بخشی نے اپنے بیانات میں امریکی کارروائی اور بھارتی حکومت کے مقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی شہریوں کی جانوں کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات کے باوجود حکومت کا عالمی سفارتی سرگرمیوں پر توجہ دینا عوامی جذبات سے مطابقت نہیں رکھتا۔
ماہرین کے مطابق اس واقعے نے بھارت کی خارجہ پالیسی اور بڑی عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کے توازن پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جبکہ بعض تجزیہ کار اسے دہلی کی سفارتی حکمتِ عملی کے لیے ایک چیلنج قرار دے رہے ہیں۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *