728 x 90

جھنگ کی دو نجی فروٹ و سبزی منڈیوں کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا، دو سال میں چار دیواری سے آگے کام نہ بڑھ سکا

جھنگ کی دو نجی فروٹ و سبزی منڈیوں کا منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا، دو سال میں چار دیواری سے آگے کام نہ بڑھ سکا

(وحید اختر چوہدری سے) دو سال قبل اصولی منظوری کے باوجود جھنگ میں قائم کی جانے والی دو پرائیویٹ فروٹ و سبزی منڈیاں مقررہ شرائط پوری نہ کر سکیں، منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ چنیوٹ روڈ اور بائی پاس بھکر روڈ پر مجوزہ دونوں منڈیوں میں دو سال کے دوران صرف چار دیواری اور مٹی

(وحید اختر چوہدری سے) دو سال قبل اصولی منظوری کے باوجود جھنگ میں قائم کی جانے والی دو پرائیویٹ فروٹ و سبزی منڈیاں مقررہ شرائط پوری نہ کر سکیں، منصوبہ کھٹائی میں پڑ گیا۔ چنیوٹ روڈ اور بائی پاس بھکر روڈ پر مجوزہ دونوں منڈیوں میں دو سال کے دوران صرف چار دیواری اور مٹی ڈالنے کا کام ہوسکا، جبکہ دیگر بنیادی و ضروری سہولیات کی فراہمی اور تعمیراتی کام مکمل نہ کیے جاسکے۔ مارکیٹ کمیٹی نے دونوں منڈیوں کے مالکان کو ایک ماہ کا حتمی الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مقررہ مدت میں شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں منظوری منسوخ کردی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق شہر میں فروٹ و سبزی منڈی کے باعث ٹریفک کے بڑھتے ہوئے دباؤ اور شہریوں کو درپیش مشکلات کو کم کرنے کے لیے ڈائریکٹر جنرل پامرا کی جانب سے تقریباً دو سال قبل جھنگ میں دو پرائیویٹ فروٹ و سبزی منڈیوں کی اصولی منظوری دی گئی تھی۔ ایک منڈی چنیوٹ روڈ جبکہ دوسری بائی پاس، بھکر روڈ پر قائم کی جانی تھی۔ منظوری کے وقت منڈی مالکان کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ مقررہ مدت کے اندر تمام ضروری سہولیات سے آراستہ ماڈل منڈیاں تعمیر کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مقررہ دو سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود دونوں مقامات پر منظور شدہ منصوبے کے مطابق خاطر خواہ ترقیاتی کام نہیں ہوسکے اور صرف چار دیواری کی تعمیر اور زمین پر مٹی ڈالنے تک کام محدود رہا۔ نہ تو منڈیوں کے لیے درکار انفراسٹرکچر مکمل کیا جاسکا اور نہ ہی وہ بنیادی سہولیات فراہم کی جاسکیں جو منظوری کی شرائط کا حصہ تھیں۔ اس صورتحال کے باعث پرائیویٹ منڈیوں کا منصوبہ عملی طور پر تعطل کا شکار ہوگیا ہے۔

ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ اس دوران بعض منڈی مالکان کی جانب سے آڑھتیوں اور تاجروں سے منڈی کی تعمیر اور مستقبل کی سہولیات کے نام پر رقوم بھی وصول کی گئیں، تاہم وعدوں اور دعوؤں کے برعکس مقررہ مدت میں تعمیراتی کام مکمل نہیں ہوسکا۔ ذرائع کے مطابق بعض افراد کی جانب سے منڈی کے قیام کے حوالے سے تشہیری مواد اور ویڈیوز کے ذریعے تاجروں کو راغب کیا گیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد کی رقوم بھی پھنسنے کا خدشہ ہے۔ تاہم ان الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی۔

مارکیٹ کمیٹی کا ایک ماہ کا حتمی الٹی میٹم

صورتحال پر مارکیٹ کمیٹی نے سخت نوٹس لیتے ہوئے دونوں پرائیویٹ منڈیوں کے مالکان کو ایک ماہ کی حتمی مہلت دے دی ہے۔ مارکیٹ کمیٹی کے ایک سینئر عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ڈی جی پامرا کی منظوری کے تحت عائد شرائط پر عمل درآمد نہ ہونے کی صورت میں دونوں منڈیوں کی منظوری منسوخ کی جاسکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق مقررہ مدت میں کام مکمل نہ ہونے پر مارکیٹ کمیٹی کی جانب سے آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا، جس میں منڈیوں کو اپنی تحویل میں لینے کا آپشن بھی زیر غور ہے۔

دوسری جانب ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ جھنگ میں سرکاری سطح پر گوجرہ روڈ بائی پاس پر سبزی و فروٹ منڈی کے قیام کی تجویز پہلے سے موجود تھی اور اس کے لیے جگہ بھی مختص کی گئی تھی، تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر اس منصوبے پر پیش رفت نہ ہوسکی۔ ذرائع کے مطابق سرکاری منڈی کے قیام کے حوالے سے محتسب پنجاب کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا جاتا رہا ہے، جس میں سرکاری جگہ پر منڈی شروع کرنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ تاہم ان دعوؤں اور فیصلے کی موجودہ حیثیت کی متعلقہ حکام سے باضابطہ تصدیق ضروری ہے۔

چنیوٹ روڈ پر مجوزہ پرائیویٹ منڈی کے حوالے سے بھی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقام کے قریب سرکاری سکول موجود ہونے کے باعث مختلف اعتراضات سامنے آتے رہے۔ ذرائع کے مطابق مبینہ طور پر سکول کی منتقلی کی کوششیں بھی کی گئیں، تاہم اس حوالے سے متعلقہ محکموں کی جانب سے کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

آڑھتیوں اور شہریوں کا سرکاری منڈی فعال کرنے کا مطالبہ

دوسری جانب شہریوں اور آڑھتیوں کے ایک بڑے حلقے نے مطالبہ کیا ہے کہ جھنگ میں فروٹ و سبزی منڈی کے مسئلے کو مستقل بنیادوں پر حل کیا جائے اور سرکاری طور پر مختص جگہ پر منڈی کے قیام کے منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں شہر کے اندر منڈی کی سرگرمیوں کے باعث ٹریفک کا دباؤ بڑھتا ہے، جس سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

آڑھتیوں اور شہریوں نے ڈپٹی کمشنر جھنگ سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری جگہ پر منڈی کے قیام سے متعلق سابقہ فیصلوں اور دستیاب ریکارڈ کا جائزہ لے کر فوری اقدامات کیے جائیں تاکہ شہر میں ٹریفک کا دباؤ کم کرنے کے ساتھ ساتھ تاجروں اور شہریوں کو بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ منڈی کے قیام کا معاملہ مزید طول دینے کے بجائے شفاف طریقے سے ایسا حل نکالا جائے جو شہر، تاجروں اور عام شہریوں کے مفاد میں ہو۔

Posts Carousel

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked with *

Latest Posts

Top Authors

Most Commented

Featured Videos