افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں میں اضافے کو خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، اور اس حوالے سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔ عالمی تنظیم کولیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) نے افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا
افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی اور سرگرمیوں میں اضافے کو خطے کے امن کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا جا رہا ہے، اور اس حوالے سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے۔
عالمی تنظیم کولیکٹو سیکیورٹی ٹریٹی آرگنائزیشن (سی ایس ٹی او) نے افغانستان کی سکیورٹی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
سی ایس ٹی او کے سیکرٹری جنرل تالاتبیک ماسادیکوف نے کہا ہے کہ افغانستان میں بدامنی اور عالمی دہشتگرد تنظیموں کی کارروائیاں مسلسل بڑھ رہی ہیں، جو اب صرف داخلی مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کیلئے خطرہ بن چکی ہیں۔
تنظیم کے مطابق افغانستان میں موجود دہشتگرد گروہوں کی سرگرمیوں سے یورپ اور ایشیا کے امن و استحکام کو بھی خطرات لاحق ہیں۔
افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق سی ایس ٹی او کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف آندرے سیرڈیکوف بھی افغانستان میں عالمی دہشتگرد گروہوں کی موجودگی سے خبردار کر چکے ہیں، جن کے مطابق یہ عناصر پڑوسی ممالک میں دہشتگردی میں اضافہ کر رہے ہیں۔
روسی سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری کے مطابق افغانستان میں تقریبا 18 سے 23 ہزار دہشتگرد موجود ہیں، جو خطے میں عدم استحکام کا باعث بن رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمسایہ ممالک میں بڑھتی ہوئی دہشتگردی کے پیچھے افغانستان میں موجود جنگجوں کو مبینہ طور پر طالبان حکومت کی حمایت حاصل ہے۔
ماہرین نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے دہشتگردی کے خاتمے کیلئے طالبان حکومت پر مزید دبا ئو بڑھائے۔
















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *