سینیئر سول جج کرمنل ڈویژن نصر اللہ وٹو نے ایک دن میں 220 کیسز کے فیصلے سنا کر عدالتوں میں ایک تاریخی ریکارڈ قائم کر دیا
جھنگ میں سینیئر سول جج کرمنل ڈویژن نصر اللہ وٹو نے عدالتوں میں کیسز کے فیصلوں کے حوالے سے ایک تاریخی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے ایک دن میں 220 کیسز کے فیصلے…

جھنگ میں سینیئر سول جج کرمنل ڈویژن نصر اللہ وٹو نے عدالتوں میں کیسز کے فیصلوں کے حوالے سے ایک تاریخی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے ایک دن میں 220 کیسز کے فیصلے سنائے، جو ملکی تاریخ میں منفرد ریکارڈ ہے۔ سینیئر سول جج نصر اللہ وٹو نے عدالت میں مجموعی طور پر 264 کیسز کی سماعت کی، کیسز کی فیصلے سناتے ہوئے سزا کے طور پر 2 لاکھ 70 ہزار روپے کے جرمانے بھی عائد کیے گئے۔ اس کے علاوہ، سینئر سول جج نصر اللہ وٹو نے نہ صرف عدالت میں بلکہ ڈسٹرکٹ جیل میں بھی کیسز کی سماعت کی۔
پبلک پراسیکیوٹر خرم شیر بھٹی نے ان کیسز کی پراسیکیوشن کی ذمہ داری نبھائی۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ بنچ اور پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ سائلین کو بروقت انصاف کی فراہمی کے لیے ایک پیج پر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم اور پراسیکیوٹر جنرل سید فرہاد علی شاہ کی ہدایت پر اس انقلابی اقدام کے تحت ایک روز میں 200 سے زائد مقدمات کے فیصلے سنا کر عدلیہ کی تاریخ میں ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا گیا ہے۔
خرم شیر بھٹی نے اس بات پر زور دیا کہ عدلیہ اور پراسیکیوشن ڈیپارٹمنٹ دونوں سائلین کو انصاف کی تیز تر فراہمی کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں اور اس نوعیت کے اقدامات سائلین کے حقوق کے تحفظ کی طرف ایک اہم قدم ہیں۔


