(وحید اختر چوہدری سے) تحصیل آفس جھنگ میں قائم رجسٹری برانچ میں گزشتہ آٹھ روز سے رجسٹریوں کا عمل شدید متاثر ہونے کے باعث شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر سرور کی خرابی، لنک ڈاؤن اور دیگر تکنیکی مسائل کے باعث روزانہ سینکڑوں سائلین کے کام رکے
(وحید اختر چوہدری سے) تحصیل آفس جھنگ میں قائم رجسٹری برانچ میں گزشتہ آٹھ روز سے رجسٹریوں کا عمل شدید متاثر ہونے کے باعث شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ کمپیوٹر سرور کی خرابی، لنک ڈاؤن اور دیگر تکنیکی مسائل کے باعث روزانہ سینکڑوں سائلین کے کام رکے ہوئے ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں سے آنے والے افراد کو مایوس ہو کر واپس جانا پڑ رہا ہے۔
شہریوں کے مطابق رجسٹری برانچ میں کبھی کمپیوٹر نہ چلنے اور کبھی لنک ڈاؤن ہونے کا بہانہ بنایا جاتا ہے، جس کے باعث معمول کی رجسٹریاں نہیں ہو رہیں۔ ان کا الزام ہے کہ صرف انہی افراد کی رجسٹری کی جا رہی ہے جو بھاری فیس ادا کر کے لوکل کمیشن مقرر کرواتے ہیں، جس سے عام شہری شدید پریشانی کا شکار ہیں۔
متاثرہ افراد کا کہنا ہے کہ رجسٹریوں کا عمل رکا ہونے سے کروڑوں روپے کے جائیداد کے لین دین تعطل کا شکار ہیں جبکہ حکومت کو ملنے والا ریونیو اور ٹیکس بھی متاثر ہو رہا ہے۔ شہریوں کی بڑی تعداد شکایات کے ازالے کے لیے ڈپٹی کمشنر آفس پہنچی، تاہم ان کے مطابق ڈپٹی کمشنر اس وقت چناب کالج میں ایک تقریب میں موجود تھے جبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو اور دیگر افسران بھی وہاں گئے ہوئے تھے۔ ضلع کچہری میں موجود ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل نے ویڈیو لنک میٹنگ کے دوران شہریوں کی شکایت سننے کے بعد یقین دہانی کرائی کہ وہ اے ڈی سی ریونیو سے بات کر کے مسئلے کے حل کی کوشش کریں گے۔
شہریوں نے یاد دلایا کہ کچھ عرصہ قبل ایک بریفنگ کے دوران اے ڈی سی ریونیو نے اعلان کیا تھا کہ تحصیل جھنگ میں مزید چھ سب رجسٹرار تعینات کیے جائیں گے، عملے کی کمی دور کی جائے گی اور نئے کمپیوٹر فراہم کیے جائیں گے، تاہم ان کے بقول تاحال ان وعدوں پر عمل درآمد نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے مسائل بدستور برقرار ہیں۔
عوامی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جھنگ، اے ڈی سی ریونیو اور بورڈ آف ریونیو پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ رجسٹری برانچ میں کمپیوٹر سرور، لنک ڈاؤن اور دیگر تکنیکی مسائل فوری طور پر حل کیے جائیں، تحصیلدار کو روزانہ کی بنیاد پر رجسٹریوں کی انجام دہی کا پابند بنایا جائے، ہر تحصیل میں رجسٹری کا الگ نظام فعال کیا جائے تاکہ ایک ہی افسر پر بوجھ کم ہو، نئے کمرے تعمیر کیے جائیں اور اضافی عملہ تعینات کیا جائے تاکہ عوام کو بروقت سہولت مل سکے اور حکومتی ریونیو بھی متاثر نہ ہو۔



















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *