خبروں پر جائیں
جھنگ، پاکستان
تازہ ترین
پہلی تاریخی جھنگ ڈیزرٹ ریلی و تین روزہ ثقافتی فیسٹیول,11,10,9 اکتوبر رحمت آباد، تحصیل اٹھارہ ہزاری میں ہوگیوزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا لاس اینڈ ڈیمیج فنڈ کو فعال بنانے میں سست پیشرفت پر تشویش کا اظہارحکومت کا تمام بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے تکنیکی آڈٹ کا فیصلہپاکستان اور آسٹریا کا علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت پر تبادلہ خیالامریکی ناظم لاامور نٹالی بیکر نے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی قربانیوں کو سراہالیفٹیننٹ جنرل (ر) نعمان محمود مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے پہلے سیکرٹری جنرل مقرروزیراعظم شہباز شریف کا شام کی خودمختاری، اتحاد اور علاقائی سالمیت کے لیے حمایت کا اعادہجھنگ: غیر قانونی مقیم غیر ملکیوں کے انخلاء کا عمل تیز کرنے کا حکم، اب تک جھنگ سے356 افراد وطن واپس بھجوائے گئے، ترجمان پولیس
جھنگ

عیشال فاطمہ کیس: لواحقین کا پریس کلب سے ڈی پی او آفس تک احتجاجی مارچ، پولیس تحقیقات پر عدم اعتماد، شفاف انکوائری کا مطالبہ

جھنگ میں 8 جون کو ہسپتال میں جاں بحق ہونے والی 18 سالہ عیشال فاطمہ کے اہل خانہ نے پولیس تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا…

عیشال فاطمہ کیس: لواحقین کا پریس کلب سے ڈی پی او آفس تک احتجاجی مارچ، پولیس تحقیقات پر عدم اعتماد، شفاف انکوائری کا مطالبہ

جھنگ میں 8 جون کو ہسپتال میں جاں بحق ہونے والی 18 سالہ عیشال فاطمہ کے اہل خانہ نے پولیس تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پریس کلب کے باہر احتجاج کیا اور بعد ازاں پریس کلب سے ڈی پی او آفس تک احتجاجی ریلی نکالی۔ احتجاج میں خاندان کے سیکڑوں افراد نے شرکت کی اور واقعہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے لواحقین نے کہا کہ مقدمے میں نامزد چاروں ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں جبکہ مقدمے میں قتل، زیادتی اور دیگر متعلقہ دفعات بھی شامل کی جا چکی ہیں، تاہم اس کے باوجود تحقیقات کے حوالے سے انہیں شدید تحفظات لاحق ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کی جانب سے قائم کردہ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم اور تفتیشی عمل پر اعتماد نہیں کرتے۔

اہل خانہ کے مطابق میڈیکل رپورٹ سے لے کر اب تک ہونے والی تحقیقات میں کئی سوالات موجود ہیں جن کے تسلی بخش جوابات سامنے نہیں آئے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اگر عیشال فاطمہ کے ساتھ زیادتی اور قتل جیسے سنگین جرائم ہوئے ہیں تو ملزمان کو قانون کے مطابق سخت سزا دلانے اور حقائق عوام کے سامنے لانے میں تاخیر کیوں کی جا رہی ہے۔

احتجاجی شرکاء نے الزام عائد کیا کہ ایک سابق صوبائی سیاسی شخصیت مقدمے کی تحقیقات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے، جس سے کیس کی شفافیت متاثر ہو سکتی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تحقیقات کو ہر قسم کے سیاسی دباؤ اور مداخلت سے پاک رکھا جائے تاکہ حقائق بلا خوف و دباؤ سامنے آ سکیں۔

لواحقین نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب سے معاملے کا فوری نوٹس لینے، اعلیٰ سطح کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرانے اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عیشال فاطمہ کو انصاف دلانے کے لیے ہر قانونی اور آئینی فورم سے رجوع کریں گے اور انصاف کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔

ریٹس
سونا (10 گرام)241,500+800چاندی (کلو)2,850+35امریکی ڈالر278.40-0.15یورو302.10+0.40پاؤنڈ اسٹرلنگ352.75+1.20PSX انڈیکس78,452+1,024سعودی ریال74.20+0.05سونا (تولہ، 24 قیرات)281,750+930

خبریں تلاش کریں