خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
پہلی تاریخی جھنگ ڈیزرٹ ریلی و تین روزہ ثقافتی فیسٹیول,11,10,9 اکتوبر رحمت آباد، تحصیل اٹھارہ ہزاری میں ہوگیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیشرفت پر تشویش کا اظہارحکومت کا تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی آڈٹ کا فیصلہپاکستان اور آسٹریا کا علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیالامریکی ناظم لاامور نٹالی بیکر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہالیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرروزیراعظم شہباز شریف کا شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہجھنگ: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کا عمل تیز کرنے کا حکم، اب تک جھنگ سے356 افراد وطن واپس بھجوائے گئے، ترجمان پولیس
انسانی حقوق

خصوصی افراد کی راہ کے کانٹے کون چنے گا

گھر سے ایک ٹرائی سائیکل کو ہاتھ سے چلا کرآنا اور کالج میں آکرہاتھوں کے بل سیڑھیاں چڑھ کر جانا یا پھرایک مریض یا بیمار شخص کی طرح چند دوست جب اپنے ہاتھوں پر…

خصوصی افراد کی راہ کے کانٹے کون چنے گا

گھر سے ایک ٹرائی سائیکل کو ہاتھ سے چلا کرآنا اور کالج میں آکرہاتھوں کے بل سیڑھیاں چڑھ کر جانا یا پھرایک مریض یا بیمار شخص کی طرح چند دوست جب اپنے ہاتھوں پر اٹھا کرکلاس روم میں لاجاتے تھے تو دل جو تکلیف ہوتی تھی وہ میں جانتا ہوں یا میرا اللہ جھنگ کے محلہ ذوالفقار کالونی کے رہائشی 23 سالہ فہیم اعجاز جو پیدائشی طور پر جسمانی معذوری کا شکار ہیں اور ان کی دونوں ٹانگیں پولیو کے باعث کام نہیں کرپاتیں اپنے مسائل سے کافی رنجیدہ نظر آئے فہیم اعجاز کہتے ہیں کہ ہم معذور افراد کو اگرچہ خصوصی افراد کا نام دیا جاتا ہے لیکن ہمارے مسائل کو حل کرنے کے لئے عام اقدامات بھی نہیں کئے جاتے اور نہ ہی ہم حکومتی ترجیحات میں شامل ہیں ۔ دکھ کی بات یہ ہے کہ ہم شہر بھر میں کسی بھی دفتریا تعلیمی ادارے میں جائیں وہاں روکاٹیں ہماری منتظر ہوتیں ہیں کسی بھی جگہ پر کوئی ریمپ یا جانے کا راستہ نہیں بنا ہوا ہوتا کہ ایک وہیل چیئر استعمال کرنے والا شخص اس کے ذریعے کسی دفتر یا ادارے کے اندر تک رسائی حاصل کر سکے ہم با آسانی کہیں بھی آجا نہیں سکتے ہیں۔ جب میں کالج میں پڑھاتا تھا تو بعض اوقات تو سارا سارا دن کالج کا ٹوائلٹ بھی استعمال نہیں کر سکتا تھا اتنے سارے ٹوائلٹ بلاکس میں سےایک بھی اس  قابل نہیں تھا کہ وہ ہم جسیے افراد کے لئے موزوں ہوں۔سب سے بڑے دکھ کی بات یہ بھی ہے کہ ہمارے ساتھ معاشرے کارویہ بھی بہے اچھا نہیں ہوتا کبھی کبھی تو اپنے بھی ہمیں بوجھ سمجھنا شروع کردیتے ہیں جو ہمارے لئےایک تکلیف دہ امر ہے۔

یہ مسئلہ صرف فہیم اعجاز کا نہیں بلکہ جھنگ اورپاکستان میں موجود لاکھوں معذور افراد کو ہرجگہ پر بہت سی روکاوٹوں کا سامنا ہے ۔

  اعدادو شمار کے مطابق محمکمہ سوشل ویلفیئر جھنگ  کے پاس 11 ہزارسے زائد معذور افراد رجسٹرڈ ہیں۔۔ پاکستان میں اس حوالے سے اگر اعداد شمار کا جائزہ لیا جائے تو1998 میں ہونے والی پانچویں مردم شماری کے مطابق پاکستان میں معذور افراد کی تعداد کل آبادی کا 2اعشاریہ 38 فیصد تھی جو کہ 2017 میں کم ہوکر صفر اعشاریہ 48 فیصد ہوگی جبکہ 2017 کی مردم شماری میں گروتھ ریٹ 2 اعشاریہ 40 فیصد بتایا گیا ہے۔محکمہ ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے 2021 نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا) کی جانب سے جاری کئے جانے والے اعداد شمار کے مطابق پاکستان میں معذور افراد کی تعداد 371833 ہے جبکہ اب تک 2023 میں جاری ہونے مردم شماری کے اعداد شمار میں ابھی تک معذو رافراد کی مکمل تعداد کے حوالے سے تفصیلات جاری نہیں کیں گئیں۔ کچھ دیگر رپورٹس کے مطابق پاکستان میں یہ تعداد کل آبادی کا 6 فیصد  ہے لیکن ہم سرکاری اعداد شمار کودرست تسلیم کرتے ہوئے یہ کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان میں معذور افراد کی تعداد 3 ملین سے زائد ہے  اور تناسب کے اعتبا رسے پنجاب میں یہ 55 اعشاریہ 7 فیصد، سندھ میں 28اعشاریہ 4 فیصد خیبر پختنواہ میں 11 اعشاریہ 1 فیصد ،بلوچستان میں 4 اعشاریہ 5 فیصد اور اسلام آباد میں صفر اعشاریہ 3 فیصد کی آبادی معذور افراد پر مشتمل ہے۔ اس اعتبار سے پنجاب میں تقریبا 18 لاکھ کے قریب معذور افراد ہیں

 جبکہ یواین ڈی پی کی 2023 میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں تقریبا 1 اعشاریہ 3 بلین افراد کسی نہ کسی معذوری کا شکار ہیں جوکہ دنیا کی کل آبادی کا 16 فیصد  بنتی ہے۔

جھنگ  کی طرح پاکستان بھر میں معذور افراد بہت سے مسائل سے دوچار ہیں۔ سب زیادہ مسائل ان کے لئے آمدورفت کے ہیں کسی بھی سرکاری یا نجی دفتر میں جانے کے لئے کسی قسم کے ریمپ موجود نہیں جس کی وجہ سے انہیں بہت زیادہ مسائل کا سامنا ہے اسی طرح سرکاری دفاتر سمیت ان افراد کے لئے ٹوائلٹ کی سہولت بھی نایاب ہے اس کے علاوہ ایک شہر سے دوسرے شہر سفر کرنا بھی ان کے لئے کسی امتحان سے کم نہیں جھنگ سمیت پاکستان میں چلنے والی ٹرانسپورٹ بشمول پاکستان ریلوے میں ان افراد کے سوار ہونے اور اترنے کے لئے کوئی بھی سہولت دستیاب نہیں ہے ۔لاتعداد روکاوٹوں کے سبب معذور افراد میں ناخؤاندگی کی شرح بھی بہت زیادہ  ہے گیلپ پاکستان کے 2021 میں کئے جانے والے ایک سروے کے مطابق معذور افراد میں ناخواندگی کی شرح 68 اعشاریہ 4 فیصد ہے جو کہ بہت زیادہ ہے۔ایک اور بڑا مسئلہ جو ان افراد کو درپییش وہ بے روزگاری بھی ہے۔ سب سے اہم اور تکلیف دہ امر یہ بھی ہے کہ انہیں معاشرتی طور پر نارواہ رویوں کا بھی سامنا رہتا ہے جس کا اثر ان کی نفسیات پر بھی  پڑتا ہے

۔2002 میں وفاقی حکومت کی جانب سے بنائی گئی پالیسی کے تحت معذور افرد کے لئے 2 فیصد کوٹہ تمام سرکارکی دفاتر میں مختص کیا گیا جس  پر ایک کیس کی سماعت کے بعد جنوری 2023 جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے ایک حکمنامے میں اسے 3 فیصد کرنے کے احکامات جاری کئے۔ معذور افراد کے لئے یوں تو 1981 میں معذور افراد  (روزگار اور بحالی) آرڈیننس 1981 بھی بنایا گیا جس میں معذور افراد کے لئے  تعلیم، روزگار، بحالی سے متعلق پی ڈبلیو ڈی کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا گیا اور معذور افراد کی بحالی کے لیے فنڈز بنانے اور قومی کونسل قائم کرنے جسیے اقدامات کرنے کی ضرورت پر ضرور دیا گیا ۔

 اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری رائٹس آف پرسنز ود ڈس ایبلٹی ایکٹ 2020 میں بنایا گیا

جبکہ پنجاب میں اس  حوالے سےایک ایکٹ  پنجاب ایمپاورمنٹ ود ڈس ایبلٹی ایکٹ 2022 میں بنا یا گیا ۔اگر اس ایکٹ کو پڑھا جائے یقینی طور یہ ایکٹ ان افراد کے بہت سے مسائل کا احاطہ کرتا ہے اور یہ ایک بہت بہتر قانون ہے لیکن سب اہم بات یہ ہے  کہ اس ایکٹ پر ابھی تک مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات نہیں کئے جاسکے جو کہ اداروں کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے۔۔معذور افراد کے لئے ایک بڑا مسئلہ ان کی معاشی بحالی کا منصوبوں کا نہ ہونا بھی ہے ابھی تک اس حوالے بھی کوئی مستحکم پلان ترتیب نہیں دیا گیا ۔سب سے زیادہ مسائل معذور خواتین کے لئے ہیں یہ زیادہ   مسائل کا شکارہیں اور ان کی حالت دیگر معذور افراد سے زیادہ افسوس ناک ہے اس تحقیق کے دوران جب ہم نے پانچ خواتین سے اس حوالے سے بات کرنے کی کوشش کی تو ان کے اہل خآنہ کی جانب سے ان سے بات کرنے کی اجازت ہی نہیں دی گئی جو ایک حیران کن عمل تھا۔ اس سے یہ بات مکمل طور پر ظاہرہوتی ہے کہ اس طبقے سے تعلق رکھنے والی مزید مسائل سے دوچار ہیں۔افسوس ناک امر یہ بھی ہے کہ ان افراد کے مسائل کے حوالے سے کبھی کھل بات ہی نہیں کی گئی جس کاسب سے بڑا ثبوت یہ کہ ہمیں جھنگ کی کسی بھی سرکاری عمارت میں چلیں جائیں وہاں پر ان کے لئے کوئی ریمپ وغیر موجود ہی نہیں ہے شاید فیصلہ ساز ان کے مسائل کو مسئلہ سجمھتے ہی نہیں ہیں جس کی وجہ سے کچھ مخصوص دنوں کے علاوہ ان کو درپیش مسائل پر کبھی بات ہی کی جاتی۔  

اس حوالے سے منورعباس سوشل ویلفیئر جھنگ کے مینٹور فار بلائنڈ کہتے ہیں یورپین ممالک میں گاڑیاں اس انداز میں ڈیزائن کیں جاتیں ہیں کہ کوئی بھی وہیل چیئراستعمال کرنے والا شخص اس میں سوار ہوسکتا ہے۔اسی طرح نابینا افراد  کے لئے بھی سہولیات موجود ہیں جبکہ بدقسمتی کے ساتھ ہمارے یہاں ایسا کچھ نہیں ہے۔ اسی طرح ہمارے یہاں میں دفاتر میں واش رومز کے مسائل بھی درپیش ہیں جس کی وجہ سے ایک وہیل چیئر استمعال کرنے والا شخص اس کوآسآنی کے ساتھ استمعال نہیں کر سکتا لہذا اس پربھی کام کرنے کی ضرورت ہےاور جو سب سے اہم مسئلہ جو ہمارے لیے روکاوٹ کا باعث بنتا ہے وہ کسی سرکاری ونجی عمارت میں ریمپ کا نہ ہونا ہے بلکہ بہت سے بنکوں میں ریمپ موجود ہی نہیں ہوتے جس کے باعث ہمیں بہت سے مسائل کا سامنا کرتا پڑتا ہے کیونکہ جب تک ہم کسی دفتر میں داخل ہی نہ ہوپائیں گئے توہم کوئی بھی کام کس طرح آسانی کے ساتھ کرسکتے ہیں،ایک اہم امر یہ بھی ہے کہ بہت سے جسمانی معذورافراد عام تعلیمی اداروں میں پڑھتے ہیں لیکن وہاں پربھی ریمپ وغیرہ نہ ہونے کی وجہ سے انہیں کسی نہ کسی سےمدد لینا پڑتی وہ خود بھی اس کے گواہ ہیں جب وہ ذکریا یونیورسٹی میں پڑھا کرتے تھے تو وہاں پر ایک جسمانی معذور طالب علم بھی تعلیم حاصل کر رہے تھا جو باامر مجبوری سیڑھیاں اپنے ہاتھوں کے بل پرچڑھ کر جایا کرتے تھا جو کہ نہایت افسوس ناک ہے۔ جب آپ ایک عمارت بنا ہی رہے ہیں تو اس کی سیڑھیاں جہاں پر6 فٹ کی بنائی جارہیں وہیں پر یہ 8 فٹ بھی تو کی جاسکتیں اور دو فٹ پر ہسپتالوں کی طرز پر جس طرح اسٹریچر لے جانے کے لئے ریمپ  بنائے جاتے ہیں اس طرز پر بھی ان کو  بنایا جاسکتا ہے۔منور کہتے ہیں کہ سب سے تکلیف دہ عمل ان کے ساتھ لوگوں کا رویہ ہے اور یہ استحصال ان کے گھر سے ہی شروع ہوجاتا ہے۔انہیں عجیب عجیب القابات اور الفاظ سے پکارا جاتا ہے جس کی وجہ سے انہیں نفسیاتی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہی وجہ کہ ہے معذور افراد میں غصے کا عنصر زیادہ پایا جاتا ہے۔ منور عباس کو مزید کہنا تھا اس حوالے سے وہ ڈپٹی کمشنر جھنگ کے بھی خط لکھ چکے ہیں اور مختلف تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم بھی چلا رہے ہیں امید کرتے ہیں کہ کبھی نہ کبی تو سنوائی ہوہی جائے گئی

عالمی تیراندازی کے مقابلوں میں  پاکستان کی نمائندگی کرنے والے جھنگ کے تیرانداز قاسم طاہر کہتے ہیں کہ جب وہ بیرون ملک پاکستان کی نمائندگی کے لئے جاتے ہیں تو وہاں پرمعذور افراد کی  فراہم کی جانے والی سہولیات کو دیکھ کر حیران رہے جاتے ہیں لیکن وہ جب پاکستان آتے ہیں تو یہاں پر انہیں بہت زیادہ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے انہیں دفاتر سے لے کر تعلیمی اداروں تک میں جانے کے لئے روکاٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو بہت زیادہ تکلیف دیتا ہے اورپھر جب لوگوں کا رویہ مزید ترس بھرا یا غیر مہذبانہ ہوتا ہے تو اور بھی زیادہ دکھی کرتا ہے ایسا نہیں ہونا چاہئے

انسانی حقوق کے لئے کام کرنے والے سماجی کارکن آصف منور کتہے ہیں کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے  مسائل ہیں جن میں لاتعداد ایسے بھی ہیں جو براہ راست انسانیت کے ساتھ جڑے ہو ئے ہیں۔ معذورافراد کی نقل و حرکت کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے اور یہ انسانی حقوق کے ساتھ جڑا ہوا ہے ۔اصل میں ان افراد کے مسائل کے حؤالے سے کبھی سوچا ہی نہیں گیا اور نہ ہی یہ کبھی حکومتی ترجیحات میں شامل رہے  جبکہ یہ بھی پاکستان کے شہری ہیں اور ان کا بھی پاکستان پر اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور پاکستانی کا کیونکہ آئین پاکستان تمام پاکستانیوں کو مساوی حقوق دینے کی بات کرتا ہے ۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ  ان کے لئے جو قانون سازی اب تک کی گئی ہے اس پر عمل درآمد نہ ہونے کے برا بر ہے اگر صرف ان قوانین پر پر عمل درآمد ہی کر لیا جائےتو ان کے بہت سے مسائل حال ہو سکتے ہیں۔ جہاں تک ان کی رسائی کے مسائل ہیں تو پہلی بات تو یہ کہ اب کچھ سماجی تنظیموں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے آواز اٹھانے کی وجہ سے ان کے ریمپس، ٹوائلٹ اور دیگر مساائل پر کچھ بات ہونی شروع ہوئی ہے ورنہ چند سال قبل ایسا کچھ بھی نہیں تھا اورکسی بھی  سرکاری عمارت کا نقشہ بناتے پوئے اس بات کا خیال ہی نہیں رکھا جاتا تھا کہ یہاں پر کوئی معذور شخص بھی آسکتا ہے۔

 سب سے پہلے تو ہر شخص کوششش یہ کرے کہ جھنگ سمیت پاکستان بھر میں افراد باہم معذور افراد کی رجسٹریشن کا عمل جاری ہے اور میرا ان تمام افراد کومشورہ  ہے کہ وہ سوشل ویلفیئرڈیپارٹمنٹ میں اپنی رجسٹریشن کروائیں اور نادار سے اپنا شناختی کارڈ بنوائیں ۔آصف منور کا کہتے ہیں کہ اس حوالے سے انفاسٹرکچر کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے اور ان کی تجویز یہ ہے بجائے سفری کارڈ بنوانے کے ان کے شناختی کارڈ کو ہی ان کا سفری کارڈ تسلیم کیا جانا چاہیے اور اس حوالے ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو بھی بہتر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے ۔ معذور افراد کو بنک میں بائیومیٹرک کے مسائل بھی درپیش ہیں لہذا اس نظام کو بھی بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔اس حوالے ہمیں رویوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے کسی طور ان افراد کے لیئے تضحیک آمیز رویہ قابل قبول نہیں ہے

معذور افراد کے لئے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم سنٹر فار پیس اینڈ  ڈیویلپمنٹ انیشیٹیو(سی پی ڈی آئی) کے پروانشل منیجر پنجاب فیصل منظور انور کہتے ہیں کہ  معذورافراد  کو سہولیات، رسائی کی فراہمی اورروکاٹوں کے حوالے سے ہم نے جھنگ میں ڈپٹی کمشنر دفتر اور بنکوں سمیت مختلف 12 سرکاری اداروں کا سروے کیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ وہاں تک ان کی رسائی کس حد ممکن ہے تو یہ بات سامنے آئی کہ کسی بھی دفترمیں ریمپ سمیت  ایسی کوئی صورت حآل نہیں ہے یہاں تک سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں بھی ان کے لئے کوئی ٹوائلٹ اس قابل نہیں کہ اسے معذور افراد استعمال کر سکیں یہاں تک ریمپ بھی معذورافراد کے مطابق نہیں بنایا گیا جو انہتائی قابل افسوسناک امر ہے۔فیصل منظور انور کے مطابق اس تمام تر صورت حآل کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم نے ڈپٹی کمشنر جھنگ کو ایک خط لکھا اور اس میں انہیں معذور افراد کے حوالے سے ریمپ کی مکمل پیمائش بھی فراہم کی اورٹوائلٹ بلاکس کی تعمیر کے حوالے سے بھی وہیل چیئر استعمال کرنے والے افراد کی رسائی کے حوالے بات کی اور اس پر عمل درآمد کے حوالے اقدامات کی درخواست کی ۔ فیصل منظور کہتے ہیں جہاں تک لوگوں کے ساتھ ان کے روئے کی بات ہے تو ہم نے یہ بات محسوس کی کہ لوگ ان پر ترس کھاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ان کے ساتھ بے چارگی کا رویہ رکھا جائے تو یہ بہترہے لیکن یہ کسی طور بھی مناسب نہیں بلکہ ان کے ساتھ دیگر افراد کی طرح اخؒلاقیات کے دائر میں رہ کر ہی بات کی جانی چاہیے اوران اسے اچھے اخلاق سے پیش آنا چاہئے جس طرح ہم ایک عام فرد کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ ہمارے گروپ میں کچھ معذور افراد شامل ہیں اور ہم ان سے مشاورت کرتے رہتے ہیں اور اس حوالے مزید تجاویز بھی مرتب کی جارہی ہیں۔

یونیورسٹی آف جھنگ کے شعبہ نفسیات کی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ ڈاکٹر سیدہ راہیا کہتی ہیں جب ہم ڈویلمپنٹ سائیکولوجی کی بات کرتے ہیں تو جسیے جیسے یہ بچے بڑے ہورہے ہوتے ہیں تو ان میں اور عام بچوں میں بہت فرق پایا جاتا ہے،وہ سمجتھی ہیں معذور افراد میں نہ صرف جسمانی طور پر بلکہ نفسیاتی طور پر بہت سے معاملات ہوتے ہیں اور ان میں بہت سارے نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں خصوصا اس وقت جب یہ بڑے ہورہے ہوتے ہیں اور اسکول جارہے ہوتے ہیں اس وقت ان کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ دوسروں سے مخلتف ہے یہ احساس دو صورتوں میں  ہوتا  ہے ایک یا تو انہیں نظرانداز کیا جاتا یا انہیں ضرورت سے زیادہ توجہ دی جاتی ہے اور جوکام وہ کربھی پارہا ہوتے ہیں اس میں مدد فراہم کی جاتی ہے اور دونوں صورتوں کا احساس انہیں بار بار دلا یا جاتا ہے تووہ خود کوباقی بچوں سے  ذرا ہٹ کر محسوس کرنا شروع دیتا ہیں اس طرح یہ افراد دو تین طرح کے مسائل کا شکار ایک ہوسکتے  ہیں جیسا تنہائی کا شکار ہونا،ڈیپریشن کا شکار بھی ہوسکتے ہیں،اینزائٹی میں بھی جاسکتے ہیں اور بعض اوقات ان بچوں بہت زیادہ ایگریشن(غصہ) کی صورت حال بھی پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات چیخنا چلانا، چیزیں پھنکنا ہوسکتا ہے اور لوگوں کے خلاف یہ شکایتی رویہ بھی اپنا سکتے ہیں اور عمر کے ساتھ یہ عادتیں پختہ ہوتیں جاتیں ہیں جس کی وجہ سےان کی شخصیت پر اچھے اثرات مرتب نہیں ہوتے ڈاکٹر صاحبہ کا کہنا ہے اکثر اوقات ان افراد کی ذہنی تکلیف ان کی جسمانی تکلیف سے زیادہ ہوسکتی ہے

اسسٹنٹ ڈائر یکٹر سوشل ویلفیئر جھنگ شاہد امین کے مطابق ان کے محکمہ کے پاس 11 ہزار سے زائد معذور افراد رجسٹرڈ ہیں اور انہیں قوانین کے مطابق محکمہ اپنے دستیاب وسائل میں رہتے ہیں ہر قسم کے اقداما ت کرنے کے حوالے سہولیات کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کررہا ہے اور انہیں،روزگا، تعلیم،صحت اور سفری سہولیات کی فراہمی میں بلاتفریق مدد فراہم کی جاتی ہے۔وہ اس تاثر کو کلی طور پر رد کرتے ہیں کہ ان افراد کے لئے کام نہیں کیا جارہا البتہ یہ ضرور کہ کبھی کم یا کبھی زیادہ کام کیا جاتا ہے لیکن اب اس پر توجہ دی جارہی ہے۔

 اس حوالے ایک ایکٹ بھی پنجاب ایمپاورمنٹ ود ڈس ایبلٹی ایکٹ 2022 بھی بنا یا گیا ہے جس میں معذور افراد کے حقوق کے بارے میں تٖفصیل کے ساتھ بتایا گیا اس ایکٹ میں ان افراد کے روکاوٹوں،سہولیات اور نقل و حرکت کے حوالے سے تٖفصیل کے ساتھ بتا یا گیا جس میں ان کے ریمپس، اسپیشل واش رومز کے حوالے سے بھی بتایا گیا یہ ہر لحاظ ایک مکمل ایکٹ ہے اور اس ایکٹ کے مطابق نہ صرف حکومتی سطح پر کام کیا جارہا ہے بلکہ مخلتف غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر بھی کام کیا جارہا ہے اور ابھی حال ہی میں ہم نے قطر چیئرئٹی کے ساتھ ہم نے اپنے دفتر میں اسپیشل پرسن کے واش روم کا ایم او یو سائں کیا ہے اور ریمپ کے حوالے سے بھی کام کیا جارہا ہے اور اسی ایکٹ کے تحت جو بھی نئی عمارت بنے گئی یا جوپرانی عمارتیں موجود ہیں ان میں تمام روکاوٹوں کو دور کرنے پر کام کیا جارہا ہے اور ان کی رسائی کو ممکن بنایا جائے گا۔ معذورافراد کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اسی ایکٹ کے تحت  ہائی کورٹ کے تعاون سےخصوصی عدالتیں قائم کیں جائیں گئیں اور جب تک یہ عدالتیں نہیں بن پاتیں تو سیشن اور ایڈ یشنل سیشن جج کو اسپیشل کورٹس کو درجہ دیا جائے گا وہاں پر یہ شکایت درج کرواسکتے ہیں اور معذور افرد کو تضحیک کا نشانہ بنانے، ان کے حقوق غضب کرنے،ہراساں کرنے پر باقاعدہ سماعت کے بعد سزا دی جائے گئی جو ایک لاکھ روپے جرمانہ اوردو سال قید کی سزا بھی دی جاسکتی ہے۔ معذور افراد کی خؤد کفالت اور ان کی معاشی بحآلی پر بھی کام کیا جارہا اور اس حوالے ہمارے ادارے کے ڈائریکٹر جنرل مدثر ریاض ملک صاحب کام کر رہے اور بہت جلد اس پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے گا کیونکہ ہم انہیں بھکاری نہیں بنانا چاہتے۔اس کے علاوہ انیبل پورٹل فار اسپیشل پرسن بھی لانچ کیا گیا ہے جس میں ڈونر اور معذور افراد دونوں کو رجسٹرڈ کیا جارہا اورمعذور افراد کو مصنوعی آلات ان کے گھروں تک پہنچائے جائیں وہ بھی بغیر کسی قیمت کے اس پورٹل پر ان افراد کی زیادہ سے زیادہ رجسٹریشن کو بھی یقینی بنانے پر عملی اقدامات کئے جارہے ہیں اس کے علاوہ سرکاری اداروں 3فیصد ملازمت کے اقدامات کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے اور نجی اداروں میں ملازمت کے مواقع بھی پیدا کیئے جاتے ہیں،جہاں تک ٹرانسپورٹ کی کرایوں میں کمی کی بات ہے اس پر سختی کے ساتھ عمل کروایا جاتا ہے اور تمام مروجہ  دیگرقانونی سہولیات کو بھی ہقینی بنایا جاتا ہے

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں