جھنگ میں 8 جون کو ہسپتال میں جاں بحق ہونے والی 18 سالہ عیشال فاطمہ کے اہل خانہ نے پولیس تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا اور بعد ازاں پریس کلب سے ڈی پی او آفس تک احتجاجی ریلی نکالی۔ احتجاج میں خاندان کے سیکڑوں افراد نے
جھنگ میں 8 جون کو ہسپتال میں جاں بحق ہونے والی 18 سالہ عیشال فاطمہ کے اہل خانہ نے پولیس تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا اور بعد ازاں پریس کلب سے ڈی پی او آفس تک احتجاجی ریلی نکالی۔ احتجاج میں خاندان کے سیکڑوں افراد نے شرکت کی اور واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لواحقین نے کہا کہ مقدمے میں نامزد چاروں ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں جبکہ مقدمے میں قتل، زیادتی اور دیگر متعلقہ دفعات بھی شامل کی جا چکی ہیں، تاہم اس کے باوجود تحقیقات کے حوالے سے انہیں شدید تحفظات لاحق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کی جانب سے قائم کردہ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم اور تفتیشی عمل پر اعتماد نہیں کرتے۔
اہل خانہ کے مطابق میڈیکل رپورٹ سے لے کر اب تک ہونے والی تحقیقات میں کئی سوالات موجود ہیں جن کے تسلی بخش جوابات سامنے نہیں آئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر عیشال فاطمہ کے ساتھ زیادتی اور قتل جیسے سنگین جرائم ہوئے ہیں تو ملزمان کو قانون کے مطابق سخت سزا دلانے اور حقائق عوام کے سامنے لانے میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔
احتجاجی شرکاء نے الزام عائد کیا کہ ایک سابق صوبائی سیاسی شخصیت مقدمے کی تحقیقات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے کیس کی شفافیت متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ اور مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ حقائق بلا خوف و دباؤ سامنے آ سکیں۔
لواحقین نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے معاملے کا فوری نوٹس لینے، اعلیٰ سطح کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عیشال فاطمہ کو انصاف دلانے کے لیے ہر قانونی اور آئینی فورم سے رجوع کریں گے اور انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *