پنجاب بھر میں مقامی حکومتوں کے الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے مقامی شہری شدید مشکلات کا شکار،ترقیاتی منصوبے ٹھپ،الیکشن کروانے کا مطالبہ،آصف منور
پنجاب شفافیت اور معلومات تک رسائی کے حق کے قانون 2013 کے تحت معلومات کے حصول کے لئے آصف منور ممبر ضلعی کمیٹی انسانی حقوق جھنگ کی طرف سے مورخہ 18/05/24کو ڈپٹی ڈائر یکٹر…

پنجاب شفافیت اور معلومات تک رسائی کے حق کے قانون 2013 کے تحت معلومات کے حصول کے لئے آصف منور ممبر ضلعی کمیٹی انسانی حقوق جھنگ کی طرف سے مورخہ 18/05/24کو ڈپٹی ڈائر یکٹر لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ ضلع جھنگ کو درخواست گزاری گئی تھی جس میں شہری حقوق کو استعمال کرتے ہوئے پوچھا گیا تھا کہ ضلع جھنگ میں کل کتنی یونین کونسلز ہیں اور ان کونسلز میں جولائی 2023 تا جون 2024 تک کتنے اجلاس منعقد ہوئے ہیں،ان کونسلز کا ترقیاتی بجٹ کتنا تھا،یہ بجٹ کن ترقیاتی منصوبوں میں خرچ ہواجبکہ کونسلز نے کتنا ٹیکس اکٹھا کیا۔ جس پر چیف انفارمیشن کمشنر پنجاب کے حکم پر لوکل گورنمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مہرامتیاز نول کی طرف سے تحریری جواب میں بتایا گیا ہےکہ ضلع جھنگ میں کل 91 یونین کو نسلز کے دفاتر موجود ہیں۔ بلدیاتی ادارے مورخہ31دسمبر 2021 سے ختم ہو چکے ہیں۔ اور یونین کونسلز میں اجلاس بلدیاتی نمائندوں کی موجودگی میں ہوتا ہے۔ چونکہ بلدیاتی ادارے موجود نہ ہیں اس لیے اجلاس نہیں بلایا جا سکتا۔ اور ترقیاتی کام کروانے کا استحقاق بلدیاتی نمائندوں کے پاس ہوتا ہے۔ بلدیاتی اداروں کی عدم موجودگی کی وجہ سے نہ کوئی ترقیاتی بجٹ موصول ہوا ہے اور نہ ہی کوئی ترقیاتی کام یو نین کو نسلز کی سطح پر کروایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یو نین کو نسلز میں کوئی ٹیکس وصول نہیں کیا جاتا۔ عوامی و سماجی و انسانی و شہری حلقوں نے اس جواب پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب بھر میں مقامی حکومتوں کے الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں اوریونین کونسل نچلی سطح پر کوئی ترقیاتی منصوبہ عمل میں نہ لایا گیا ہے جس سے بنیادی انسانی حقوق شدید متاثر ہورہے ہیں۔مقامی حکومتوں کے الیکشن جلد از جلد کروانا ہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ شہریوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ
محکمہ لوکل گورنمنٹ تو ترقیاتی کام کروانا چاہتا ہے لیکن فنڈز اور وسائل نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ان فرائض منصبی سے قاصر ہیں۔


