افغانستان میں بندوق کے زور پر مسلط طالبان رجیم کے خلاف داخلی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ ساتھ اب دیار غیر میں بھی عوامی مزاحمت شدت اختیار کر گئی ہے۔ افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت برلن میں سینکڑوں افغان شہری طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ احتجاجی مظاہرے
افغانستان میں بندوق کے زور پر مسلط طالبان رجیم کے خلاف داخلی مزاحمتی تحریکوں کے ساتھ ساتھ اب دیار غیر میں بھی عوامی مزاحمت شدت اختیار کر گئی ہے۔
افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق جرمنی کے دارالحکومت برلن میں سینکڑوں افغان شہری طالبان رجیم کی جابرانہ پالیسیوں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔
احتجاجی مظاہرے میں خواتین سمیت مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے افغان باشندوں نے بھرپور شرکت کی اور”طالبان مردہ باد” کے نعرے لگائے۔
افغان مظاہرین نے طالبان رجیم کی جانب سے خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں پر شدید احتجاج کرتے ہوئے عالمی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔
افغان مظاہرین نے کہا کہ طالبان رجیم کی ناقص اقتصادی پالیسیوں کی وجہ سے افغانستان میں غربت اور بے روزگاری انتہا کو پہنچ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری اور یورپی ممالک طالبان رجیم کے ساتھ نرمی کی پالیسی چھوڑ کر ان پر فوری دباؤ بڑھائیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق طالبان رجیم کے خلاف اندرون اور بیرون ملک ابھرتی ہوئی مزاحمتی تحریکیں، افغان طالبان رجیم کے عوامی حمایت اور مکمل کنٹرول کے دعوؤں کی قلعی کھول رہی ہیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق افغانستان میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، ڈگمگاتی معیشت اور عالمی سفارتی تنہائی اس بات کا پیش خیمہ ہے کہ یہ رجیم جلد قصہ پارینہ بننے کے قریب ہے۔


















Leave a Comment
Your email address will not be published. Required fields are marked with *