ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن جھنگ کے رکن کامران شبیر ایڈووکیٹ نے تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں اپنے خلاف درج ایف آئی آر نمبر 999/26 کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمہ ایک مبینہ جعلی اور بوگس معاہدے کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔ گزشتہ روز پریس کلب جھنگ
ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن جھنگ کے رکن کامران شبیر ایڈووکیٹ نے تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں اپنے خلاف درج ایف آئی آر نمبر 999/26 کو بے بنیاد اور حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ مقدمہ ایک مبینہ جعلی اور بوگس معاہدے کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔
گزشتہ روز پریس کلب جھنگ میں اپنے خلاف کی جانے والی پریس کانفرنس کے جواب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کامران شبیر ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ جس معاہدے کو ان کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی بنیاد بنایا گیا ہے، وہ مبینہ طور پر جعلی اور بوگس ہے اور اسے مبینہ ملی بھگت سے 2022ء میں تیار کیا گیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ معاہدے کا علم ہونے پر انہوں نے اسے اسی سال عدالت میں چیلنج کردیا تھا، جبکہ مقدمے کے مدعی کی جانب سے عدالت میں دائر کیا گیا دعویٰ برائے تکمیلِ معاہدہ بھی 2023ء میں خارج ہوچکا ہے۔
کامران شبیر ایڈووکیٹ نے الزام عائد کیا کہ مذکورہ معاملے کے تقریباً چار سال بعد مقامی پولیس نے مبینہ ملی بھگت سے ان کے خلاف جھوٹا مقدمہ درج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ قانونی طریقہ کار کے ذریعے مقدمے کا سامنا کریں گے اور انہیں یقین ہے کہ وہ اپنے مؤقف کو ثابت کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ وہ قانون اور عدالتوں پر مکمل اعتماد رکھتے ہیں اور تمام حقائق عدالت کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی آر میں عائد الزامات بے بنیاد ہیں اور وہ ان شاء اللہ خود کو بے گناہ ثابت کرکے سرخرو ہوں گے۔
واضح رہے کہ مقدمے میں فریقین کے مؤقف اور الزامات کے بارے میں حتمی تعین عدالت اور تفتیشی عمل کے ذریعے ہی ہوسکے گا۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *