عالمی بینک نے پاکستان کی معاشی پیش رفت کا اعتراف کر لیا، مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی اصلاحات میں بہتری، شرحِ نمو 3.7 فیصد تک پہنچ گئی
مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ عالمی بینک نے پاکستان کی معیشت میں استحکام کی بحالی، مالیاتی نظم و ضبط کے استحکام اور ساختی اصلاحات میں پیش رفت کو تسلیم کیا…

مشیرِ وزیرِ خزانہ خرم شہزاد نے کہا ہے کہ عالمی بینک نے پاکستان کی معیشت میں استحکام کی بحالی، مالیاتی نظم و ضبط کے استحکام اور ساختی اصلاحات میں پیش رفت کو تسلیم کیا ہے۔ انہوں نے یہ بات سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں عالمی بینک کی تازہ رپورٹ ’’پاکستان ڈیولپمنٹ اپ ڈیٹ: اٹیننگ اسکیپ ویلوسٹی‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔
خرم شہزاد کے مطابق، عالمی اور علاقائی معاشی دباؤ کے باوجود پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح مالی سال 2025 کے 3.2 فیصد سے بڑھ کر مالی سال 2026 میں 3.7 فیصد ہوگئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پیش رفت ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کی عکاسی کرتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومتی آمدن میں اضافے اور اخراجات پر کنٹرول کے اقدامات کے نتیجے میں بنیادی مالیاتی سرپلس مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 2.9 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ بنیادی مالیاتی سرپلس سے مراد قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کو شمار کیے بغیر حکومتی آمدن اور اخراجات کے درمیان بچنے والی رقم ہے۔ مشیرِ وزیرِ خزانہ نے مزید کہا کہ بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں ایس اینڈ پی (S&P) اور موڈیز (Moody’s) کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری بھی عالمی مالیاتی منڈیوں کے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کے مطابق، پاکستان نے 3 ارب ڈالر کے یورو بانڈز جاری کرکے بین الاقوامی قرض مارکیٹ میں دوبارہ رسائی حاصل کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی رپورٹ میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات، تجارتی لبرلائزیشن اور نجکاری کے اقدامات کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، ان اصلاحات پر مسلسل عمل درآمد پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ، نجی شعبے کی ترقی اور پائیدار معاشی نمو کے لیے اہم ہے۔
تاہم، معاشی اشاریوں میں بہتری کے باوجود پائیدار ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور عوام کی فی کس آمدن بڑھانے کے لیے مزید اصلاحات کی ضرورت برقرار ہے۔ عالمی بینک کے مطابق، اصلاحات کے تسلسل سے پاکستان اپنی معاشی ترقی کی رفتار میں نمایاں اضافہ کرسکتا ہے


